وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے انڈیا میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ معاملہ سنگین معلوم ہوسکتا ہے اور اس بارے میں بہت سی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ نے خصوصاً ایشیا کے بعض حصوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے بعد کچھ ممالک نے ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ کورونا وائرس کے مقابلے میں بہت کم پھیلنے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن کہیں زیادہ مہلک ہے۔
کورونا وائرس کے مقابلے، جس سے 100 میں سے ایک یا دو افراد کی موت ہوتی ہے، نیپاہ وائرس کے انفیکشن سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان میں 30-40 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ کی خبروں کے بعد تھائی لینڈ نے ان تین ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سکریننگ شروع کر دی ہے جہاں مغربی بنگال سے پروازیں آتی ہیں۔
نیپال نے بھی کٹھمنڈو ہوائی اڈے اورانڈیا کے ساتھ دیگر زمینی سرحدی مقامات پر آنے والوں پر کڑی نگاہ رکھنا شروع کر دی ہے۔
دسمبر سے اب تک مغربی بنگال میں دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جو مبینہ طور پر طبی عملے میں سامنے آئے ہیں۔
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق ان مریضوں کے رابطے میں آنے والے 196 افراد کا پتہ لگایا گیا اور ان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات بہت زیادہ ہے کیونکہ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین یا دوا موجود نہیں ہے۔
نیپاہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، نیپاہ وائرس (NiV) ایک تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے جو جانوروں اور انسانوں میں شدید بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
یہ وائرس 1998 میں سب سے پہلے ملائیشیا کے ایک قصبے نیپاہ میں سؤروں میں پایا گیا تھا اور وہیں سے اس کا نام نیپاہ پڑ گیا۔
نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔
اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔
نیپاہ وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہے گی۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق، نپیا وائرس کا انفیکشن انسیفلائٹس سے وابستہ ہے، جو دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
نیپاہ وائرس کی پچھلی وبائیں
نیپاہ وائرس کی پہلی شناخت شدہ وبا 1998 میں ملیشیا میں سور پالنے والے کسانوں کے درمیان ہوئی، جو بعد میں پڑوسی ملک سنگاپور تک پھیل گئی۔ اس وائرس کا نام اس گاؤں سے لیا گیا جہاں یہ سب سے پہلے دریافت ہوا تھا۔
اس وبا میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے 10 لاکھ سوروں کو مارا گیا۔ اس کے نتیجے میں کسانوں اور مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 2001 سے اب تک 100 سے زائد افراد نیپاہ وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ وائرس انڈیا میں بھی پایا گیا ہے۔ مغربی بنگال میں 2001 اور 2007 میں اس کی وبائیں رپورٹ ہوئیں۔
حالیہ عرصے میں جنوبی ریاست کیرالہ نیپاہ وائرس کا ایک بڑا مرکز رہی ہے جہاں 2018 میں 19 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 17 افراد ہلاک ہوئے؛ اور 2023 میں چھ تصدیق شدہ کیسز میں سے دو بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔
وزیر اطلاعات نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار سپورٹس جرنلسٹ سلیم خلیق کی اس ٹوئٹ کے جواب میں کیا ہے جس میں سلیم حلیق نے نیپاہ وائرس کی موجودگی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے متاثر ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
سلیم خلیق کے مطابق ’انڈیا میں ایک نیا وائرس سامنے آیا ہے جس کے حوالے سے دنیا بھر میں خوف کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ٹی 20 ورلڈ کپ بھی متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ غیر ملکی کرکٹرز انڈیا کا سفر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔‘
سلیم خلیق نے لکھا کہ چونکہ سری لنکا بھی شریک میزبان ہے اس لیے آئی سی سی کچھ میچز وہاں منتقل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔