تھرڈ امپائر کی ’کنفیوژن‘ اور صائم ایوب کی تعریفیں: سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی فتح میں کیا ہوا؟

دو ہزار چھ سو اور 50 دن۔ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں فتح حاصل کرنے میں اتنا عرصہ لگا ہے۔

امپائرز کے فیصلوں اور ان میں سامنے آنے والی کنفیوژن کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بولنگ تک پہلے ٹی ٹوئینٹی میچ میں دیکھنے کو بہت کُچھ تھا۔

پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں مہمان ٹیم آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دے دی۔

لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اور مقررہ 20 اوورز میں آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 169 رنز کا ہدف دیا۔

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ گرین شرٹس کی جانب سے صائم ایوب 40 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز کے طور پر سامنے آئے۔

پاکستان کی اننگز

آسٹریلیا کے خلاف اننگز کے آغاز پر پاکستان کے اوپنگ بلے باز صاحبزادہ فرحان میچ کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

فرحان کے آؤٹ ہو جانے کے بعد صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی۔ تاہم 74 کے مجموعی سکور پر صائم ایوب 40 رنز بناکر آؤٹ ہو گئے۔

صائم کے آؤٹ ہو جانے کے بعد سلمان علی آغا 39، بابر اعظم 24، فخر زمان 10، عثمان خان 18، شاداب ایک اور شاہین صفر پر آؤٹ ہوئے۔

محمد نواز 15 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ یوں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کے ایڈم زمپا نے 24 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ بارٹلیٹ اور بیئرڈمین نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی ٹیم کی جانب سے ٹیم کی قیادت ٹریوس ہیڈ کر رہے ہیں جب کہ تین کھلاڑیوں نے ڈیبیو کیا جن میں ماہلی بیئرڈمین ، جیک ایڈورڈز اور میتھیو رنشا شامل ہیں۔

آسٹریلیا کی انگز

آسٹریلیا کی جانب سے اننگز کا آغاز تو تیز تھا مگر دوسرے ہی اوور میں میتھیو شارٹ 21 کے مجموعی سکور پر پانچ رنز بنا کر صائم ایوب کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

اوپنر میتھیو شارٹ کے آؤٹ ہو جانے کے بعد چوتھے اوور میں ٹریوس ہیڈ کو بھی صائم ایوب نے آؤٹ کیا جن کا کیچ باؤنڈری پر کھڑے بابر اعظم نے لیا۔ ان دو کھلاڑیوں کے آؤٹ ہو جانے کے بعد کوئی بھی کھلاڑی جم کر پاکستانی باؤلنگ کا سامنا نہیں کر سکا اور ایک کے بعد ایک آسٹریلوی کھلاڑی پویلین لوٹتا رہا۔

میتھیو رینشا 15 رنز، کوپر کونولی صفر، مچل اوون آٹھ، کیمرون گرین 36، جیک ایڈورڈز پانچ، اور جوش فلپس 12 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور ابرار احمد نے دو دو جبکہ شاداب خان اور محمد نواز نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

میچ کے دوران امپائرنگ زیرِ بحث رہی

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے پہلے ٹی ٹوئینٹی میچ میں امپائرنگ اور امپائرز کے فیصلوں میں کنفیوژن پر بھی سوشل میڈیا پر بہت بات ہوتی رہی۔ بابر اعظم کے لیگ بیفور وکٹ یعنی ایل بی ڈبلیو کے فیصلے پر بھی ایکس صارفین نے تنقید کی۔

ایکس پر مارک پوئلس نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا میچ میں تھرڈ امپائر واقعی مذاق لگ رہا تھا! انھوں نے ایل بی ڈبلیو کے فیصلے میں درست نتیجہ دینے کے لیے پورے پانچ منٹ لگا دیے۔ پھر انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ گیند آف سٹمپ کے باہر پڑ رہی ہے یا لیگ کے باہر۔ آخر میں انھوں نے امپائر کو اپنے ’ناٹ آؤٹ‘ کے فیصلے پر قائم رہنے کو کہا حالانکہ وہ بالکل واضح طور پر آؤٹ تھے۔‘

پھر ایک اور ایکس صارف ربانی مسعود نے بالنگ اینڈ پر بالر کے ہاتھ سے لگ کر وکٹوں میں بال کے لگنے اور اس کے لیے فیصلہ تھرڈ امپائر کے پاس جانے سے متعلق لکھا کہ ’میرا خیال ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ تھرڈ امپائر نے رن آؤٹ کے فیصلے کے لیے ’الٹرا ایج‘ کا استعمال کیا ہے اور یہ بھی پہلی بار ہے کہ اسے اس وقت لاگو کیا گیا جب گیند بیٹ کے بجائے ہاتھ کو چھو رہی تھی۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ تھرڈ امپائر بظاہر ’کنفیوزڈ‘ نظر آ رہے ہیں۔

ایکس پر فخر زمان کی کار کردگی پر بھی بات ہوئی یاد رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں فخر زمان 16 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

فخر زمان کے آؤٹ ہو جانے پر عمران صدیقی نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’جب ہم نے یہ بات کی تھی کہ فخر زمان کو ورلڈکپ کی ٹیم میں سلیکٹ کیا جائے گا؟ ان کی فارم بہت خراب ہے تو بہت سے لوگ بات کررہے تھے کہ ہونا چاہیے، پاکستان کے لیے ورلڈ کپ میں یہ فیصلہ غلط ثابت ہوسکتا ہے۔‘

اُنھوں نے مزید لکھا کہ ’فخر زمان کو آنے والے دونوں میچز میں پرفارم کرنا ہوگا اور اعتماد بحال کرنا ہوگا ورنہ ورلڈ کپ میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ فخر زمان رنز نہیں کررہے بات یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر فارم میں نہیں نظر آرہے۔‘

فخر زمان کے ساتھ ٹیم میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صائم ایوب کا ذکر بھی ہوا۔ ایکس صارف مظہر ارشد نے لکھا کہ ’صائم ایوب نے شاندار آغاز کیا اور 22 گیندوں پر 40 رنز بنائے، صائم ایوب نے مُشکل وقت میں شاندار بیٹنگ کی۔ تاہم پاکستان آخری آٹھ اوورز میں صرف 58 رنز ہی بنا سکا۔‘