پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز تیراہ سے
لوگوں کی نقل مکانی کے متعلق بیان پر خیبر پختونخوا حکومت کا سخت ردِ عمل
سامنے آیا ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اسے سراسر غلط اور گمراہ کن
بیانیہ قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک
بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی
تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے
لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا
رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار
دیتے ہوئے کہا کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی
اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے تیراہ متاثرین کے متعلق جاری نوٹیفکیشن
پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر
اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ دعویٰ کہ تیراہ متاثرین اپنی مرضی سے
نقل مکانی کر رہے ہیں، سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، مینگورہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وفاقی
حکومت سے نوٹیفکیشن واپس لینے اور اس پر معافی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ
اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ جرگہ بلائیں گے۔ ’اگر بات غلط ثابت ہوئی تو نقل مکانی
کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ واپس لے کر جاؤں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ
کہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کا مقصد صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا
کرنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا
کہ آج کے بعد وفاق کے ساتھ جو بھی بات ہو گی وہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہو گی۔
دریں اثنا جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے، وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ 24 رکنی جرگہ، جس نے آپریشن سے قبل تیراہ سے نقل مکانی پر اتفاق کیا تھا، اسے دستخط کرنے پر ’مجبور‘ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔
وفاقی حکومت کے اس دعوے پر کہ حکومت یا فوج نے تیراہ سے انخلا کا کوئی کوئی حکم جاری نہیں کیا شفیع جان کا کہنا تھا کہ تیراہ میں معمول کی انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بجائے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ’مسلط‘ کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے خیبر کے ڈپٹی کمشنر کے دستخطوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈی سی نے صرف لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے، کیونکہ حکومت ’جانتی تھی کہ لوگوں کو نکالا جائے گا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے تیراہ کے لوگوں کے لیے چار ارب روپے کی منظوری اس لیے دی ’کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بے گھر ہونے والے ہیں‘۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت اطلاعات کے مطابق چار ارب روپے جاری کیے گئے۔
وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضا کارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیش نظر جاری کی گئی تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا کہ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضا کارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔‘