آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کو زیادہ متاثر کیسے کر سکتا ہے؟
- مصنف, جیما کریو اور فاریہ مسعود
- عہدہ, بزنس رپورٹر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروبار کریں گے اُنھیں امریکہ کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی مختلف ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، اُسے امریکہ کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہو گا اور یہ فوری نافذ العمل ہے۔‘
’یہ حکم حتمی اور قطعی ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘
صدر ٹرمپ نے اس بیان کے علاوہ اس فیصلے کی مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
کون سے ممالک ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں؟
ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے 100 سے زائد ممالک میں چین اس کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے۔
ٹریڈ ڈیٹا مانیٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے کسٹمز حکام کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں، اکتوبر 2025 تک کے ایک سال کے دوران چین نے ایران سے 14 ارب ڈالر (10.4 ارب پاؤنڈ) سے زائد کی مصنوعات خریدیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین کے بعد عراق دوسرے نمبر پر ہے جس نے اپنے ہمسایہ ملک سے 10.5 ارب ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کیں۔ ایران کے بڑے خریداروں میں متحدہ عرب امارات اور ترکی بھی شامل ہیں۔
درحقیقت ایران سے ترکی کو برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 2024 میں 4.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر گذشتہ سال 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ایران کی ٹاپ 10 برآمدات میں سے تقریباً تمام ایندھن سے متعلق ہیں کیونکہ یہ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایران دیگر ممالک کو غذائی اشیا بھی برآمد کرتا ہے جن میں پستہ اور ٹماٹر شامل ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر ایران اپنے تجارتی شراکت داروں سے بنیادی اشیا کا کہیں بڑا خریدار ہے۔
خوراک ایران کی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتی ہے خاص طور پر مکئی، چاول، سورج مکھی کے بیج اور تیل، نیز سویا بین۔
تاہم ایران کی سب سے بڑی درآمد سونا ہے۔
اکتوبر تک کے 12 ماہ کے دوران ایران نے 6.7 ارب ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا جو اس سے ایک سال قبل 4.8 ارب ڈالر تھا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان غیر رسمی تجارت متاثر ہو گی؟
پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت زیادہ تر زمینی راستے سے ہوتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف مصنوعات کی خرید و فروخت جاری ہے، تاہم اس تجارت کے مستند اور مکمل اعداد و شمار اس طرح دستیاب نہیں ہیں جیسے پاکستان کی دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے اعداد و شمار ہوتے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان، جو مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر ایران کے ساتھ تجارت کی تفصیلات واضح طور پر ظاہر نہیں کیں۔
تاہم کاروباری حلقوں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان قابلِ ذکر تجارت ہو رہی ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے سابق چیف ایگزیکٹو زبیر موتی والا نے بی بی سی اردو کے لیے صحافی تنویر ملک کو بتایا کہ پاکستان سے ایران جانے والی مصنوعات کی برآمدات کا حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہو سکتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر، جن کا تعلق بلوچستان سے ہے، کا کہنا ہے کہ اس تجارت کے اعداد و شمار اس لیے سرکاری ریکارڈ میں نظر نہیں آتے کیونکہ ایران جانے والے سامان کی گڈز ڈیکلریشن میں اکثر وسطی ایشیائی ریاستوں کا نام درج کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ مال درحقیقت ایران میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی تجارت کا لین دین عموماً پاکستانی روپے میں ہوتا ہے، جو سرکاری تجارتی ڈیٹا میں شامل نہیں ہو پاتا۔
ان کے مطابق پاکستان سے ایران چاول، گوشت، کینو اور کپڑا برآمد کیا جاتا ہے جبکہ ایران سے کیمیکل، پلاسٹک دانہ اور ایل پی جی پاکستان آتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رسمی شعبے کے ذریعے ایران سے بڑی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل بھی پاکستان پہنچتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں ناصر خان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی تجارت پر منفی اثر پڑنے کا امکان کم ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی بڑی تجارت غیر رسمی شعبے کے ذریعے ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ سرکاری کاغذات میں بھی اکثر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ مصنوعات براہِ راست ایران جا رہی ہیں۔
ایران اور انڈیا کے درمیان تجارت
ٹریڈنگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کو انڈیا کی اہم برآمدات میں 512.92 ملین ڈالر مالیت کے نامیاتی کیمیکل سرفہرست ہیں۔ اس کے بعد پھل، گری دار میوے، لیموں کے چھلکے اور خربوزے شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 311.60 ملین ڈالر ہے۔
اسی طرح معدنی ایندھن، تیل اور کشید کی گئی مصنوعات جن سے پیٹرولیم مصنوعات، الکحل اور خوشبو تیار کی جاتی ہیں، کی ایران کو برآمدات 86.48 ملین ڈالر رہیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث انڈیا پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنی تجارت میں نمایاں کمی کر چکا ہے۔ مالی سال 2018-19 میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارت 17.03 ارب ڈالر تھی، جو اگلے ہی مالی سال 2019-20 میں کم ہو کر 4.77 ارب ڈالر رہ گئی۔
یہ تقریباً 72 فیصد کی براہِ راست کمی تھی اور 2025 تک یہ حجم مزید گھٹ کر 1.68 ارب ڈالر تک آ گیا۔
اسی پس منظر میں 2019 میں ایران کے وزیر خارجہ نے انڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ ’امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکے‘۔
انڈیا پر اثرات
اگر انڈیا ایران کے ساتھ تجارت روک دیتا ہے تو اس سے نہ صرف 1.68 ارب ڈالر مالیت کی دو طرفہ تجارت متاثر ہوگی بلکہ روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے ساتھ اس کی تجارت بھی زد میں آ سکتی ہے، کیونکہ ان ممالک تک انڈیا کی رسائی بڑی حد تک ایران کے راستے ممکن ہوتی ہے۔
ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع چابہار بندرگاہ انڈیا کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بندرگاہ انڈیا کو افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ براہِ راست تجارت کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈیا کو پاکستان سے گزرنے والا زمینی راستہ استعمال نہیں کرنا پڑتا۔
اسی طرح انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور بھی ایران سے گزرتا ہے جو انڈیا کو روس اور یورپی ممالک سے جوڑتا ہے۔ اس کے ذریعے انڈیا کو طویل اور مہنگے سمندری راستوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر قمر آغا نے بی بی سی ہندی کے لیے راونک بھیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر انڈیا ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھک جاتا ہے اور ایران کے ساتھ تجارت روک دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایران انڈیا کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرے گا۔ ایسی صورت میں ایران دیگر متبادل راستوں پر غور کرنے پر مجبور ہوگا، اور چین کے ساتھ اپنی قربت بڑھا سکتا ہے۔ چین کے لیے یہ خوش آئند ہوگا کہ انڈیا بڑے علاقائی تجارتی راستوں سے کٹ جائے۔‘
سابق سفارت کار انیل تریگنیت نے منی کنٹرول سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایران میں استحکام ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ انڈیا میں بھی شیعہ آبادی نمایاں ہے۔ چابہار بندرگاہ اور انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور دونوں انڈیا کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ایران میں طویل عرصے تک عدم استحکام رہا تو اس کے انڈیا کے مفادات پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا چاہتا ہے کہ تجارت اور علاقائی روابط بغیر رکاوٹ جاری رہیں۔ ایران میں کسی بھی قسم کا خلل، خاص طور پر انفراسٹرکچر یا بندرگاہوں کو متاثر کرنے والی صورتحال، انڈیا کی علاقائی لاجسٹکس اور اقتصادی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق انڈیا اور ایران نے 2015 میں چابہار میں شاہد بہشتی بندرگاہ کی ترقی کے لیے مشترکہ تعاون پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کا ہدف چابہار بندرگاہ کو ایک اہم علاقائی اور بین الاقوامی مرکز بنانا ہے، جہاں سے انسانی امداد جیسے خوراک، ادویات اور تجارتی سامان کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے۔
ماضی میں امریکہ اس منصوبے پر سخت مؤقف رکھتا تھا، تاہم حال ہی میں انڈیا کو چابہار بندرگاہ پر آپریشن جاری رکھنے کے لیے چھ ماہ کی چھوٹ دی گئی، جو 29 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔
اس استثنیٰ کو انڈیا کی ایک سفارتی کامیابی قرار دیا گیا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان نے انڈیا کے لیے ایک نیا اور سنجیدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
یہ ٹیرف کس طرح نافذ العمل ہوں گے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ 25 فیصد ٹیرف ’فوری طور پر نافذ العمل‘ ہے اور یہ حکم ’حتمی اور قطعی‘ ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ یہ فیصلہ عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے گا یا کن ممالک پر اس کا اطلاق ہو گا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ ٹیرف ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر لاگو ہو گا یا صرف اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں تک محدود رہے گا۔
اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ آیا یہ 25 فیصد ٹیکس اُن موجودہ ٹیرفس کے علاوہ ہو گا جو ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی عائد کر چکی ہے۔
امریکہ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ یہ نیا ٹیرف کس قانون کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ گذشتہ اپریل میں جن وسیع پیمانے کے ٹیرفس کا اعلان کیا گیا تھا وہ ٹیرفس انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت نافذ کیے گئے تھے۔
تاہم یہ قانون اس وقت قانونی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے اور توقع ہے کہ امریکی سپریم کورٹ بدھ تک اس پر فیصلہ دے سکتی ہے۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رہے تو امریکہ ’بری طرح پھنس جائے گا‘۔
مجوزہ ٹیرف پر عملدرآمد بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے 2024 میں تیل کی برآمدات سے اربوں ڈالر کمائے جن کے لیے اس نے ایسے خفیہ جہازوں کے بیڑے کا استعمال کیا جن کا سراغ لگانا مشکل ہے۔۔۔ اور تیل کی فروخت امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں کی گئی۔
یہ امریکہ اور چین کے تعلقات کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تنازع کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔
اگر صدر کے اعلان سے وہی مراد لی جائے جو انھوں نے لکھا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ چین سے امریکہ بھیجی جانے والی اشیا فوری طور پر نئے 25 فیصد ٹیرف کے تحت آ جائیں گی۔
تاہم بلومبرگ اکنامکس کے مطابق چینی مصنوعات پہلے ہی اوسطاً 30.8 فیصد ٹیرف کی زد میں ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا نیا ٹیرف موجودہ محصولات کے علاوہ عائد کیا جائے گا، یا اس میں کوئی رعایت دی جائے گی؟
چین ماضی میں امریکہ کے اُن اقدامات کے خلاف سخت ردِعمل دکھاتا رہا ہے جنھیں وہ غیر متناسب سمجھتا ہے۔ اس نے ایک حد تک جوابی ٹیرف عائد کیے لیکن اس سے زیادہ اہم اقدام نایاب معدنیات (ریئر ارتھس) کی برآمدات پر پابندیاں لگانا تھا، جن کی امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو شدید ضرورت ہے۔
اس وقت چین عالمی سطح پر ان معدنیات کی فراہمی پر غلبہ رکھتا ہے جو اسے اہم دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی دباؤ نومبر میں امریکہ اور چین کے درمیان ایک عارضی تجارتی سمجھوتے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوا جس سے کشیدگی میں کمی آئی۔
ایسے میں چین پر نیا 25 فیصد ٹیرف عائد کرنا انتہائی اشتعال انگیز اقدام ہو گا اور بیجنگ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ اپنے ’جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کرے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آیا یہ واقعی عملی شکل اختیار کرے گا یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں ٹرمپ کے کئی اعلانات کے اثرات ابتدائی سرخیوں کے مطابق نہیں رہے۔
ایران کی معیشت کی کیا صورتحال ہے؟
ایران کے پاس تیل کے وسیع ذخائر ہیں جو اسے دنیا کے دس بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کرتے ہیں اور یہ اس کے لیے بڑی دولت کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا۔
تاہم برسوں کی مالی بدانتظامی، تیل کی فروخت میں کمی اور سخت بین الاقوامی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ملک کی نو کروڑ 20 لاکھ آبادی میں سے بڑی تعداد خوراک اور بجلی، گیس جیسی بنیادی سہولیات کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار ہے اور حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے احتجاج کی ایک بڑی وجہ مہنگائی اور افراطِ زر ہے۔
بی بی سی کے تجزیے کے مطابق گھریلو اخراجات 2008 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہو چکے ہیں، جبکہ خواتین کے کام کرنے پر حکومتی پابندیوں کے باعث روزگار کی شرح دو دہائیاں قبل 42.4 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 37 فیصد رہ گئی ہے۔
اسی دوران مہنگائی میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے بعد اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 48.4 فیصد تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید گر گئی۔
اس سے درآمدات مزید مہنگی ہو گئی ہیں، جو اس لیے بھی زیادہ اہم ہیں کیونکہ بجلی اور پانی کے نظام میں طویل عرصے سے کم سرمایہ کاری کے باعث یہ سہولیات غیر مستحکم ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال نے خوراک سے لے کر صارفین کی اشیا تک مقامی پیداوار بڑھانے کے حکومتی دعوؤں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
دسمبر میں ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی اور ان تازہ ٹیرفس کے باعث غیر ملکی تجارت میں ممکنہ مزید کمی، اس بات کا خدشہ بڑھا رہی ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور معیشت مکمل تباہی کے اور بھی قریب پہنچ سکتی ہے۔