آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شی جن پنگ: گمنامی سے چین کے طاقتور ترین لیڈر بننے والے رہنما جن کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں
چینی صدر شی جن پنگ 20ویں کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں تیسری مرتبہ غیر معمولی انداز سے اپنی مدت کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی شی جن پنگ کے تاحیات اس عہدے پر رہنے کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ چین کے رہنماؤں نے 2018 میں صرف دو بار عہدے پر رہنے کی حد کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ اصول 1990 کی دہائی سے نافذ تھا۔
شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالا۔ ان کے دور حکومت میں چین آمرانہ حکمرانی کی طرف بڑھا اور ناقدین، بااثر ارب پتیوں اور صنعت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔
کچھ لوگ ان کو چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بانی اور سابق حکمران چیئرمین ماؤ سے بھی زیادہ آمرانہ سوچ کا حامل سمجھتے ہیں۔
ان کے دور حکومت میں چین نے سنکیانگ میں ’ری ایجوکیشن‘ کیمپ قائم کیے جن پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔
چین نے ہانگ کانگ پر اپنی گرفت مضبوط کی اور ضرورت پڑنے پر تائیوان تنازعے کو ’طاقت کے ذریعے‘ دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
ان کے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے، کمیونسٹ پارٹی نے 2017 میں آئین میں ’شی جن پنگ کے خیالات‘ شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے پہلے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بانی ماؤ اور 1980 کی دہائی میں ڈینگ شیاؤپنگ کے نظریات شامل کیے گئے تھے۔
شہزادہ جو گمنامی سے صدر کے عہدے تک پہنچا
شی جن پنگ 1953 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، ژی ژونگکسن، ایک انقلابی اور کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ وہ چین کے نائب وزیر اعظم بھی رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا خاندانی پس منظر اتنا شاندار تھا کہ شی جن پنگ کے ساتھ ہمیشہ شہزادے جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن ان کے خاندان کے حالات نے اس وقت ڈرامائی موڑ لیا جب ان کے والد کو 1962 میں قید کر دیا گیا۔
ماؤ کو اپنی پارٹی کے لیڈروں پر شدید شک تھا، خاص کر ان لوگوں پر جو ان کے حریف تھے۔ ماؤ نے ایسے لیڈروں کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا۔
اس کے بعد 1966 کے ثقافتی انقلاب کے دوران لاکھوں لوگوں کو چینی ثقافت کا دشمن کہا گیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔
ان واقعات نے شی جن پنگ کے خاندان کو بھی متاثر کیا۔ چند رپورٹس کے مطابق ان کی سوتیلی بہن کو قتل کر دیا گیا تھا۔ تاہم نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پارٹی کے اعلیٰ طبقے سے واقف ایک مورخ نے کہا کہ انھوں نے دباؤ میں آ کر خود اپنی جان لے لی تھی۔
شی جن پنگ کو اس سکول سے بھی نکال دیا گیا جہاں اعلیٰ سیاستدانوں کے بچے پڑھتے تھے۔ بعد میں انھوں نے 15 سال کی عمر میں بیجنگ چھوڑ دیا۔
ان کو ملک کے شمال مشرق میں غربت زدہ لیانگ جیاہ بھیجا گیا تھا۔ یہاں وہ سات سال رہے۔
لیکن کمیونسٹ پارٹی سے نفرت کرنے کی بجائے انھوں نے کئی بار پارٹی میں شامل ہونے کی کوشش کی جو والد کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئی۔
آخر کار ان کو 1974 میں ہیبی صوبے میں پارٹی میں جگہ مل گئی۔ وہاں سے شروع ہونے والے سفر کے بعد انھیں سینئر کردار ملتے رہے۔
1989 میں، 35 سال کی عمر میں، وہ جنوبی فوجیان صوبے کے شہر ننگدے میں پارٹی کے سربراہ تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب بیجنگ کے تیان مین چوک پر سیاسی آزادی کے مطالبے کے لیے مظاہرے ہو رہے تھے۔
اگرچہ یہ صوبہ دارالحکومت بیجنگ سے بہت دور تھا لیکن شی جن پنگ نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر مقامی مظاہروں کو کنٹرول کرنے اور دبانے کی کوششیں کیں۔
کمیونسٹ پارٹی نے اس خونریز کشمکش کو ملک کے سرکاری ریکارڈ اور تاریخ کی کتابوں سے مٹا دیا۔ تیان مین چوک پر خونی تنازعے کی وجہ سے چین 2000 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی سے محروم ہو گیا۔ اس واقعے میں ایک اندازے کے مطابق کئی ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
تقریباً دو دہائیوں کے بعد، شی جن پنگ بیجنگ میں 2008 کے اولمپکس کے انچارج بنے۔ چین دنیا کو یہ دکھانے کے لیے بے چین تھا کہ وہ بدل چکا ہے اور میزبانی کا مستحق ہے۔ چین نے یہ بھی ظاہر کیا کہ وہ اس سمت میں کام کر رہا ہے اور چین کھیلوں میں ابھرتی ہوئی طاقت بن گیا ہے۔
شی جن پنگ کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد کاٹھ نے پارٹی کے فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیورو کو بھی متاثر کیا اور 2012 میں وہ چین کے صدر منتخب ہو گئے۔
انھیں اور ان کی بیوی پینگ لییوان کو سرکاری میڈیا نے بہت زیادہ توجہ دی۔ ان کی بیوی ایک معروف گلوکارہ ہیں۔
اس جوڑے میں ایک خاصیت تھی جو پچھلے صدور سے مختلف تھی۔ سابق صدور کی بیویاں عوام میں زیادہ سامنے نہیں آئیں۔
شی جن پنگ اور پینگ کی ایک بیٹی ژی منگ زی ہے۔ ان کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، حالانکہ یہ واضح ہے کہ انھوں نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا ہمیشہ خاندان کے دیگر افراد اور ان کے غیر ملکی کاروبار کے بارے میں تحقیقات کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شی جن پنگ کا خواب
شی جن پنگ نے ’چین کی تجدید‘ اور اپنے خوابوں کا چین بنانے کے وژن کی طرف بھرپور طریقے سے کام کیا۔
ان کے دور حکومت میں، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت نے کئی ارب روپے کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کے ساتھ چین کے عالمی تعلقات کے ساتھ ساتھ کمزور سرکاری صنعتوں کو روکنے اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے سست ترقی سے نمٹنے پر زور دیا۔
چین نے بحیرۂ جنوبی چین میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے ساتھ ساتھ ایشیائی اور افریقی ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
پچھلی دہائیوں میں چین کی اقتصادی ترقی بہت تیز تھی لیکن کورونا وبا کی وجہ سے یہ رفتار سست پڑ گئی۔ شی جن پنگ نے ’زیرو کورونا‘ پالیسی اپنائی جس کی وجہ سے چین باقی دنیا سے الگ تھلگ ہو گیا۔
ملک میں ایک زمانے میں عروج پر رہنے والی پراپرٹی مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہو چکی ہے۔
ادھر امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ چین کے لیے بہت نقصان دہ رہی ہے جس کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
’ماؤ کے بعد سب سے زیادہ آمرانہ کے حامل لیڈر‘
صدر بننے کے بعد شی جن پنگ نے پارٹی کے اعلیٰ عہدوں میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کی۔
ناقدین نے اس پالیسی کو پارٹی میں حریفوں یا مخالفوں کے خلاف قدم کے طور پر دیکھا۔ ان کے دور حکومت میں چین میں آزادئ رائے پر بہت سی پابندیاں دیکھی گئیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں کا خیال ہے کہ سنکیانگ صوبے میں حکومت نے پچھلے کچھ سالوں میں لاکھوں مسلمانوں کو قید کیا۔ چینی حکومت اسے ’ری ایجوکیشن کیمپ‘ کا نام دے رہی ہے۔ چین امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی طرف سے لگائے جانے والے نسل کشی کے الزام کو مسترد کرتا ہے۔
شی جن پنگ کے دور میں ہانگ کانگ پر بھی چین کی گرفت مضبوط ہوئی۔
صدر جن پنگ نے سال 2020 میں قومی سلامتی کا قانون پاس کر کے ملک میں جمہوریت نواز مظاہروں کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس قانون کے مطابق ایسا کرنے والے لوگ علیحدگی پسند، تشدد پسند اور غیر ملکی طاقتوں سے ہاتھ ملانے والے مجرم ہیں۔ ایسے الزام میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
اس قانون کے نفاذ کے بعد جمہوریت کے حامی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایپل ڈیلی، سٹینڈ نیوز جیسی میڈیا تنظیمیں بھی بند کردی گئیں۔
شی جن پنگ کے دور حکومت میں ہی چین نے تائیوان کے خود مختار جزیرے کے ساتھ الحاق کرنے کی کوششیں شروع کیں اور فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی۔
چین کی طاقت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے دنیا کی نظریں اب ان کے تیسری بار صدر بننے پر ہوں گی۔
ان کا فی الحال کوئی سیاسی جانشین سامنے نہیں آیا۔ 69 سالہ شی جن پنگ 1970 کی دہائی میں ماؤ زے تنگ کی موت کے بعد سے چین کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔