کریئر بریک: ’پیدائش کے بعد عورت کام جاری رکھے تو کہا جاتا ہے تم بچے چھوڑ کر کام پر چلی جاتی ہو‘

پاکستان
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

بیماری، شادی، ماں بننا اور کام سے تھک جانا چند ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر کئی خواتین اپنے کریئر سے کچھ عرصے کے لیے بریک (وقفہ) لینے کا سوچتی ہیں۔

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کل کام سے بریک لینے کو اتنا بُرا نہیں سمجھا جاتا جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔

لیکن پاکستان میں موجود خواتین کن وجوہات کی بنیاد پر کریئر بریک لیتی ہیں؟ اور کیا ان کے لیے وقفے کے بعد دوبارہ کام شروع کرنا آسان ہوتا ہے؟ بی بی سی نے یہی سوال چند خواتین سے پوچھ کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان کا کام سے وقفہ لینے کا تجربہ کیسا رہا۔

عاتکہ خان لاہور کی رہائشی ہیں اور ایک کارپوریشن میں کام کرنے سے پہلے وہ پاکستان کے ایک صحافتی ادارے سے وابستہ تھیں۔

اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کے بعد انھوں نے اپنے کریئر سے نہ صرف بریک لے لی بلکہ دوبارہ کام شروع کرنے پر بالکل ایک مختلف شعبے کا انتخاب کیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پہلے میں کام سے بہت دیر سے فارغ ہوتی تھی۔ اور اب اس نئی جگہ پر ڈے کیئر ہے جو پہلے والی جاب میں نہیں تھا۔‘

کریئر بریک لینے سے پہلے کن مشکلات کا سامنا تھا؟

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبیماری، شادی، ماں بن جانے اور کام سے تھک جانے پر کئی خواتین اپنے کریئر سے بریک لینے کا سوچتی ہیں

اپنے کام یا پروفیشن میں ایک مقام پر پہنچنے کے بعد بریک لینا عام طور پر آسان فیصلہ نہیں ہوتا اور مستقبل میں اس مشکل فیصلے کے اثرات اور ان سے متعلق بہت سے سوالات ذہن میں ہوتے ہیں۔

اسی پر بات کرتے ہوئے عاتکہ خان نے کہا کہ ’اگر آپ کسی بھی مقصد سے بریک لیتی ہیں تو یہ خوف رہتا ہے کہ واپس کام پر آ سکوں گی یا نہیں اور کیا باقیوں سے پیچھے رہ جاؤں گی۔‘

اسی پر بات کرتے ہوئے کراچی کی رہائشی اور صحافی زیب النِسا برکی نے کہا ’اس وقت پوری دنیا ہی کام سے وقفہ لینے کے خلاف ہے، تو آپ کو خوف ہوتا ہے کہ وقفہ لینے سے کہیں آپ کے کام کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔‘

’بریک لیتے وقت سوچ رہے ہوتے ہیں کہ پیچھے نہ رہ جائیں‘

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عاتکہ نے 2013 میں بریک لی تھی اور زیب النِسا برکی نے 2012 میں، جس دوران وہ شادی کر کے لاہور سے امریکہ چلی گئی تھیں۔ ان دونوں خواتین کا بریک لینے کا مقصد شادی کرنے یا بچے کی پیدائش سے جڑا تھا۔

عاتکہ نے مزید بتایا ’میں اور میرے شوہر دونوں متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے ماں باپ کی طرف سے کوئی جائیداد یا پیسے نہیں ملے تھے اور ہم نوکری کے ذریعے ہی گزارا کرتے تھے۔ مجھے یہ فکر تھی کہ اگر میں کریئر بریک لوں گی تو اس کا ہماری معاشی صورتحال پر کیا اثر پڑے گا۔‘

جبکہ اسلام آباد کی رہائشی ماہا علی نے بھی اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد کام چھوڑ دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’شروع میں میں یہ سوچ رہی تھی کہ کتنی لمبی بریک ہونی چاہیے، اور بچے کو میری کتنی ضرورت ہے۔ پھر یہ بھی کہ مجھے کام پر جانے کی کتنی ضرورت ہے۔ آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آپ پیچھے رہ جائیں گے۔‘

کریئر بریک سے آنے کے بعد کن مشکلات کا سامنا تھا؟

بی بی سی کے سوال پر زیب النِسا نے بتایا کہ دوبارہ جاب میں آنے سے پہلے ان کے لیے صورتحال آسان نہ تھی۔

’جب میں واپس آئی تو لگا ایک قدم نیچے آئی ہوں۔ جب میں نے واپس جوائن کیا تو میں ایک نئے شہر(کراچی) میں آئی تھی۔ تو اگر میں نے وہ کریئر بریک نہ لی ہوتی تو جہاں میں آج ہوں وہاں میں پانچ سال پہلے پہنچ چکی ہوتی۔‘

جبکہ عاتکہ کے لیے کام سے وقفہ لینے کا تجربہ بہت خوشگوار رہا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کا میری زندگی پر بہت بڑا اورمثبت اثر پڑا کیونکہ اب میرے کام کے اوقات اچھے تھے۔ میں پانچ بجے تک گھر پہنچ جاتی ہوں۔ اور اپنے بچے کو وقت دی سکتی ہوں۔ میڈیا میں کام کرنے کے دوران مجھ سے سب ناراض رہتے تھے۔‘

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشادی یا بچہ پیدا ہونے کے بعد ساری توقعات خواتین سے ہی ہوتیں ہیں اس لیے دونوں کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے

کریئر بریک کے حوالے سے مرد اور خواتین کا تجربہ مختلف کیوں؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ماہا علی کا کہنا ہے کہ انھوں نے بہت کم مردوں کو بریک لیتے دیکھا ہے۔

’مرد وخواتین کا کریئر بریک لینے کے تجربے میں فرق اس لیے بھی ہے کہ کبھی کبھار مرد بریک لینے کا رِسک نہیں لے سکتے تاہم معاشی صورتحال کے پیشِ نظر عورتوں کے لیے بھی بریک کے بعد کام ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا مردوں کا۔‘

زیب النِسا کے مطابق شادی یا بچہ پیدا ہونے کے بعد ساری توقعات خواتین سے ہی ہوتیں ہیں اس لیے دونوں کے لیے تجربہ محتلف ہو سکتا ہے۔

’اگر آپ کا بچہ ہوا ہے تو یا آپ گھر پر بیٹھیں گی یا آپ ذمہ دار ہوں گی کہ آپ کے کام کی جگہ بچے کا خیال بھی رکھ سکیں۔ اگر ایسی جگہ موجود ہے تو کیا بات ہے، پھر آپ کام پر جا سکتی ہیں‘

انھوں نے کہا ’میں نے بہت کم سنا ہے کہ کوئی باپ سوچ رہا ہو کہ او ہو! اب کیا ہو گا۔ میرا بچہ پیدا ہو گیا اور میرے کام کی جگہ پر ڈے کیئر نہیں ہے۔ تو نوکری چھوڑنی پڑے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے:

کبھی لگا کہ بریک لے کر غلطی کر لی؟

یہاں ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا بریک لینے والے سوچتے ہیں کہ انھوں نے یہ قدم اٹھا کرغلطی کرلی؟

اس سوال کے جواب میں عاتکہ نے کہا ’مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ میں نے بریک لے کر صحیح کیا ہے۔ کبھی کبھار حالات ایسے ہوتے ہیں کہ دل ایک چیز کرنے کو چاہ رہا ہوتا ہے لیکن آپ کو زبردستی مشکل فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔‘

ماہا نے اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے کہا ’عجیب بات ہے لیکن اگر کوئی عورت گھر پر ہو تو دوسری عورتیں اسے کہتی ہیں کہ تم تو گھر پر بیٹھی رہتی ہو۔ اور اگر عورت (بچے کی پیدائش کے بعد) کام جاری رکھے تو کہا جاتا ہے کہ تم بچوں کو چھوڑ کر کام پر چلی جاتی ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی خاتون کام سے بریک لینا چاہے تو لے سکتی ہے۔ اور اس دوران اگر اسے کام سے نکال دیا جائے تو یہ قانوناً جرم ہے۔ آپ سب سے پہلے اپنا سوچیں پھر کسی اور کا۔‘