شام میں خود کو ’غیر محفوظ‘ سمجھنے والے افراد جو اسرائیلی شہریت چاہتے ہیں

    • مصنف, فراس کیلانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی

’اب میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔۔۔‘ یہ کہنا ہے لَیث ابو صالح کا۔

اُن کے سامنے پڑی میز پر ایک فٹبال رکھا ہے جس پر 12 بچوں کے نام اور اُن کی تصاویر چھپی ہوئی ہیں۔ یہ سب بچے جولائی سنہ 2024 کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان میں ان کا 15 سالہ بیٹا فجر اور 15 سالہ بھتیجا حازم بھی شامل تھے۔

یہ دونوں بچے اسرائیلی قبضے والی گولان کی پہاڑیوں کے ایک علاقے مجدل شمس میں فٹبال کھیل رہے تھے۔ کھیل کے دوران اچانک ایک راکٹ میدان پر آ گرا اور لمحوں میں خوشی کا منظر ماتم میں بدل گیا۔ اسرائیل نے الزام لگایا کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ نے کیا، مگر حزب اللہ نے اس کی تردید کی۔

تاہم اسی وقت حماس کے میڈیا ذرائع نے اعلان کیا کہ انھوں نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ داغے ہیں جو کھیل کے میدان سے محض دو میل کے فاصلے پر تھا۔

گولان کی پہاڑیاں اسرائیل نے سنہ 1967 میں شام سے قبضے میں لی تھیں اور سنہ 1981 میں یکطرفہ طور پر انھیں اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ دنیا نے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا سوائے اس وقت کے جب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے سنہ 2019 میں اس کے حق میں بات کی۔

یہاں پیدا ہونے والے شامی شہریوں کو اسرائیل کی جانب سے مستقل رہائش کے کاغذات دیے جاتے ہیں۔ لیکن سنہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے نئے یا تجدید شدہ دستاویزات حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

بچوں کی ہلاکت اور اپنے پیاروں کو کھو دینے کا یہ دُکھ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے علاقے کی بے بسی کی کہانی ہے۔ ایک فٹبال پر چھپی 12 تصویریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جنگ کے کھیل میں سب سے زیادہ قیمت معصوم بچے چکاتے ہیں۔

دسمبر سنہ 2024 میں اپنے بیٹے کی موت کے چند ماہ بعد لَیث ابو صالح نے ایک اہم فیصلہ کیا۔ انھوں نے اب اسرائیل کے ساتھ اپنے جزوی تعلق کو ایک جانب رکھ کر مکمل طور پر اسرائیلی شہریت کے لیے درخواست دی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اُس جانب رہنا پسند کروں گا کہ جو طاقتور ہو اور مجھے تحفظ دے سکے۔‘

یہ فیصلہ صرف ان کا ذاتی قدم نہیں بلکہ ایک بڑھتے ہوئے رجحان کی علامت ہے۔ مجدل شمس جو گولان کی پہاڑیوں کے چار دیہات میں سے ایک ہے تقریباً 26 ہزار عربی بولنے والے دروز مذہبی و نسلی گروہ کا گھر ہے۔

دروز زیادہ تر شام، اسرائیل اور لبنان میں رہتے ہیں اور ان کا تعلق مذہبِ اسلام کے شیعہ فرقے کی ایک شاخ سے ہے جس کی اپنی منفرد شناخت اور عقائد ہیں۔

گولان کی پہاڑیوں میں تقریباً 20 ہزار اسرائیلی بھی آباد ہیں ان بستیوں کو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

گذشتہ برسوں میں دروز برادری کے افراد نے اسرائیلی شہریت لینے سے گریز کیا تھا۔ سنہ 1981 میں جب اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنے قوانین نافذ کیے تو شدید احتجاج ہوا۔ اس وقت دروز رہنماؤں نے ایک دستاویز تیار کی تھی جس میں اپنی شامی شناخت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ جو بھی اسرائیلی شہریت قبول کرے گا اس سے مذہبی اور سماجی تعلق ختم کر دیا جائے گا۔

لیکن وقت کے ساتھ حالات بدلنے لگے۔ اسرائیلی وزارت داخلہ کے مطابق سنہ 2025 میں 2540 دروز افراد نے شہریت کے لیے درخواست دی، جو گذشتہ پانچ برسوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے اور سنہ 2024 کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ہے۔ جب صرف 550 درخواستیں دی گئی تھیں۔ اب اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق گولان کی پہاڑیوں میں 32 فیصد دروز اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں۔

حایل ابو جبل جو اُس تاریخی دستاویز کے پانچ مصنفین میں سے ایک تھے کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں جو چند افراد شہریت کے لیے درخواست دیتے تھے وہ صرف سفر اور دنیا سے تعلق قائم رکھنے کے لیے ایسا کرتے تھے۔ لیکن آج یہ عمل کھلے عام اور بڑی تعداد میں ہو رہا ہے۔‘

یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں میں دروز برادری اپنی شناخت اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایک طرف شامی وابستگی اور اپنی شناخت تو دوسری جانب اپنا اور اپنے پیاروں کا تحفظ۔ یہی کشمکش آج اس خطے کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

لَیث ابو صالح کے لیے وہ حملہ جس میں اُن کا بیٹا مارا گیا، ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ جب خطرے کا الارم بجا تو بچوں کو پناہ گاہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا، لیکن راکٹ اس سے پہلے ہی بچوں کے درمیان کھیل کے میدان میں آ گرا۔ ابو صالح جب وہاں پہنچے تو ان کا بیٹا فجر زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ یہی صدمہ انھیں اسرائیلی شہریت کی طرف لے گیا۔

حایل ابو جبل جو دروز برادری میں ایک رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ ’سابق شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار چھوڑنے کے بعد میں السویدا شہر کے واقعات نے گولان کی دروز کمیونٹی میں خوف کی فضا کو مزید بڑھا دیا۔ ان کے مطابق اب زیادہ تر درخواستیں ’تحفظ کے لیے‘ دی جا رہی ہیں نہ کہ اسرائیلی شہریت کی خواہش سے۔

مریم (فرضی نام) جنھوں نے مارچ سنہ 2025 میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ شہریت کے لیے درخواست دی، اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ انھوں نے ابھی تک اپنے خاندان کو اس فیصلے کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’وہ بشار الاسد کے ہٹائے جانے کے حامی افراد میں شامل تھیں، لیکن کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا جانشین ’ایسا دہشت گرد‘ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے میری سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔۔۔ میں اس ملک کو فی الحال اپنا وطن نہیں سمجھ سکتی۔‘

شام کی سیاست ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ احمد الشراع جو کبھی اسلام پسند مسلح گروہ ’حیات تحریر الشام‘ کے سربراہ تھے دسمبر سنہ 2024 میں دمشق پر قبضہ کر کے ملک کے نئے صدر بن گئے۔ یہ وہی گروہ ہے جو ماضی میں ’النصرہ فرنٹ‘ کے نام سے القاعدہ کا اتحادی تھا لیکن الشراع نے سنہ 2016 میں اس تعلق کو ختم کر دیا تھا۔

ان کی قیادت میں دمشق میں حکومت کا ختم ہونا نہ صرف شام کے اندرونی منظرنامے کو بدل گیا بلکہ اس نے خطے کی جغرافیائی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈالے۔ دمشق کے قبضے کے بعد اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں سے اپنی زمینی افواج مشرق کی طرف بڑھا دیں اور شام کے غیر عسکری بفر زون میں داخل ہو کر کئی دروز قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ قصبے اس سڑک پر واقع ہیں جو براہِ راست جبل الشیخ (ماؤنٹ ہرمون) کی چوٹی تک جاتی ہے جہاں سے دمشق صاف دکھائی دیتا ہے۔

اسرائیل کی خواہش ہے کہ گولان کے مشرق میں واقع شام کے جنوبی صوبے السویدا، درعا اور قنیطرہ مکمل طور پر ایک غیر عسکری زون میں شامل کر دیے جائیں۔ شام اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج فوری طور پر ان پوزیشنز پر واپس جائیں جن کا تعین بشار الاسد کی حکومت کے دوران کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو بارہا اس بات کا اظہار کر چُکے ہیں کہ وہ شام کی دروز اقلیت کا دفاع کریں گے۔ مریم (فرضی نام) جو گولان کی دروز برادری سے تعلق رکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان کی کمیونٹی کو شام کی حکومت سے زیادہ تحفظ فراہم کرے گا۔ ان کے خیال میں السویدا کے واقعات اُن کے اس خیال اور سوچ کو تقویت دیتے ہیں، جہاں جولائی سنہ 2025 میں دروز اور بدو قبائل کے درمیان پرانی کشیدگی خونریز فرقہ وارانہ جھڑپوں میں بدل گئی۔

شامی سرکاری افواج تعینات تو ہوئیں لیکن ان پر الزام لگا کہ انھوں نے نہ صرف دروز جنگجوؤں بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے یہ کہتے ہوئے فضائی حملے کیے کہ ان کا مقصد دروز برادری کا تحفظ ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف السویدا میں ہی ایک ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مریم (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ’شام اب اُن کا وطن نہیں رہا اور دروز ہونا گویا مارے جانے کی وجہ بن گیا ہے۔‘

یہی خوف اس برادری کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ جہادی گروہوں کے حملوں کا خطرہ بھی ان کے لیے مستقل تشویش کا باعث ہے۔ اسی خوف نے کچھ نوجوان دروز مردوں کو اسرائیلی شہریت حاصل کرنے کے بعد اسرائیلی فوج میں شامل ہونے کے متنازعہ فیصلے پر مجبور کیا۔

مجدل شمس کی مقامی کونسل کے سربراہ دولان ابو صالح کہتے ہیں کہ ’یہ سب اپنے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اب گولان کی پہاڑیوں کے قصبوں کے مضافات میں دروز مردوں کو وردی پہنے اور ہتھیار اٹھائے گشت کرتے دیکھنا ایک عام منظر بن چکا ہے۔‘

اسرائیلی فوج یہ ظاہر نہیں کرتی کہ کتنے شامی دروز اس کی حمایت میں لڑ رہے ہیں یا کتنے افراد نے اُن کے ساتھ شامل ہونے کی درخواست دی ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود کہ کچھ افراد فوج میں جا چکے ہیں، حایل ابو جبل کا کہنا ہے کہ یہ خدمت دروز برادری کے لیے فائدہ مند نہیں۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم نیتن یاہو کا مقصد صرف شامی معاشرے کے مختلف حصوں میں مزید تقسیم پیدا کرنا ہے۔

ابو جبل اور دیگر دروز رہنما آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں ’گولان عرب ہے اور شامی ہے۔‘

بی بی سی نے شامی حکومت سے گولان کی پہاڑیوں میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی شہریت کی درخواستوں، مقامی باشندوں کے خدشات اور ان سے کسی قسم کی بات چیت کے بارے میں موقف جاننے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

اپنے بیٹے کی موت کو ایک سال سے زیادہ گزرنے کے بعد لَیث ابو صالح ہمیں اپنے کمرے میں لے گئے۔ وہاں ایک دیوار پر کرسٹیانو رونالڈو کی دستخط شدہ فٹبال شرٹ لٹکی ہے، جو ان کے بیٹے کی یادگار ہے۔ ابو صالح بتاتے ہیں کہ وہ ایک اچھا طالب علم تھا اور کھیلنے کا بے حد شوقین تھا۔‘

ابو صالح اسرائیلی شہریت کی درخواست کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت ان کے لیے ’ذاتی آزادی کا معاملہ‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہماری وابستگی زمین سے ہے اور شہریت زمین کو نہیں بدلتی۔ لیکن ہمیں ایک شناخت چاہیے۔ ہم دہائیوں سے اس الجھن میں جی رہے ہیں کہ ہم شامی ہیں یا اسرائیلی اور اب وہ نسلیں جو قبضے کے بعد پیدا ہوئیں وہ کہتی ہیں کہ ’میں زندہ نہیں رہ سکتا جب تک کہ اس (اسرائیلی) ریاست کا حصہ نہ بنوں۔‘

ان کا آخری پیغام والدین کے نام ہے چاہے وہ دروز، مسیحی، مسلمان یا کوئی اور ہوں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’اپنے بچے کو جینے کے لیے تیار کریں، مرنے کے لیے نہیں۔‘