آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور میں خاتون اور بچی سیوریج نالے میں گرنے پر پراجیکٹ مینیجر سمیت تین اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
لاہور کے علاقے بھاٹی کے ایک مین بول میں گرنے والی خاتون اور ان کی کمسن بیٹی کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد پراجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کے خلاف مقدمہ کیا گیا ہے۔
خاتون کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں انتظامی اہلکاروں پر ’مین ہول کھلا چھوڑ کر غفلت اور لاپرواہی‘ برتنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خاتون اور بچی کے مین بول میں گرنے کا یہ واقعہ بدھ کی شام پیش آیا تھا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاتون کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ وہ اور دیگر اہلخانہ لاہور میں اور داتا دربار کی زیارت کرنے شاہ کوٹ فیصل آباد سے آئے تھے۔
رشتہ دار کے مطابق ’بھاٹی دروازے کے قریب جس جگہ خاتون موجود تھیں وہاں اندھیرا تھا اور مین ہول پر ڈھکن بھی نہیں تھا۔‘
انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’وہاں اندھیرا تھا اور مین ہول کھلا ہوا تھا، جس کی وجہ سے خاتون بچی سمیت اس میں گر گئیں۔‘
خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی ہے، ان کی عمر 22 برس جبکہ ان کی بیٹی کی عمر نو ماہ تھی۔
ایک اور رشتہ دار کے مطابق یہ واقعہ رکشے میں سوار ہوتے ہوئے پیش آیا۔ ’وہ رکشے میں بیٹھنے لگیں، یک دم پیر پھسلا اور وہ گٹر میں گر گئیں۔‘
دوسری جانب ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کے مطابق ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو شام ساڑھے سات بجے ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاتون کی لاش بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ہی مل گئی تھی جبکہ ان کی بیٹی کی لاش جمعرات کی دوپہر لاہور کے علاقے سگیاں سے ملی۔
’جائے وقوعہ پر ایسے کوئی آثار نہیں تھے کہ یہاں کوئی گرا ہو‘
خاتون کے ایک رشتہ دار کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے بعد شک کی بنیاد پر پولیس نے لڑکی کے شوہر اور ایک کزن کو پکڑ کر تھانے میں بٹھا لیا تھا۔
ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی ’خاتون کے والد سے بات ہوئی تھی، جنھوں نے اس واقعے پر اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا۔‘
ریسکیو اہلکار کے مطابق خاتون کے والد نے کہا کہ ’یہ واقعہ کیسے پیش آ سکتا ہے؟ میری بیٹی کیسے گر گئی۔‘
ادھر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’جب واقعے کی اطلاع ملی تو اُس وقت سیوریج لائنز میں پانی کا بہاؤ زیادہ تھا اور جائے وقوعہ پر ایسے کوئی آثار نہیں تھے کہ یہاں کوئی گرا ہو۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ’یہی وجہ تھی کہ لڑکی کے خاوند اور کزن کو شک کی بنیاد پر تحویل میں لیا گیا لیکن جب سیوریج لائنز میں پانی کا بہاؤ کم ہوا اور تلاش کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تو خاتون کی لاش مل گئی۔‘
داتا دربار کے گرد علاقے میں جاری تعمیراتی منصوبہ
واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) کے ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ واقعہ ٹریفک انجینیئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) کے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا۔
واسا ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق منصوبے پر کام کے سلسلے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے مین ہولز کھولے گئے تھے۔
واضح رہے کہ اِس وقت لاہور میں داتا دربار کے ارد گرد علاقے میں وسیع پیمانے پر تعمیراتی منصوبہ جاری ہے۔
پنجاب حکومت نے گذشتہ سال نومبر میں اس منصوبے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بھاٹی گیٹ داتا دربار کی توسیع اور ری ماڈلنگ کا اعلان کیا تھا۔
پنجاب حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت داتا دربار کے سامنے موجود تجاوزات کا خاتمہ کیا جانا ہے، ملحقہ سڑکیں چوڑی کی جانی ہیں، داتا دربار اور بھاٹی چوک کے اطراف جو عمارتیں بوسیدہ ہیں یا ٹوٹی پھوٹی ہیں، ان کی تزئین و آرائش کی جانی ہے، پیدل چلنے والوں کے لیے گزر گاہیں اور انڈر پاس بھی بننے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ داتا دربار اور بھاٹی چوک سے ملحقہ علاقے میں جگہ جگہ کھدائی کی گئی ہے۔ گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر اور کمشنر لاہور بسنت کی آگاہی مہم کے لیے بھی اسی علاقے میں موجود تھے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے، جو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی جبکہ ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین اور داتا دربار توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی تمام ٹیم معطل کر دی گئی ہے۔ پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گی ہے۔