آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خواتین پر گھریلو تشدد: ’جب پتا چلا کہ داماد تین سال سے بیٹی پر تشدد کر رہا ہے تو پاؤں تلے زمین سرک گئی‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ دو روز سے ایک افسوسناک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک شخص اپنی اہلیہ کو بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا نظر آ رہا ہے۔
گھر میں لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں پر ریکارڈ ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شخص یہ تشدد اپنے انتہائی کم عمر بچوں کے سامنے کرتا ہے جو اپنی والدہ کو بچانے کے لیے ہاتھ اپنے سر پر اٹھاتے نظر تو آتے ہیں مگر بظاہر خوف اور ڈر کی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں پاتے۔
متاثرہ خاتون کے والد کے مطابق ابتدا میں پولیس ملزم کے خلاف کارروائی سے گریزاں تھی مگر جب وزیراعظم پورٹل پر اس کی شکایت کی گئی تو ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
پولیس کے مطابق تشدد کا یہ سلسلہ گذشتہ تین برس سے جاری تھا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ سے ہے۔
مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک وہ متاثرہ خاتون کا بیان ریکارڈ نہیں کر سکے کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شوہر کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کا ان کے ذہن پر کافی بُرا اثر پڑا ہے اور اس لیے وہ ایسی حالت میں نہیں ہے کہ وہ پولیس کو بیان ریکارڈ کروا سکیں۔
خاتون کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے سے قبل انھوں نے پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا مگر ملزم کا نام سن کر پولیس اہلکار کے ہاتھ رُک گئے تھے اور اس نے خاتون کے والد کو کہا ’میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔‘
ویڈیو میں کیا ہے؟
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے ہاتھ میں جوتا پکڑ رکھا اور وہ اپنی اہلیہ، جو کہ صوفے پر نیم بے ہوشی کے عالم میں بیٹھی ہیں، پر جوتے کی مدد سے تشدد کرتا ہے۔ اس کے بعد کے کلپ میں ملزم زمین پر پڑی اپنی اہلیہ کو بالوں سے پکڑ کر زمین پر گھسیٹ رہا ہے اور اسی دوران تین کم سن بچے وہاں موجود ہوتے ہیں جو بظاہر بہت زیادہ سہمے ہوئے ہیں اور دور دور ہی سے ہاتھ کے اشاروں سے اپنے والد کو رُکنے کی التجا کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باقی ویڈیو میں بھی بدترین تشدد کا یہ سلسلہ بچوں کی موجودگی میں جاری رہتا ہے۔
’جب پتا چلا کہ بیٹی پر تین سال سے تشدد ہو رہا ہے تو پاؤں تلے سے زمین سرک گئی‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے والد نے بتایا کہ اُن کی بیٹی کی آٹھ سال قبل ملزم سے شادی ہوئی تھی اور اُن کے تین بچے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ آخری مرتبہ اُن کی بیٹی پر شوہر نے تشدد اس لیے کیا کیونکہ اسے کھانا پسند نہیں آیا تھا اور اسی کی بنیاد پر ملزم نے خاتون کو رات ایک بجے کے قریب تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ والد کے مطابق یہ ویڈیو اُسی رات کی ہے۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے متاثرہ خاتون کے والد نے کہا کہ جب اُن کا داماد ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تھک گیا تو موقع کو غنیمت جان کر اُن کی بیٹی نے جان بچانے کی غرض سے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا۔
’میری بیٹی تین گھنٹے تک باتھ روم میں بند رہی اور اس دوران اس نے اپنی سہیلی سے رابطہ کیا، جو کچھ دیر کے بعد اس کے گھر پہنچ گئی۔ میری بیٹی کی حالت غیر ہونے کی وجہ سے اس کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا۔‘
والد کا کہنا ہے کہ اسی سہیلی نے انھیں فون کر کے آگاہ کیا اور جب وہ ہسپتال پہنچے تو ان کی بیٹی کی حالت تشویشناک تھی۔
وہ یہ بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور ان کا کہنا تھا کہ جب اُن کی بیٹی نے بتایا کہ اُس کا شوہر اسے تین سال سے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے تو انھیں اپنے پاؤں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی بیٹی کے بقول جب بھی اُن کا شوہر انھیں تشدد کا نشانہ بناتا تو اس کے بعد پستول اُن کی سر پر رکھ کر دھمکی دیتا کہ اگر اس نے اس بات کا ذکر اپنے والدین سے کیا تو وہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کو بھی قتل کر دیں گے۔
’میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ وہ ہماری (والدین کی) زندگی کو بچانے کے لیے یہ ظلم برداشت کرتی رہی۔۔۔ میری بیٹی ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور سوتے ہوئے اچانک اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے اور شور مچانا شروع کر دیتی ہے کہ میرے ماں باپ کو نہ مارنا۔‘
’پولیس نے کہا میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا رہتا ہے‘
متاثرہ خاتون کے والد کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا تھا۔ ’ملزم کے خلاف مقدمہ تو دور کی بات، پولیس اس واقعے کو روزنامچے میں انداراج کے لیے رپٹ بھی درج نہیں کر رہی تھی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب انھوں نے پولیس کو ملزم کی شناخت اور نام کے بارے میں بتایا تو ایک مرتبہ تو پولیس اہلکار کا قلم رک گیا اور اس نے کہا کہ ’میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا ہے لہذا ان معاملات کو تھانے میں نہیں لے کر آتے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ مقامی پولیس کے رویے کے باوجود وہ اس واقعے کی درخواست تھانے میں جمع کروا آئے تاہم کسی نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اس کے بارے میں وزیر اعظم پورٹل میں بھی درخواست دے دیں۔
اُن کے بقول انھوں نے ایسا ہی کیا جس پر وزیر اعظم پورٹل نے اِس کا نوٹس لیا اور گوجرانوالہ پولیس حکام کو اس واقعے پر قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی، جس کے بعد مقدمے کا اندراج اور ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی۔
’ایک طرف جہاں ایک پولیس کانسٹیبل اُن کی درخواست لینے کو تیار نہیں تھا تو وہیں وزیر اعطم سیکریٹریٹ کی طرف سے اس درخواست کا نوٹس لینے کے بعد گوجرانوالہ پولیس کے سربراہ نے انھیں فون کیا اور انھیں مطلع کیا کہ نہ صرف ان کی درخواست پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے بلکہ اس کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔‘
مقامی پولیس ایس ایچ او عدنان اعجاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مقدمے کے اندراج میں کسی لیت و لعل سے کام نہیں لیا بلکہ قانون کے مطابق اس کیس کو دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو آج مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں پر عدالت سے ملزم کا جسمانی ریمارنڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
ملزم کے والد کا کیا کہنا ہے؟
ملزم کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کی تحت کیا گیا ہے۔ ’میرا بیٹا وقوعے کی شب گہری نیند میں تھا کہ متاثرہ خاتون نے اسے زبردستی اٹھایا اور کہا کہ وہ اس کو خرچہ دے۔‘
والد کے بقول اُن کے بیٹے نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ خرچے کی بات صبح کر لینا اور یہ کہ اس وقت اس کو سونے دیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اس دوران تلخ کلامی ہوئی جس پر اُن کا بیٹا غصے میں آ گیا۔ ملزم کے والد کا کہنا تھا کہ ان حالات میں بھی اُن کے بیٹے کو اپنی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھنا چاہیے تھا۔
ملزم کے والد نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اُن کی بہو گھر سے جاتے ہوئے نقدی، سونا اور قیمی دستاویزات بھی ساتھ لے گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل:
اس واقعے کی ویڈیو گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور بیشتر افراد اسے دیکھ کر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بڑھنے کی وجوہات پر تبصرے کرنے کے ساتھ ملزم کو سزا دلوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جبکہ کچھ افراد اس حوالے سے قانون سازی اور سخت سزاؤں کی بات بھی کرتے نظر آئے۔
نائلہ ظہیر نے تبصرہ کیا: ہماری سوسائٹی کا یہ المیہ ہے کہ مرد جیسا بھی ہو اس کے ساتھ نبھانی پڑتی ہے۔ اگر عورت اپنے لیے آواز اٹھائے تو اسے آواره اور بدچلن کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ یہ کبھی بھی نہیں سوچا جاتا کہ وہ کن حالات سے گزر رہی ہے۔‘
عمر داؤد نے لکھا ’حوا کی بیٹی کی اتنی تذلیل۔ یہ انسان ہے یا جانور۔ کوئی کیسے اتنی بے رحمی سے اپنی ہی بیوی کے ساتھ مار پیٹ کر سکتا ہے؟ اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ کر بچوں کی کیا حالت ہو گی۔‘
عمیر رحیم نے اسے پاگل پن اور شرمناک قرار دیتے ہوئے لکھا: پتا نہیں کون سے مایوس لوگ ہوتے ہیں جو اپنا غصہ عورت پر ہاتھ اٹھا کر نکالتے ہیں۔‘
اُمِ اُمیمہ نے لکھا: عورت کو ظلم سہنا پڑتا ہے جب اسے بیک سپورٹ نہ ہو اور جب اس کے لیے ایک دن کی جگہ نہ ہو۔ وہ دنیا میں باہر نکل کر خود کو درندوں کے حوالے نہیں کر سکتی۔ بدلہ وہ تب لیتی ہے جب مضبوط ہوتی ہے۔ عورت کو چاہیے خود کو فائنینشلی مضبوط کرے۔ میکے والے اکثر بچوں سمیت واپس قبول نہیں کرتے۔‘
قانون سازی اور سخت سزاؤں کے حوالے سے ریاض خان نے لکھا ’قانون نہیں ہے، اگر قانون ہو تو کسی کی جرات نہ ہو ایسا کرنے کی۔ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینی چاہیے اور عورتوں کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین سے ایسی باتیں نہ چھپائیں۔ ظُلم سہنا بھی غلط ہے۔‘