آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کے سب سے سینیئر فوجی جنرل کی غیرمعمولی برطرفی، ’بغاوت کی افواہیں‘ اور بیجنگ کی جنگی صلاحیت پر اٹھتے سوالات
- مصنف, سٹیفن میکڈونل
- عہدہ, نامہ نگار، چین
پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) میں سینیئر قیادت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
گذشتہ ہفتے کے آخر میں چین کے اعلیٰ ترین جنرل زانگ یوشیا اور ایک اور سینیئر فوجی افسر جنرل لیو زینلی کو ان کے عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ملک کی اشرافیہ میں طاقت کی کشمکش کیوں شروع ہوئی۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چین کی جنگی صلاحیت کے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا۔
75 برس کے زانگ چینی سینٹرل ملٹری کمیشن (سی ایم سی) کے وائس چیئرمین تھے۔ چینی صدر شی جن پنگ سی ایم سی کے سربراہ ہیں اور یہ ادارہ ملک کی مسلح افواج کو کنٹرول کرتا ہے۔
سی ایم سی میں عام طور پر سات افراد شامل ہوتے ہیں تاہم اس وقت صرف دو لوگ ہی اس کا حصہ ہیں یعنی چین کے صدر شی جن پنگ اور جنرل زانگ شینگمین۔
اس کے علاوہ باقی سب کو ’اینٹی کرپشن‘ کے کریک ڈاؤن کے بعد ہٹا دیا گیا۔
سی ایم سی لاکھوں فوجی اہلکاروں کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ ادارہ اتنا طاقتور ہے کہ اس کا چیئرمین ہونا وہ واحد عہدہ تھا جس پر چین کے مطلق العنان حکمران ڈینگ شیئو پنگ براجمان رہے۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے لائل مورس کہتے ہیں کہ ’سی ایم سی میں صرف شی اور ایک جنرل کا باقی رہ جانا ایک ایسی چیز ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پی ایل اے افراتفری کا شکار ہے اور چین کی فوج میں اب قیادت کا خلا پایا جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اتنے سینیئر جنرلز کو گھر بھیجنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں لائل مورس کہتے ہیں کہ ’اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے تاہم یہ یقینی طور پر شی جن پنگ، ان کی قیادت اور پیپلز لبریشن آرمی کے لیے برا ہے۔‘
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر چونگ جا لین کا بھی کہنا ہے کہ انھیں اس کی وجہ تو معلوم نہیں تاہم اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’امریکہ کو جوہری راز افشا کرنے سے لے کر بغاوت کی سازش تک، حتیٰ کہ بیجنگ میں مسلح لڑائی کی بھی افواہیں ہیں۔‘
’لیکن ان قیاس آرائیوں کے باوجود دو چیزیں واضح ہیں: ایک تو یہ کہ شی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا جبکہ بیجنگ میں معلومات تک رسائی کی واضح حدیں ہیں، جس سے غیر یقینی اور قیاس آرائیاں جنم لیتی ہیں۔‘
سرکاری اعلان کے مطابق زانگ اور لیو کے خلاف ’تحقیقات‘ ہو رہی تھیں اور ان پر ’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا الزام تھا، جو کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں۔
اس کے بعد پی ایل اے ڈیلی نے اپنے ایک اداریے میں یہ واضح کیا کہ یہ اقدام کمیونسٹ پارٹی میں کرپشن پر سزا دینے کی ’زیرو ٹالرینس‘ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
ان تمام جرنیلوں پر عائد الزامات کی تفصیلات کو عوامی سطح پر سامنے تو نہیں لایا گیا اور نہ ہی کبھی ایسا ہو گا تاہم ان کے نام زیر تفتیش ہونا ظاہر کرتا ہے کہ انھیں کم سے کم بھی یہ سزا دی جائے گی کہ انھیں ریاستی حراست میں رکھا جائے گا۔
پی ایل اے ڈیلی کے اداریے میں پہلے ہی زانگ اور لیو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا جا رہا تھا کہ انھوں نے ’کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اعتماد اور توقعات کو دھوکہ دیا‘ اور ’سینٹرل ملٹری کمیشن کو کمزور کیا۔‘
ہو سکتا ہے کہ ان جرنیلوں کو کرپشن کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا گیا ہو لیکن ایسا چین میں طاقت کے گرد گھومتی سیاست کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
جب شی جن پنگ اقتدار میں آئے تو چین کو یقینی طور پر کرپشن کا مسئلہ درپیش تھا لیکن ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے انسداد بدعنوانی مہم کو اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف بھی استعمال کیا۔
اس سے شی جن پنگ کو وہ کنٹرول ملا جو چیئرمین ماؤ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں تھا۔
لیکن اس قسم کی قیادت کے نتائج خوفناک بھی ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر فوج میں شک کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے اور یہاں تک فیصلہ سازی کا عمل بھی کمزور ہو سکتا ہے۔
زانگ کے والد شی جن پنگ کے والد کے انقلابی کامریڈ تھے۔ جنرل زانگ کو شی جن پنگ کے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ہونے والی پیشرفت سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔
اس کے علاوہ زانگ کا شمار پی ایل اے کے ان چند افسران میں ہوتا تھا جن کے پاس جنگی تجربہ تھا۔
مورس کے مطابق جنرل زانگ کی برطرفی شی جن پنگ کے لیے طویل مدتی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’شی شاید اپنی طاقت ظاہر کرنا چاہتے ہوں لیکن یہ ہلچل تصادم کو ظاہر کرتی ہے۔‘
’یہ یقینی طور پر شی کے لیے برا ہے اور اس کا پی ایل اے اور اس کے رہنماوں پر آنے والے برسوں میں اثر پڑے گا۔‘
سینیئر ترین جرنیلوں کی برطرفی کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اب ان عہدوں پر فائز ہونے والے کون ہوں گے؟
اپنے سے پہلے آنے والوں کی قسمت کو دیکھتے ہوئے شاید وہ بھی اس خطرناک زون میں اپنی ترقی کا خیرمقدم نہیں کر سکتے جہاں وہ کبھی بھی شی کی اینٹی کرپشن مہم کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب بیجنگ تائیوان پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور اس خودمختار جزیرے پر قبضے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان برطرفیوں سے یہ امکان کتنا متاثر ہوا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کا بیجنگ کے عزائم پر بہت کم اثر پڑے گا۔
چونگ کہتے ہیں کہ ان برطرفیوں کا چین کے تائیوان پر قبضہ کرنے کے عزائم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم اس کا اثر سی سی پی اور بالخصوس شی جن پنگ پر ہو گا۔
چونگ کے مطابق یہ برطرفیاں آپریشنل فیصلے ہیں لیکن تائیوان پر قبضے کے حوالے سے تمام فیصلے شی کی ترجیحات پر ہی مرکوز ہوں گے۔