آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے ٹی20 ورلڈ کپ سکواڈ میں ’خوش قسمت بابر‘ شامل اور حارث رؤف ٹیم سے باہر: ’بے خوف ہو کر کرکٹ کھیلنا ہو گی‘
بابر اعظم کی تو فارم اچھی نہیں چل رہی، عثمان خان بھی پرفارم نہیں کر پا رہے، اگر بابر کو رکھا ہے تو رضوان کو بھی ٹیم میں شامل کر لیتے، حارث رؤف کو کیوں ڈراپ کیا گیا، سری لنکا میں سارے میچز کھیلنے کا فائدہ ہو گا یہ نقصان؟
آئندہ ماہ انڈیا اور سری لنکا میں شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے 15 رُکنی سکواڈ کے اعلان کے وقت یہ وہ سوالات تھے، جن کا پاکستان کرکٹ ِٹیم کے کپتان سلمان علی آغا، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کو سامنا تھا۔
پاکستان کے 15 رُکنی سکواڈ میں ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ نافع، محمد نواز، سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان اور عثمان طارق شامل ہیں۔
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز سات فروری سے شروع ہو رہے ہیں، جو آٹھ مارچ تک جاری رہیں گے۔ پاکستان کا پہلا میچ نیدرلینڈز کے خلاف سات فروری کو ہے۔
گذشتہ روز بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی20 ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کی شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے اس معاملے پر بنگلہ دیش کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ میگا ایونٹ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کریں گے۔
ٹی20 ورلڈ کپ کی ٹیم سے حارث رؤف کو ڈراپ کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ’وہ کافی عرصے سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، لیکن کنڈیشنز دیکھ کر اُنھیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ’آسٹریلیا اور ایشیا میں کھیلی جانے والی کرکٹ کی کنڈیشنز میں بہت فرق ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گذشتہ برس ایشیا کپ کے دوران حارث رؤف کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے گئے تھے۔ خاص طور پر فائنل میں انڈیا کے خلاف اُنھوں نے تین اعشاریہ چار اوورز میں 50 رنز دیے تھے، جس کے بعد اُنھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
لیکن ورلڈ کپ سکواڈ کے اعلان سے پہلے بعض سابق کرکٹرز اور تجزیہ کار اُن کی رفتار اور ڈیتھ بولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھیں ٹیم میں شامل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن بعض کا خیال اس کے برعکس تھا۔
حارث رؤف آسٹریلیا میں جاری بگ بیش لیگ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
عاقب جاوید سے سوال ہوا کہ آپ ماڈرن ڈے کرکٹ کی بات کرتے ہیں، لیکن بابر اعظم کی بیٹنگ اس سے مطابقت نہیں رکھتی تو پھر اُنھیں ٹیم میں شامل کیوں گیا ہے؟ اس پر عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ’آپ کو کنڈیشنز کو ذہن میں رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو جانچنا ہوتا ہے، بابر اعظم سری لنکا کی کنڈیشنز میں اچھے ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں آپ کو زیادہ بڑے ہدف کا تعاقب نہیں کرنا پڑتا۔ وہ تکنیکی طور پر بہت مضبوط بلے باز ہیں۔‘
بابر اعظم کی بگ بیش میں ناقص کارکردگی کے باوجود ٹیم میں شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ بابر اعظم آسٹریلیا میں پرفارم نہیں کرسکے لیکن وہ پاکستان کی طرف سے اچھا کھیل رہے ہیں ہمارے لیے یہ اہم ہے۔
عثمان خان کو ٹیم میں شامل کرنے پر ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے پاکستان میں کھیلی جانے والی سہ فریقی سیریز کے آخری تین میچز میں اچھی بیٹنگ کر کے فتح دلوائی، جبکہ وہ بہت اچھی وکٹ کیپنگ بھی کر رہے ہیں۔
مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ عثمان خان نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں بھی بہت اچھی وکٹ کیپنگ کی تھی۔
’کولمبو میں سارے میچز کھیلنے کا فائدہ ہو گا‘
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو سری لنکا میں تمام میچز کھیلنے کا فائدہ ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح انڈیا نے چیمپئنز ٹرافی کے اپنے سارے میچز دبئی میں کھیلے تو اسے کنڈیشنز کا فائدہ ہوا۔ لیکن انڈیا نے اچھی کرکٹ کھیل کر ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کی۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ ’دیگر ٹیموں کو وہاں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے آنا پڑے گا تو اس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ لیکن بری کرکٹ کھیل کر نہیں جیت سکتے، انڈیا نے چیمپئنز ٹرافی میں اچھا کھیل کر جیتا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں کنڈیشن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے اسکور نہیں بنیں گے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سکواڈ کے اعلان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔ بابر اعظم کے مداح، اُن کی ٹیم میں واپسی پر خوش ہیں جبکہ اُن کے ناقدین اس فیصلے پر ٹیم انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
بعض صارفین حارث رؤف کو ڈراپ کرنے پر بھی اظہار خیال کر رہے ہیں۔
ڈینئل الیگزینڈر نامی صارف نے ایکس پر بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی پر لکھا کہ اُنھیں 152/0 والے کپتان کو ٹیم میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سفیان مقیم کو بھی ٹیم میں دیکھنا چاہتے تھے۔
ایک صارف نے بابر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ: ’بابر اعظم خوش قسمت کرکٹر ہیں، یہ 2026 ہے اور وہ 1990 کی دہائی کے بیٹنگ کا سٹائل ہونے کے باوجود ٹی20 ورلڈ کپ کھلیں گے۔‘
کے بی نامی صارف نے لکھا کہ یہ دیکھنے میں متوازن ٹیم لگتی ہے۔ ٹیم پاکستان کے لیے بیسٹ آف لک، لیکن اُنھیں بے خوف ہو کر کرکٹ کھیلنا ہو گی۔
گوہر نے لکھا کہ سفیان مقیم اور محمد وسیم جونیئر کو بھی ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔
ضیا رندھاوا نے ایکس پر لکھا کہ ہمارے پاس بہترین سپن آپشنز موجود ہیں، لیکن سارا دارومدار ہماری بلے بازی پر ہو گا۔ اگر بیٹنگ چل گئی تو پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنے کا اچھا موقع ہو گا۔
شیری نامی صارف نے لکھا کہ یہ پہلا موقع ہو گا جب حارث رؤف اپنے ڈیبیو کے بعد پاکستان کے لیے آئی سی سی ایونٹ نہیں کھیلیں گے۔
پاکستان کس گروپ میں شامل ہے؟
پاکستان کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ اے میں شامل ہے، جس میں دفاعی چیمپئن انڈیا، امریکہ، نیدرلینڈز اور نمیبیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔
پاکستان کی ٹیم اپنا پہلا میچ سات فروری کو کولمبو میں نیدر لینڈز کے خلاف کھیلے گی۔ پاکستان کا دوسرا میچ 10 فروری کو امریکہ کے خلاف ہو گا۔
پاکستان کا تیسرا میچ روایتی حریف انڈیا کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں ہی کھیلا جائے گا۔
پاکستان اپنا آخری پول میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلے گا۔