آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
استنبول میں غیر ملکی خاتون کا قتل: کوڑے دان میں لاش کے ٹکڑے ملنے کے بعد پولیس مبینہ قاتلوں تک کیسے پہنچی؟
ترکی کے شہر استنبول کے علاقے شیشلی میں کچرے کے ایک ڈھیر سے ایک خاتون کی لاش کے ٹکڑے ملنے کے بعد ہلچل سی مچ گئی تھی اور لوگ سڑکوں احتجاج کرنے نکل آئے تھے۔
ترک میڈیا کے مطابق خاتون کی لاش کی حالت ابتر تھی اور اس کے ٹکڑے کیے گئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی ڈی ایچ اے کی ایک خبر کے مطابق خاتون کے جسم کی باقیات ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی تھیں۔
تفتیش کاروں کو فوری طور پر خاتون کا سر اور ٹانگیں نہیں ملیں۔ تاہم مقتولہ کی شناخت 37 سالہ ازبکستان کی شہری دردونا خوکیمووا کے نام سے ہوئی تھی۔
ان کی لاش کو ٹکڑوں میں بانٹ کر استنبول کے ایک کچرے کے کنٹینر میں پھینکا گیا تھا۔
پولیس قاتلوں تک کیسے پہنچی؟
یہ واقعہ 24 جنوری کو اس وقت منظرِ عام آیا جب ایک کچرا چُننے والے شخص نے کوڑے دان میں ایک لاش دیکھی اور پھر فوراً اس کی اطلاع پولیس کو دی۔
پولیس حکام نے سکیورٹی کیمرے کی لگ بھگ آٹھ گھنٹے کی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد تین مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے دو ازبک شہری تھے۔
سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے کے دوران، انھیں دو افراد نظر آئے جو شہر میں موجود ایک اور کچرے کے ڈھیر پر ایک سوٹ کیس چھوڑ رہے تھے۔ تاہم اس میں یہ واضح نہیں تھا کہ سوٹ کیس کے اندر کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مشتبہ گرفتار ملزمان میں 31 اور 29 سالہ افراد کو جارجیا فرار ہونے کی کوشش کے دوران استنبول ایئرپورٹ پر پکڑا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران ایک 58 سالہ ترک شہری کو بھی حراست میں لیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 37 سالہ مقتولہ خوکیمووا استنبول میں شکار کے سامان کی دکان چلاتی تھیں۔
ملزمان نے اپنے بیانات میں کیا کہا؟
گرفتار ملزمان میں سے ایک نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے خوکیمووا کے ساتھ تعلقات تھے اور انھیں ایک جھگڑے کے بعد قتل کیا گیا۔
انھوں نے پولیس کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کام میں میں ان کے دوسرے گرفتار دوست نے بھی مدد کی اور وہ لاش کو ایک سوٹ کیس میں رکھ کر ٹیکسی کے ذریعے شیشلی کے علاقے میں لے کر آئے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں مشتبہ افراد کو مختلف سائز کے کئی سوٹ کیسز کے ساتھ گھر سے نکلتے اور گلیوں میں گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک منظر میں وہ ایک بیگ کو کوڑے دان میں پھینکتے ہوئے اور پھر دوسرے میں سوٹ کیس کے ساتھ تیزی سے چلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اس کیس کی تحقیقات پبلک سیکورٹی برانچ ڈائریکٹوریٹ کا ہومیسائیڈ بیورو کر رہا ہے۔
استنبول اور انقرہ میں احتجاج
خوکیمووا کے قتل کے خلاف استنبول اور انقرہ میں احتجاج بھی کیا گیا۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس قتل پر غم و غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔
خواتین کے خلاف نفرت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر احتجاج کرتے ہوئے ترکی میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں خواتین کے قتل کے خلاف موثر اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اس سلسلے میں 25 جنوری کو شام 4 بجے انقرہ میں احتجاجی مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ترکی سرکاری طور پر خواتین کے قتل کے واقعات سے متعلق اعداد و شمار شائع نہیں کرتا۔
لہٰذا، خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیمیں پریس رپورٹس کی بنیاد پر خواتین کے قتل اور مشتبہ اموات کے اعداد و شمار جمع کرتی ہیں۔
'وی سٹاپ فیمیسائیڈ' نامی تنظیم کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک میں 294 خواتین کو قتل کیا گیا اور 297 خواتین مشتبہ حالات میں ہلاک ہوئیں۔
تنظیم کی پریس ریلیز میں ایسی ہی ایک مقتولہ کو یاد کیا گیا، جسے 3 مارچ 2009 کو اسی طرح قتل کر کے کچرے کے کنٹینر میں پھینک دیا گیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ فیمیسائیڈز (خواتین) کو نظر انداز کرنے، ریاست کی جانب سے ان کا ریکارڈ نہ رکھنے، اور فیمیسائڈز کو روکنے کی پالیسی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ سزاؤں اور نظام انصاف کا اثر ختم ہو گیا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ تارکینِ وطن خواتین اکثر ملک بدری کے خوف سے تھانوں میں رپورٹ کرنے سے کتراتی ہیں۔
ہم ترک حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں: ازبکستان کی وزارت خارجہ
دُردونا خوکیمووا کے قتل نے ان کے آبائی ملک ازبکستان میں بھی ہلچل مچا دی تھی۔
ازبکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان احرور برخانوف نے قتل پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ انھوں نے خوکیمووا کے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ قونصلیٹ جنرل کی طرف سے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں، فرانزک طبی معائنے کے مرکز اور پراسیکیوٹر آفس کے تعاون سے کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں مقتولہ کی شناخت جمہوریہ ازبکستان کی شہری دردونا خوکیمووا کے طور پر کی گئی۔
قونصلیٹ جنرل کے سفارت کاروں نے مقتولہ کے اہل خانہ سے رابطہ قائم کیا ہے اور انھیں مناسب قونصلر اور قانونی مدد فراہم کر رہے ہیں۔