آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت گھریلو کپڑوں کی برآمد میں انڈیا پر کیسے سبقت لے گئی؟
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں واقع فکیٹری میں تیار ہونے والے لیڈیز گارمنٹس امریکہ اور برطانیہ کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ فیکٹری کی مالک سیما خان کے مطابق حالیہ عرصے میں ان کی فیکٹری میں تیار ہونے والی کرتیوں کی امریکہ میں برآمد کیے جانے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی اور انڈین کمیونٹیز کے ساتھ مقامی آبادی میں بھی ان کی کرتیوں کی طلب ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی فیکٹری میں تیار ہونے والی کرتیوں کو جینز کے ساتھ ایک ایزی ڈریس کے طور پر پہنا جاتا ہے۔ سیما خان نے بتایا کہ پہلے یہ کرتیاں انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی امریکہ جاتی تھیں تاہم سخت لاک ڈاون کی وجہ سے وہاں سے ان کی سپلائی میں تعطل آیا تو انھیں اس کا فائدہ ہوا اور زیادہ بڑی تعداد میں انھوں نے یہ کرتیاں امریکہ برآمد کی ہیں۔
سیما خان نے کہا کہ ابھی بھی ان کے پاس اگلے پانچ سے چھ ماہ کے ایکسپورٹ آرڈرز موجود ہیں تاہم وہ پاکستان میں کاٹن یارن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے فکرمند ہیں کہ یہ ان کی تیار کردہ مصنوعات کی قیمت کو بڑھا دیں گی جو مستقبل میں ان کے کاروبار کو متاثر کر سکتا ہے۔
سیالکوٹ میں واقع اشرف انڈسٹریز کی امریکہ کو برآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اشرف انڈسٹریز فزیکل فٹنس کے ملبوسات امریکہ برآمد کرتی ہے جن میں مارشل آرٹس اور دوسری ورزشوں کے ملبوسات شامل ہیں۔
اشرف انڈسٹریز کے مینجنگ ڈائریکٹر اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ انھیں امریکہ کے علاوہ یورپ اور جاپان سے بھی بہت زیادہ آرڈر ملے ہیں جس کی ایک وجہ ان ملکوں میں کورونا وارئرس کی وجہ سے لگنے والا لاک ڈاون ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے تاہم فزیکل فٹنس کے لیے انھیں ملبوسات درکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعجاز کھوکھر جو پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینٹر بھی ہیں انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاون نے امریکیوں کو گھروں میں محدود کر دیا ہے جس کی وجہ سے گھروں میں استعمال ہونے والے ملبوسات کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کراچی سے گھریلو مصنوعات کی امریکہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے برآمد کنندہ زبیر چاولہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ کی طرح امریکہ میں بھی ان کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سے ان کی مصنوعات کی برآمدات کے لیے حالات سازگار تھے جس کی وجہ سے ان کی اچھی آمدنی ہوئی تاہم زبیر چاولہ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اب حالات اتنے سازگار نہیں لگتے کیونکہ کاٹن یارن کی قیمتیں اس وقت بہت بڑھ چکی ہیں جو مستبقل کے سودوں کے لیے بہتر نہیں۔
پاکستان سے گھریلو ملبوسات جنھیں ٹیکسٹائل کے شعبے میں 'اپیرل' کی کیٹگری میں شمار کیا جاتا ہے ان کی برآمدات میں رواں سال بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس شعبے کی برآمدات میں پاکستان نے انڈیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس شعبے سے وابستہ کاروباری افراد انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات کو خوش آئند پیشرفت قرار دیتے ہیں تاہم اس رجحان میں تسلسل کے بارے میں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جس کی ایک وجہ ملک میں کاٹن یارن کی کمی ہے جس کی وجہ سے یہ شعبہ آنے والے دنوں میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے اور برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے میں ناکامی ہو سکتی ہے۔
پاکستان سے امریکہ کو کتنا اپیرل برآمد ہوا؟
پاکساتان کے مشیر تجارت رزاق داؤد کے میڈیا پر چلنے والے بیان کے مطابق پاکستان کورونا وارئرس کے دوران امریکہ کو زیادہ اپیرل سپلائی کرنے والا ملک ہے۔ اگرچہ انڈیا اور بنگلہ دیش امریکی مارکیٹ میں اس شعبے میں آگے ہوتے ہیں تاہم رواں سال فروری تک امریکہ میں اس شعبے کی درآمد میں 3.2 فیصد کا اضافہ ہوا اور پاکستان اس میں سر فہرست رہا۔
پاکستان کی اس شعبے میں کارکردگی پر بات کرتے ہوئے رزاق داؤد نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دنیا میں ان چیزوں کا ایک بااعتماد سپلائر بن چکا ہے۔
پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس شعبے کی مصنوعات میں ٹی شرٹس، پاجامے، جاگنگ ٹریکس اور اس قسم کی دوسری مصنوعات امریکہ میں زیادہ گئی ہیں۔
انھوں نے کہا اس شعبے میں پاکستان کی کارکردگی پہلے بھی اچھی رہی ہے اور ان ملبوسات کے شعبے میں امریکہ کی مارکیٹ میں پاکستان نے پہلے بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اس کا انڈیا اور چین سے مقابلہ رہا ہے۔
امریکہ کی پاکستان سے زیادہ برآمد کی وجہ کیا؟
پاکستان سے اپیرل کی امریکہ کو زیادہ برآمد پر بات کرتے ہوئے جاوید بلوانی نے کہا پاکستان کو دو تین فیکٹرز نے فائدہ پہنچایا۔
’ایک تو پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے باوجود سخت لاک ڈاون نہیں لگایا گیا اور سمارٹ لاک ڈاون کی وجہ سے ہمارے کارخانے چلتے رہے تو دوسری جانب انڈیا میں سخت لاک ڈاون کی وجہ سے ان کا پیداواری شعبہ متاثر ہوا اور وہ امریکہ سے آنے والے آرڈرز کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔
جاوید بلوانی نے بتایا کہ امریکہ میں کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہیں اور گھروں پر وہ ٹی شرٹس، پاجامے وغیرہ پہنتے ہیں یا ورزش کے لیے جاگنگ ٹریکس استعمال کرتے ہیں۔
’لوگوں کے گھروں پر رہنے کی وجہ سے بھی ان کپڑوں کا استعمال بڑھ گیا جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا اور پاکستان کو اس کا فائدہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا اپنے ملک میں لاک ڈاون کی وجہ سے اس طلب کو پورا کرنے میں ناکام رہا جس کا فائدہ پاکستان کو ہوا اور اس کی امریکہ میں اپیرل کی برآمدات بڑھی۔
اعجاز کھوکر نے اس سلسلے میں کہا کہ پاکستان سے امریکہ ہوم ٹیکسٹائل کی برآمد بڑھی ہے یعنی گھر پر استعمال ہونے والی مصنوعات اور ملبوسات جس کی وجہ امریکہ میں لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کا گھروں تک محدود ہو جانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا میں لاک ڈاون نے پاکستانی برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچایا تاہم اس کے ساتھ چین کے ساتھ امریکہ کے تنازعے نے بھی پاکستان کے اس برآمدی شعبے کو فائدہ پہنچایا۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین کے کاٹن ریجن میں کچھ ایشوز کی وجہ سے امریکہ اس خطے سے آنے والی کاٹن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہا ہے جس کا فائدہ پاکستان کو پہنچ رہا ہے۔
کیا گھریلو ملبوسات کی برآمد میں اضافے کا تسلسل برقرار رہ پائے گا؟
پاکستان سے امریکہ کو زیادہ برآمد ہونے والی گھریلو ملبوسات کی مستقبل میں کارکردگی کے بارے میں اس شعبے کے افراد زیادہ پرامید نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک بار انڈیا کا پیداواری شعبہ پوری طرح چل پڑا تو پاکستان کے لیے اس رجحان کو برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔
انھوں نے کہا اس میں انڈیا کے پیداواری شعبے کے کھلنے کے ساتھ پاکستان کے اندر اس شعبے کو درپیش داخلی مشکلات بھی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ ملک میں کاٹن کی پیداوار کی کمی اور دھاگے کی کم فراہمی ہے جو اس شعبے کا بنیادی خام مال ہے۔
اعجاز کھوکھر نے بتایا کہ پاکستان میں یارن کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اور یہ اس شعبے کی پیداواری لاگت کو بڑھا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سپننگ ملوں کا بھی ایک کارٹل بن چکا ہے جو ملک میں کاٹن اور یارن کی کمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ابھی تو انڈیا میں لاک ڈاون کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ پہنچ رہا ہے لیکن جیسے ہی انڈیا میں لاک ڈاون کا خاتمہ ہوتا ہے اور ان کی فیکٹریاں پیداوار شروع کرتی ہیں تو پاکستان اس سنہری موقع سے محروم ہو سکتا ہے۔
اعجاز کھوکر نے کہا کہ انڈیا میں پچھلے سیزن کے مقابلے میں 50 لاکھ بیلز زیادہ پیداوار ہوئی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں کاٹن کی پیداوار مسلسل گر رہی ہے اور رواں سال صرف ساٹھ لاکھ کاٹن بیلز کی پیداوار ہوئی جب کہ ہماری کھپت ایک کروڑ بیس لاکھ بیلز ہے۔
انھوں نے کہا ’ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انڈیا میں لاک ڈاون کی وجہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور مستقل طور پر امریکی مارکیٹ میں قدم جما سکتا ہے یہاں یارن کی کمی اس کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
جاوید بلوانی نے یارن کی کمی کو سپننگ شعبے کی لابی کی کارستانی قرار دیا اور کہا کہ یہ شعبہ زیادہ تر سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک میں باہر سے یارن کی درآمد کے مخالف ہیں اور یہاں اس کی کمی پیدا کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر آج بنگلہ دیش گارمنٹس کے شعبے میں دنیا میں پاکستان سے آگے ہے تو اس کی وجہ بھی سپننگ سیکٹر ہے۔
جاوید بلوانی نے کہا کہ بنگلہ دیش سلائی مشین کے ذریعے دنیا کی مارکیٹ میں داخل ہوا یعنی وہ گارمنٹس بناتے ہیں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر کے دنیا میں بیچتے ہیں۔
’ہم نے دنیا کی مارکیٹ میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں سپننگ یعنی دھاگے کے ذریعے قدم رکھا جس کی وجہ سے ہم ویلیو ایڈیشن میں پیچھے رہ گئے۔‘