آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب کے کچّے کے علاقوں میں ’سرجیکل سٹرائیکس‘ اور ’ڈرون حملے‘: ’ڈاکوؤں نے موت سامنے دیکھ کر خود کو پولیس کے حوالے کیا‘
- مصنف, شیر علی خالطی
- عہدہ, صحافی
’زندگی میں پہلی بار ان سے خوف نہیں آرہا تھا بلکہ وہ ہم جیسے انسان لگ رہے تھے، انھوں نے دھلے ہوئے صاف شفاف کپڑے پہنے ہوئے تھے، کندھوں پر سندھی چادر اور سر پر بلوچی ٹوپیاں پہنی ہوئی تھیں۔‘
پاکستانی ٹی وی جیو نیوز کے نمائندے الیاس رضا بی بی سی اردو کو عطااللہ پٹ عمرانی، ڈاڈو بنگیانی عرف مچھ کٹا، گورا عمرانی اور وقار عرف وقاری سمیت کچّے کے ان ڈاکوؤں کے بارے میں بتا رہے تھے جنھوں نے حال ہی میں اپنے 41 ساتھیوں سمیت ڈی پی او راجن پور محمد عمران کے سامنے سرینڈر کیا ہے۔
یہ کچّے کے وہ ڈاکو ہیں جن کی سروں کی قیمت پنجاب حکومت نے ایک، ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
یہ افراد سندھ اور پنجاب کے کچّے کے علاقوں میں خوف کی ایک علامت سمجھے جاتے تھے اور ان پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، راہزنی اور دہشت گردی جیسی سینکڑوں وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
الیاس رضا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’کبھی ان ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ جن میں اینٹی ایئر کرافٹ گنز، ہیوی مشین گنز، سمال مشین گنز، جی تھری گنز اور کلاشنکوف جیسے ہتھیار ہوا کرتے تھے وہ آج امن کی باتیں کررہے تھے۔‘
’لوگوں کے اغوا کرنے والے ڈاکو حکومت پنجاب سے اپنے علاقوں کے لیے سکول اور ہسپتال مانگ رہے ہیں۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈاکوؤں کے سرینڈر پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ حکومت کے سیف پنجاب پروگرام کے تحت کچّے کے علاقے میں آپریشن کامیاب ہو گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ڈاکوؤں کی سرکوبی کے لیے پنجاب پولیس کو تھرمل ڈرونز، آرمرڈ پرسنل کیریئرز، بُلٹ پروف گاڑیاں اور ہر طرح کی مدد فراہم کی، جس کے بعد ملزمان کو مجبوراً سرینڈر کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ کچّے کے ان علاقوں میں وسائل مہیا کئے جائیں گے، سکول اور ہسپتال بنائے جائیں گے اور ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ کچے کے علاقوں کو تقریباً تمام ڈاکوؤں سے پاک کر دیا گیا ہے اور اب تک 148 ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں، جن میں ایسے ڈاکو بھی تھے جن کے سروں پر ایک، ایک کروڑ روپے کا انعام تھا۔
’ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا‘
پولیس حکام کچّے کے ڈاکوؤں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے عمل کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
راجن پور کے ڈی پی او محمد عمران کہتے ہیں کہ ابھی اس علاقے کے مزید ڈاکوؤں نے بھی سرینڈر کرنا ہے۔
دیگر افسران اس کامیابی کو متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کی مثال سمجھتے ہیں۔
رحیم یار خان کے ڈی پی او عرفان سموں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’اس بار کچّے کے علاقوں کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے سندھ رینجرز، سندھ پولیس، راجن پور پولیس اور رحیم یار خان پولیس نے مل کر ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔‘
’ماضی میں اگر پنجاب پولیس ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرتی تھی تو ڈاکو سندھ چلے جاتے تھے اور اگر سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہوتا تھا تو وہ پنجاب کی حدود میں چلے آتے تھے، یوں آپریشن مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتے تھے۔‘
ڈی پی او عرفان سموں مزید بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس بار ڈاکوؤں پر ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کیں اور ڈرونز کے ذریعے نہ صرف حملے کیے بلکہ بچ کربھاگنے والے ڈاکوؤں کا ’ڈرونز کے ذریعے پیچھا بھی کیا۔‘
پولیس افسر کہتے ہیں کہ ڈرونز کی مدد سے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور بنکرز کو تباہ کیا گیا اور انھیں وارننگ دی گئی کہ خود کو پولیس کے حوالے نہ کرنے کی صورت میں انھیں اس عمل کا خمیازہ بھگتا پڑے گا۔
’ڈاکوؤں نے موت کو سامنے دیکھ کر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔‘
بی بی سی نے ایک تقریب کے دوران جب پنجاب کے آئی جی عثمان انور سے ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے سے متعلق سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہمیں اجازت ملی ہم نے ڈاکوؤں پر ڈرون حملے کیے، ان کی نگرانی کی اور ان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے۔‘
ڈی پی او عرفان سموں کہتے ہیں کہ ان ڈاکوؤں کی سہولت کاری کرنے والے ’عام اور شریف لوگ‘ ہیں جو ان کے خوف میں مبتلا تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ پولیس کو اس آپریشن میں کامیابی کے لیے عوام کے اعتماد کی بھی ضرورت تھی کیونکہ ماضی میں ان ڈاکوؤں کے سبب ان کے قبائل کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انھوں نے اس بات کی وضاحت یوں کی کہ اگست 2024 میں ماچھکہ پولیس پر حملے میں 12 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اس واقعے کا مقدمہ 150 سے زیادہ افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا، جبکہ حملہ آور چند ہی تھے۔
’وہ بے گناہ لوگ ڈاکو نہ بنتے تو کیا کرتے پھر؟ ہم نے کمیونٹی کوبھی کہا کہ ڈاکوؤں سے بات چیت کریں، جس کا اچھا رہا۔‘
’ہم نے عام لوگوں کے دل جیت کر ڈاکوؤں کو سرینڈر کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ہم نے ان پر جھوٹی ایف آئی آرز ختم کر دی ہیں اور مزید بھی ختم کریں گے۔‘
ڈاکوؤں کو سرینڈر کرنے سے کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے راجن پور کے ڈی پی او نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’سرینڈر کی صورت میں ڈاکوؤں کو ایک بار پھر عام اور آزاد شہریوں کی طرح جینے کا موقع ملے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان ڈاکوؤں کے خلاف سرکاری مقدمات معاف کر دیے جائیں گے، تاہم انھیں عام شہریوں کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جب ان ڈاکوؤں کے سرینڈر کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو کئی صارفین نے سوال کیا کہ کچّے کے ڈاکو صرف پُرانا اسلحہ کیوں جمع کروا رہے ہیں اور جدید اسلحہ کہاں ہے؟
اس حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے راجن پور کے ڈی پی او نے بتایا کہ ’کچّے میں مجموعی طور پر تین اینٹی ایئر کرافٹ گنز تھیں، جن میں سے آپریشن کے دوران دو تباہ ہو گئیں جبکہ ایک سندھ کی طرف تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن کے بعد سمال مشین گننز بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے قبضے میں لی ہیں۔
پوسٹ آپریشن پالیسی
ماضی میں بھی کچّے کے علاقوں میں متحرک ڈاکوؤں کے خلاف نہ صرف آپریشن کیے گئے ہیں بلکہ متعدد ملزمان سرینڈر بھی کرتے رہے ہیں، لیکن ڈاکو ایک بار پھر منظرِ عام پر آ جاتے تھے۔
ڈی پی او راجن پور کہتے ہیں اس مرتبہ پولیس نے حکومت پنجاب کو باقاعدہ ’پوسٹ آپریشن پالیسی‘ بنا کر دی ہے، جس کے مطابق مقامی مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔
پولیس افسر کے مطابق ان کمیٹیوں میں ضلعی پولیس افسر، مقامی سردار، قبیلے کا سربراہ، امن کمیٹیوں کے اراکین اورمتعلقہ سول ایڈمنسٹریشن کے افسران شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی پالیسی کے تحت کچّے کے علاقوں میں سکول، سڑکیں اور ہسپتال بھی بنائے جائیں گے۔
بی بی سی کے پاس دستیاب پالیسی کے مجوزے کے مطابق پولیس نے ان علاقوں کے لیے 500 افراد پر مشتمل ایک نئی فورس بنانے کی بھی سفارش کی ہے۔
رحیم یار خان پولیس کی طرف سے آئی جی پنجاب کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت پنجاب کچے کے علاقے میں کچہ کمیونٹی فورس بنائے اور اس میں مقامی برادریوں سے افراد کو بھرتی کرے۔
مقامی سرداروں پر ڈاکوؤں کی پشت پناہی کا الزام
ماضی میں مقامی سرداروں پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
تاہم ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں کہتے ہیں کہ اس بار مقامی سردار پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جبکہ ڈی پی او راجن پور نے برملا کہا کہ سردار شمشیر مزاری، سردار خضر مزاری، سردار نثار خان کھڑد اورسردار حمیداللہ کھڑد نے ڈاکوؤں کا سرینڈر کروانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔
پنجاب پولیس کے اعلٰی افسران اور وزیر اعلی پنجاب نے ڈاکوؤں کو سرینڈر کروانے کے مرحلے میں سول اور فوجی انٹیلیجینس ایجنسیوں کے کردار کا بھی اعتراف کیا ہے۔
یہاں ایک سوال اور اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ان ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے سے کچّے کے علاقوں میں امن واپس آ گیا ہے؟
کچّے کے علاقے کے ایک رہائشی عبدالغفور نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کچّے کے علاقے میں اغوا برائے تاوان، قتل یا بھتے کے واقعات اب ختم ہو گئے ہیں۔
’اب رات کے ایک بجے بھی آپ سڑک پر جاسکتے ہیں، کہیں بھی کوئی ڈاکو نظر نہیں آتا۔ ہم امن کے لیے ترس گئے تھے اور آج امن قائم ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔‘
ایک اور شہری احمد کہتے ہیں کہ ’امن تو قائم ہو گیا ہے لیکن عام لوگوں کی جن زمینوں پہ ڈاکو ناجائز قابض تھے، وہ واگزرا کروائی جانے چاہییں۔‘
اس حوالے سے ایک سوال پر راجن پور کے ڈی پی او نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے مسائل بھی مستقبل قریب میں مرحلہ وار حل کر لیے جائیں گے۔