آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا یورپ معاہدہ، برطانوی وزیراعظم کا دورہِ چین اور ’ٹرمپ کے خلاف بڑھتی عالمی مزاحمت‘
- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, دلی
انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ صرف دو طاقتوں کے درمیان کاروباری تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمی سیاست سے بھی ہے۔
یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان تجارت 2024 میں 142 ارب ڈالر سے زیادہ کی تھی اور یہ اعداد و شمار متاثرکن بھی ہیں اور مضبوط تعلق کی نشانی بھی لیکن اس کے باوجود تجارتی مزاکرات دو دہائیوں سے مکمل نہیں ہو پا رہے تھے۔
اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب کیا چیز بدلی؟ اس کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے فیصلوں سے جڑی غیریقینی اور ان سے پیدا ہونے والا عالمی منظر نامہ ہے جو تیزی سے بدل رہا ہے۔
ٹرمپ نے تجارتی محصولات کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا ہے لیکن اکثر انھوں نے اکثر اتحادیوں کو اس حکمت عملی سے سزا بھی دی جو ان کی سوچ سے اتفاق نہیں کرتے۔ امریکہ نے انڈین درآمدات پر بھی 50 فیصد محصولات عائد کر دہے تھے جن میں 25 فیصد روس سے تیل کی خریداری نہ روکنے کا جرمانہ تھا۔
چند یورپی ممالک نے بھی حال ہی میں اس وقت محصولات کی دھمکیوں کا سامنا کیا جب انھوں نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی خواہش پر حامی نہیں بھری۔ ٹرمپ اپنی دھمکی سے بعد میں پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو جھٹکا لگ چکا تھا۔
اسی وجہ سے موجودہ صوررت حال میں یورپی یونین اور انڈیا ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک عالمی غیر یقینی سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے سے معاہدے کر رہے ہیں۔
سر کیئر سٹامر سنہ 2018 کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں جو اپنے ساتھ مختلف کاروباری حلقوں کے نمائندے بھی ساتھ لے جا رہے ہیں۔ برطانیہ بھی چین سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور سر کیئر سٹامر نے دورے سے قبل کہا کہ ’چین برطانیہ کے لیے اہم ہے۔ دنیا کے بڑے معاشی کھلاڑی کی حیثیت سے چین کے ساتھ سٹریٹیجک اور تسلسل کا تعلق ہمارے قومی مفاد میں ہے۔‘
ادھر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی، جنھوں نے حال ہی میں عالمی منظر نامے میں بڑی تبدیلی کے بارے میں خبردار کیا تھا، چین کا دورہ کر کے لوٹے ہیں جس کے بعد ٹرمپ نے انھیں 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں یورپی یونین نے لاطینی امریکی ممالک کے بلاک کے ساتھ بھی 25 سالہ مذاکرات کے بعد تجارتی معاہدہ طے کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میں بھی ٹرمپ کا کردار تھا۔
ایسے میں انڈیا اور یورپی یونین کا معاہدہ مذید اہم ہو جاتا ہے کیوں کہ اس سے ٹرمپ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ عالمی طاقتیں ان کی انتظامیہ کے خلاف اکھٹی ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مائیکل کوگلمین اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا امور کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا اور یورپ ایسے امریکی ٹیرف کا سامنا کر رہے ہیں جو غیرمتوقع تھے اور کہا جا سکتا ہے کہ اسی وجہ سے یہ معاہدہ ہوا۔‘ ان کے مطابق اسی وجہ سے انڈیا اور یورپی یونین نے بہت سے ایسے معاملات جو حل نہیں ہو پا رہے تھے ایک جانب رکھ دیے۔
شاید انڈیا اور یورپی یونین کے سربراہان کا ارادہ اس ڈیل کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کو غصہ دلانا نہ ہو لیکن ہوا کچھ ایسا ہی ہے۔ امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بسنٹ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے حال ہی میں کہا تھا کہ ’یورپ انڈیا سے معاہدہ کر کے اپنے خلاف جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے۔‘
ان کا اشارہ انڈیا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کی طرف تھا جس پر امریکی حکام کی رائے ہے کہ یہ یوکرین میں ہونے والی جنگ کو پیسہ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ روسی تیل ملکی آبادی کی ضروریات کے لیے اہم ہے۔
انڈیا اور روس کا دیرینہ تعلق بھی ایک وجہ ہے کہ دلی مکمل طور پر ماسکو سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کے حق میں نہیں۔ انڈیا عرصہ دراز سے فوجی سازوسامان کے لیے روس پر انحصات کرتا رہا ہے لیکن یورپ سے ہونے والا معاہدہ دلی کو اس شعبے میں مذید مدد فراہم کرے گا۔
انڈیا سے معاہدہ یورپ کو بھی ایک بڑی منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے اور چین پر انحصار کو کم کرنے میں مددگار ہو گا۔ مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ انڈیا بھی اس معاہدے کو عالمی تجارتی منڈی میں چین کی برتری کے خلاف ایک اتحاد کے طور پر دیکھے گا۔
تاہم یاد رہے کہ پس منظر میں انڈیا اور یورپ دونوں کو ہی ابھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔ اس معاہدے پر دستخط ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ قانونی ماہرین معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کریں گے اور پھر اسے یورپی پارلیمان سمیت تمام یورپی ممالک کی جانب سے منظور کیا جائے گا جو ماہرین کے مطابق آسان نہیں ہو گا۔ کچھ ایسا ہی لاطینی امریکی بلاک سے ہونے والے معاہدے کے ساتھ بھی ہوا جسے ابھی تک قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔
مارک لنسکاٹ، جو امریکہ انڈیا سٹریٹیجک اتحاد میں تجارت پر سینئر مشیر ہیں، نے لنکڈان پر لکھا کہ ’بہت سے معاملات حل طلب ہیں جن میں زراعت بھی شامل ہے۔‘
البانی یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کرسٹوفر کلیری لکھتے ہیں کہ ’یہ تجارتی معاہدہ ایک یاد دہانی ہے کہ دوسرے ممالک کے پاس آپشنز ہیں۔ اگر امریکہ اقتصادی غلبے کی بنیاد پر ٹیرف پالیسی بناتا ہے اور اس کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا دباؤ بے سود ہو گا۔ امریکہ کے خلاف عالمی مزاحمت بڑھ رہی ہے۔‘
دہلی میں قائم گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کے اجے سریواستو کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ ملکی سیاست اور لین دین کے تعلقات پر ہے، جس سے تعاون کی روایتی تعریفیں کمزور ہو گئی ہیں۔ انڈیا امریکہ کے ساتھ اپنی سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں ضرورت سے زیادہ انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
اجے سریواستو کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ پاکستان، چین اور روس جیسے ممالک کے بارے میں ان کا موقف بار بار تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اس سے انڈیا کے لیے طویل مدتی حکمت عملی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا امریکی ٹیرف کے اثر کو کم کرنے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی ایف ٹی اے کر رہا ہے۔ اس سے قبل انڈیا نے عمان، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط کیے ہیں۔