آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کی کمیونسٹ پارٹی کانگریس: صدر شی جن پنگ اپنے تیسرے پانچ سالہ دور میں کیسے داخل ہو رہے ہیں؟
- مصنف, ڈیوڈ براؤن
- عہدہ, بی بی سی
چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی صدر شی جن پنگ کے تیسرے پانچ سالہ دور کی منظوری دینے جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر شی 1970 کی دہائی کے ماؤ زے تنگ کے بعد سے چین کے سب سے طاقتور حکمران بن گئے ہیں۔
صدر کے تیسرے دور سے چین پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گی۔ یہ ممکن ہے کہ 69 سال کے شی جن پنگ تاحیات صدر کے عہدے پر تعینات رہیں۔
یہ تاریخی فیصلہ 16 اکتوبر کو بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی کانگریس میں لیا جائے گا۔ یہ پارٹی کی تاریخ کے سب سے اہم اجلاسوں میں سے ایک ہے۔
شی جن پنگ تین اعلیٰ عہدوں پر فائز
- شی جن پنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہیں
- وہ چینی ریاست کے صدر ہیں
- وہ چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ ہیں اور ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر ہیں
انھیں چین کا سپریم لیڈر بھی کہا جاتا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی کانگریس، جو ہر پانچ سال بعد ہوتی ہے، میں ممکنہ طور پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ شی جن پنگ دو عہدوں پر برقرار رہیں گے، یعنی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینٹرل فوجی کمیشن کے چیئرمین۔
جبکہ 2023 کے موسم بہار میں نیشنل پیپلز کانگریس کے دوران وہ صدارت کے عہدے پر برقرار رکھے جائیں گے۔
کانگریس میں کیا ہوتا ہے؟
ایک ہفتے تک تیانمن سکوائر کے ’ہال آف دی پیپل‘ میں قریب 2300 عہدیدار جمع ہوں گے۔
ان میں سے قریب 200 لوگ جماعت کی مرکزی کمیٹی کا انتخاب کریں گے اور 170 متبادل ارکان بھی طے کیے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرکزی کمیٹی کی جانب سے پارٹی کے پولٹ بیورو کے لیے 25 ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔ پھر پولٹ بیورو کی جانب سے اپنی قائمہ کمیٹی کے ارکان چنے جائیں گے۔
یہ سب سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ارکان ہوتے ہیں۔ اس وقت اس کے سات ارکان ہیں جن میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری شی جن پنگ شامل ہیں۔ یہ تمام ارکان مرد ہیں۔
مگر تمام فیصلے صرف کانگریس میں نہیں ہوتے۔ کانگریس کے اجلاس کے بعد مرکزی کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
صدر شی دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور سب سے بڑی مسلح افواج میں سے ایک کی قیادت کریں گے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اپنے تیسرے دور میں وہ چین کو مزید آمرانہ سیاسی نظام کی طرف دھکیل دیں گے۔
لندن یونیورسٹی سکول کے اورینٹل اور افریقی امور کے پروفیسر سٹیو سانگ کہتے ہیں کہ ’شی کی قیادت میں چین آمرانہ نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘
’ماؤ کی قیادت میں بھی چین میں آمرانہ نظام تھا۔ ہم ابھی وہاں تک نہیں پہنچے لیکن ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں۔‘
پروفیسر سانگ نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی کے آئین میں تبدیلیاں کرسکتی ہے جیسے شی جن پنگ کے خیالات کو پارٹی کی رہنمائی کا فلسفہ بنایا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’شی جن پنگ کے خیالات چین کے سوشلزم کے لیے ان کا برانڈ ہے۔ یہ قوم پرستی پر زور دینے والا فلسفہ ہے جس میں نجی کاروبار پر شکوک و شبہات ہوتے ہیں۔‘
ان کی قیادت میں چینی حکام نے معیشت کے کئی شعبوں میں کام کرنے والی طاقتور کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
پروفیسر سانگ کا کہنا ہے کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ انھیں باقاعدہ طور پر آمر بنا دیں گے۔‘
چین کی اعلیٰ قیادت، جس کی رونمائی کانگریس میں ہو گی، بڑے پیمانے پر پالیسیوں کو طے کرے گی۔
پوری دنیا میں مستقبل کے لیے چین کی سمت کا عندیہ اسی سے لگایا جائے گا، خاص کر معاشی، سیاسی، سفارتی اور ماحولیاتی امور کے چیلنجز پر چین کی آگے کیا پالیسی ہوگی۔
چین کو کیا معاشی چیلنجز درپیش ہیں؟
حالیہ دہائیوں کے دوران چین نے معاشی ترقی حاصل کی ہے مگر اب کووڈ لاک ڈاؤن، اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور پراپرٹی کی مارکیٹ میں سست روی کے باعث اسے معاشی مشکلات درپیش ہیں۔
یوکرین میں جنگ کی وجہ سے عالمی بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے اور اس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ چین کے سابقہ صدور یانگ زیمن اور ہو جن تاؤ کے مقابلے صدر شی کے دور میں معاشی پیداوار کم رہی۔
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ کمیونسٹ حکومت کی قانونی حیثیت اس کی چینی ملازمین کے لیے زیادہ آمدن اور بہتر نوکریاں دینے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
اگلے پانچ برس میں بُری معاشی کارکردگی شی جن پنگ کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔
کانگریس میں معیشت کے شعبے کے لیے بھی نئے ناموں کا اعلان کیا جائے گا، جیسے مرکزی بینک کے گورنر اور وزیر اعظم۔
صفر کووڈ
شی جن پنگ کی نمایاں پالیسیوں میں سے ایک عالمی وبا کے دوران صفر کووڈ کی حکمت عملی ہے۔
اکثر دنیا میں معمولات زندگی بحال ہو رہی ہے۔ اس دوران چینی حکام وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ وہ سخت لاک ڈاؤن، وسیع ٹیسٹنگ اور طویل قرنطینہ نافذ کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شینزین اور چینگدو سمیت 70 سے زیادہ چینی شہروں میں حالیہ ہفتوں کے دوران جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا جن سے ان کے لاکھوں شہری متاثر ہوئے اور کئی کاروبار بند رہے۔
خیال ہے کہ ان اقدامات کو عوامی سطح پر پسند نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
شی جن پنگ نے کہا ہے کہ وہ اپنی کووڈ پالیسی کے خلاف شکوک و شبہات سے لڑیں گے۔
کانگریس سے قبل اور اس کے دوران وبا کے پھیلاؤ سے شی جن پنگ کی اہلیت پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ پارٹی شاید کانگریس کا استعمال کر کے عالمی وبا کے خلاف فتح کا اعلان کرے گی یا شاید یہ کہا جائے گا کہ چین دوسرے ممالک کے برعکس معیشت سے زیادہ اہمیت اپنے لوگوں کو دیتا ہے اور وہ اب بھی اس پالیسی کو جاری رکھے گا۔
تائیوان اور مغربی ممالک
شی جن پنگ نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں سخت گیر حکمت عملی اپنائی ہے، خاص طور پر تائیوان کے مسئلے کے حوالے سے۔
اگست میں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان دورے پر چین نے فوجی مشقیں کی تھیں جن میں جزیرے کے گرد میزائل فائر کیے گئے۔
چین تائیوان کو اپنا ٹوٹا ہوا صوبہ خیال کرتا ہے جو بالآخر واپس بیجنگ کے کنٹرول میں آجائے گا مگر تائیوان خود کو مین لینڈ چین سے الگ سمجھتا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا ہے کہ تائیوان کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ سنہ 2049 تک مکمل ہو گا۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر چین نے تائیوان کا کنٹرول سنبھال لیا تو اس سے مغربی بحر الکاہل اور اس سے آگے امریکی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچے گا۔
مغربی ممالک کے لیے تائیوان علاقائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ان علاقوں میں شامل ہے جو کئی دہائیوں سے امریکہ کے اتحادی رہے ہیں۔
اضافی رپورٹنگ: ونیان سانگ