انڈیا-یورپ معاہدہ اور ٹیکسٹائل برآمدات: ’بنگلہ دیش کو خطرہ نہیں‘ مگر پاکستانی تاجر پریشان

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے تاریخی تجارتی معاہدے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس کا پاکستان کی برآمدات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اس سوال کی ایک وجہ یورپی منڈی کو پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات ہیں جنھیں اب تک انڈین مصنوعات کے مقابلے میں ایک برتری یا رعایت حاصل تھی جو اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ختم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ اگرچہ اس معاہدے پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم اس پر عملدرآمد اس وقت ہو گا جب یورپی پارلیمان سمیت تمام یورپی یونین کے ممالک اس کی منظوری دیں گے۔

اس تحریر میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے میں ٹیکسٹائل کے شعبے سے متعلق کیا بات کی گئی ہے، انڈین مصنوعات کو اب کیا سہولت ملے گی اور اس کا پاکستان کی برآمدات سے کیا تعلق ہے؟

ہم نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی موجودہ برآمدات سمیت یہ جاننے کی کوشش بھی کی ہے کہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری کے اعداد و شمار کیا ہیں اور پاکستانی ایکسپورٹر بنگلہ دیش کے مقابلے میں اس معاہدے سے زیادہ پریشان کیوں ہیں؟

یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کو جنوبی ایشیا کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین اس وقت پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں بھی شامل ہے۔

بنگلہ دیش یورپ کو تیار ملبوسات فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے، جب کہ پاکستان بھی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی نمایاں مقدار یورپی منڈیوں میں بھیجتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اگر انڈین گارمنٹس اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی یونین میں ترجیحی رسائی حاصل ہوتی ہے، تو قیمتوں کے اعتبار سے انڈین مصنوعات یورپ کے لیے زیادہ پرکشش ہو سکتی ہیں اور اس سے پاکستان کے گارمنٹس شعبے کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں گارمنٹس کے شعبے سے منسلک افراد کے مطابق ملک کی گارمنٹس صنعت پہلے ہی کم لاگت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور مضبوط سپلائی چین کی وجہ سے یورپی خریداروں میں مقبول ہے۔

انھوں نے یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان ہونے والے معاہدے سے بنگلہ دیشی گارمنٹس کے شعبے کو مشکلات پیش آنے کے امکان کو رد کیا ہے۔

تاہم ان کے مطابق انڈیا کی مصنوعات کی ترجیحی بنیادوں پر رسائی سے یورپی خریداروں کے پاس ایک اور بڑا متبادل ضرور آ جائے گا۔

پاکستان میں ٹیکسٹائل شعبے کے افراد کے مطابق پاکستان کے لیے صورتحال نسبتاً زیادہ چیلنجنگ سمجھی جا رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان کو یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم کے تحت محصولات میں رعایت حاصل ہے، مگر انڈیا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ہونے کی صورت میں پاکستان کی یہ برتری کسی حد تک کم ہو سکتی ہے، اس کا اثر خاص طور پر ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا کی گارمنٹس مصنوعات پر یورپی یونین میں کتنا ٹیکس لگتا ہے؟

پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا کی گارمنٹس مصنوعات پر یورپی منڈی میں مختلف شرح سے ٹیکس لاگو ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کی برآمدی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جس کے تحت زیادہ تر گارمنٹس مصنوعات یورپی منڈی میں بغیر کسی درآمدی محصول کے داخل ہوتی ہیں۔

اس رعایتی نظام کے باعث پاکستان کو یورپی خریداروں کے لیے قیمت کے لحاظ سے ایک حد تک برتری حاصل ہے۔

بنگلہ دیش کو بھی یورپی یونین میں طویل عرصے سے تقریباً صفر ٹیرف کی سہولت حاصل رہی ہے، کیونکہ وہ کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

یہی رعایت بنگلہ دیش کو یورپی یونین کا سب سے بڑا گارمنٹس سپلائر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

اس کے برعکس انڈیا کو فی الحال یورپی یونین میں گارمنٹس کی برآمد پر زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ٹیکس گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل پر 9.6 فیصد کی شرح سے لاگو ہوتا ہے۔

انڈیا اور یورپی یونین کے معاہدے کے بعد گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل پر ٹیکس کتنا ہو گا؟

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد جہاں انڈیا کی دیگر مصنوعات کو کم یا زیرو ٹیکس پر یورپی ملکوں تک رسائی حاصل ہو گی وہیں اس کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھی منڈیوں تک ترجیجی رسائی حاصل ہو گی۔

انڈیا کی وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ اس معاہدے پر فیکٹ شیٹ کے مطابق اس معاہدے کے بعد ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے، جوتے، جیولری اور کچھ دوسری مصنوعات کو یورپی یونین مارکیٹ پر بغیر کسی ڈیوٹی کے برآمد کیا جا سکے گا۔

پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کی یورپی یونین کو برآمدات

پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات زیادہ تر ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر مشتمل ہیں۔

یورپین کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین کو جانے والی برآمدات 75 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہیں۔ سنہ 2024 میں پاکستان کی طرف سے یورپی یونین جانے والی برآمدات کی کُل قیمت نو ارب ڈالر تھی، جس میں سے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی برآمدات 6.2 ارب ڈالر تھی۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کی 2024 میں یورپی یونین کو گارمنٹس اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کی مالیت 5.6 ارب ڈالر رہیں۔

یورپین کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش سے یورپی یونین کو جانے والی برآمدات کا 94 فیصد حصہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔

سنہ 2024 میں بنگلہ دیش کی جانب سے یورپی یونین جانے والی مصنوعات کی کُل مالیت تقریباً 21 ارب ڈالر تھی۔

تجارتی معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو کتنا خطرہ ہے؟

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت انڈین ٹیکسٹائل مصنوعات کی وہاں زیرو ڈیوٹی رسائی سے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مشکلات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے بعد پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات یورپین یونین کے ممالک جاتی ہیں۔

ان مشکلات کے بارے میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حسن شفقت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی تک جو ٹیکسٹائل برآمدات کی پرفارمنس رہی ہے اس میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کی وجہ سے کچھ برتری حاصل رہی ہے۔ اب جو معاہدہ ہوا ہے اس کے بعد اس کا بات کا اندیشہ ہے کہ پاکستان کی یورپی یونین کو ٹیکسٹائل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔‘

محمد حسن شفقت کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات پہلے ہی مقابلے کی دوڑ میں بڑی مشکلات کا شکار ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت انڈیا میں بجلی کا ریٹ صنعتوں کے لیے فی یونٹ 6.5 فی سینٹ ہے، جبکہ پاکستان میں اس کا ریٹ فی یونٹ 13.5 سینٹ ہے۔

محمد حسن شفقت نے بتایا کہ اسی طرح انڈیا میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 15 سے 25 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 29 فیصد ہے۔

’انڈیا میں گیس کی قیمت 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو یو ہے۔‘

محمد حسن شفقت کے مطابق یہ سارے عوامل پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، تاہم یورپی یونین میں زیرو ڈیوٹی کی وجہ سے پاکستان اچھی برآمدات کر لیتا تھا۔ ’اب انڈیا کو زیرو ڈیوٹی رسائی سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین جاوید بلوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کی ہوم ٹیکسٹائل مصنوعات خطرے سے دوچار ہوں گی کیونکہ جب انڈیا کو زیرو ڈیوٹی پر مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گی تو پھر ہماری مصنوعات کافی مشکلات کا شکار ہوں گی۔

’جس کی وجہ ہمارے ہاں پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے۔ بجلی و گیس کی قیمتوں اور ٹیکس کے علاوہ پاکستان میں شرح سود ساڑھے دس فیصد ہے اور انڈیا میں صرف ساڑھے پانچ فیصد، جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات کی لاگت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پاکستان میں بجلی و گیس کی فراہمی میں تعطل اور مزدورں کے معاملات اور آئے دن سڑکوں کی بندش برآمدی آرڈرز کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

’اب جب انڈیا سے سستی مصنوعات یورپی صارفین کو مل سکیں گی تو اس کا منفی اثر پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات پر پڑ سکتا ہے۔‘

تاہم اس رائے سے سب متفق نہیں۔ مصدق ذوالقرنین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’غیر ضروری طور پر گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔‘

ان کی رائے میں ’یہ کہنا مبالغہ آرائی ہے کہ انڈیا کے یورپی یونین سے معاہدے کے بعد یورپی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ معاہدہ اگلے سال نافذ ہو گا، اس سے مسابقت تو بڑھے گی لیکن زیادہ تر پاکستانی برآمد کنندگان مقابلہ کرنے کی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔‘

’پاکستان کے نمایاں برآمد کنندگان معیار، بین الاقوامی تقاضوں کی پابندی، اور خریداروں کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں پہلے ہی دسروں سے آگے ہیں۔ خاص طور پر وہ برآمد کنندگان جو ویلیو ایڈڈ شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ’خام مال پر ڈیوٹی ختم کر دی جائے، برآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے علاقائی ساتھیوں کے برابر کر دی جائے، ایکسچینج ریٹ پر پابندی ختم کر دی جائے، سبسڈیز (امدادی نرخوں پر سہولیات کی فراہمی) اور توانائی پر لیوی (محصول) ختم کیا جائے اور برآمدی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انھیں ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔‘

تجارتی معاہدے سے بنگلہ دیش کی یورپی یونین کو برآمدات کے متاثر ہونے کا کتنا امکان ہے؟

بنگلہ دیش کی یورپی یونین کو مصنوعات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس منصوعات پر مشتمل ہے اور وہ لیسٹ ڈویلپنگ کنٹری (کم ترقی یافتہ ملک) کے درجے پر فائز ہونے کی وجہ سے جی ایس پی کے تحت بغیر ڈیوٹی کے اپنی مصنوعات پورپی یونین کو بھیج سکتا ہے۔

انڈیا کے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی زیرو ڈیوٹی پر رسائی سے بنگلہ دیش کی مصنوعات کو کسی خطرے کے امکان کے بارے میں بنگلہ دیش کے برآمدات کے شعبے کے افراد کا کہنا ہے کہ مقابلہ تو بڑھے گا، تاہم اس سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔

ڈھاکہ میں ایکسپورٹرز ایسوی ایشن آف بنگلہ دیش کے رکن قاضی افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال بنگلہ دیش کی گارمنٹس برآمدات کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت یہ شعبہ جس سطح پر کام کر رہا ہے وہ انڈیا سے بہت آگے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں اس شعبے کی پیداوری گنجائش انڈیا کے مقابلے میں دُگنی ہے، جو 35 سالوں میں حاصل کی گئی ہے۔

قاضی افتخار حسین نے مزید کہا کہ انڈیا کو اس مقام تک پہنچنے کےلیے وقت درکار ہو گا، جو کہ دس سال تک ہو سکتا ہے۔ اس لیے فی الحال خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔