آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’آمدن کا 48 فیصد حصہ‘ سکیورٹی امور پر خرچ کرنے والی افغان طالبان حکومت کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے؟
ورلڈ بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے مالی سال 2025 کے پہلے نو ماہ میں جمع کیے گئے 200 ارب افغانی میں سے تقریباً 96.6 ارب (15 لاکھ ڈالر) سکیورٹی امور پر خرچ کیے، جو تمام ملکی اخراجات کا تقریباً 48 فیصد بنتا ہے۔
افغانستان کی اقتصادی صورتحال سے متعلق یہ رپورٹ گزشتہ سال دسمبر میں تیار کی گئی تھی اور حال ہی میں شائع ہوئی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترقیاتی اخراجات 15.7 ارب افغانی تک پہنچ گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 51.7 فیصد زیادہ ہیں۔
ورلڈ بینک نے طالبان حکومت کے بجٹ اخراجات کی وضاحت کرتے ہوئے دیکھا کہ کل محصولات کا 106 ارب افغانی (52.2 فیصد) سول سیکٹر اور مختلف خدمات کے لیے مختص کیا گیا تھا۔
ایجنسی کے مطابق طالبان حکومت نے مالی سال 2025 کے پہلے نو ماہ میں 202.9 ارب افغانی خرچ کیے، 200.9 ارب افغانی کے محصولات کے مقابلے میں 2 ارب افغانی کا بجٹ خسارہ تھا۔
بی بی سی نے اس رپورٹ کے حوالے سے طالبان حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال جواب نہیں آیا۔
یہ آمدن کہاں خرچ ہو رہی ہے؟
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025 کے پہلے نو ماہ میں طالبان حکومت نے 202.9 ارب افغانیوں میں سے 114.8 ارب تنخواہوں پر خرچ کیے جبکہ مختلف سامان اور سروسز پر 42.5 ارب خرچ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17.7 ارب افغانی سبسڈی اور امداد کے لیے مختص کیے گئے، جن میں پڑوسی ممالک سے واپس آنے والے مہاجرین، زلزلہ زدگان، جنگ میں ہلاک ہونے والوں اور معذور افراد کے اہلخانہ اور پینشن کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان حکومت کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟
عالمی بینک کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مالی سال 2025 کے پہلے نو ماہ میں طالبان حکومت کی کل آمدن 200.9 ارب افغانی تھی جو مجموعی ملکی پیداوار کے 13 فیصد کے برابر ہے اور گزشتہ کابل حکومت کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکسز کے ذریعے 80.9 ارب افغانی جمع کیے گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22.2 فیصد زیادہ ہے۔
52.1 ارب افغانی کسٹمز ریونیو سے بھی جمع ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.6 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے کے دوران طالبان حکومت کا نان ٹیکس ریونیو 67.4 ارب افغانی تھا جو پچھلے سال کے مقابلے میں 10.5 فیصد زیادہ ہے۔
اس میں ٹرانسپورٹ ٹیکس، پاسپورٹ فیس، ہوائی سفر، ریلوے اور ٹیلی کمیونیکیشن کی آمدن شامل ہیں۔
پاکستان کے ساتھ تنازع سے معیشت متاثر
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی اور پاکستان کے ساتھ سرحد کی طویل مدت تک بندش نے افغانستان کی معیشت پر دباؤ ڈالا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محدود اقتصادی ترقی اور مہنگائی کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی محصولات میں اضافہ ہوا تاہم کم سرمایہ کاری نے پیداواری صلاحیت میں اضافے کو روکا۔
عالمی بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ مالی سال 2025 میں فی کس مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً 4 فیصد کی کمی ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں غربت وسیع پیمانے پر رہے گی۔
ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش سے افغان تجارت میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے بجائے ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے اثرات کو کم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے مقابلے دسمبر میں تجارتی خسارہ 1.02 ارب ڈالر تھا اور اس کی بڑی وجہ افغانستان کی بیرون ملک برآمدات میں نمایاں کمی، نقل و حمل کے زیادہ اخراجات اور متبادل راستوں پر لاجسٹک تاخیر تھی۔
افغانستان کے ساتھ کون سے ممالک تجارت کرتے ہیں؟
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ایران کی افغانستان کے ساتھ سب سے زیادہ تجارت ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 2025 میں کابل نے اپنی 30.3 فیصد اشیا ایران سے درآمد کیں، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 18.5 فیصد، پاکستان سے 8.9 فیصد اور چین سے 8.3 فیصد اشیا درآمد ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی ملکی آمدن دسمبر 2025 میں 24.1 ارب افغانی تک پہنچ گئی جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں 2.9 فیصد اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے ساتھ مشرقی اور جنوبی افغانستان کے راستوں کی بندش کے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیکس وصولی میں بہتری اور متبادل تجارتی راستوں سے یہ مسئلہ ختم ہوا۔