ورکنگ ویمن: مرد سے زیادہ کمانے کے باوجود خواتین کو گھر میں زیادہ کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کیٹی بشپ
    • عہدہ, بی بی سی فیچر

جب ایرن نے پہلی بار اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنا شروع کیا تو دونوں نے گزر اوقات کے لیے ایسی ملازمتوں سے کیریئر کی ابتدا کی جہاں ملنے والی اجرت کچھ زیادہ نہیں تھی۔

ایرن کسٹمر سروس میں پارٹ ٹائم کام کرنے والی طالبہ تھیں جبکہ اُن کا بوائے فرینڈ ایک شیف (باورچی) کے طور پر کام کرتا تھا۔ ایرن کے بوائے فرینڈ کے بقول انھوں نے سنہ 2020 میں مقامی حکومت میں اپنی پہلی نوکری حاصل کر کے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 27 سال کی ایرن اب اپنے ساتھی سے نمایاں طور پر زیادہ کماتی ہیں۔

شمالی برطانیہ کے شہر یارکشائر میں رہنے والی ایرن کہتی ہیں کہ ’پہلے دن جب مجھے یہ فون آیا کہ مجھے نوکری مل گئی ہے تو ہم (میں نے اور میرے بوائے فرینڈ) نے فوراً تنخواہ کے بارے میں بات کی۔ میں نے سوچا کہ اگر میں اسے یہ بتا دوں کہ میں زیادہ کما رہی ہوں تو اُسے (میرے بوائے فرینڈ کو) بُرا لگے گا لیکن وہ میری زیادہ تنخواہ سے خوش نہیں تھا۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ میں خوش رہوں۔‘

اگرچہ خواتین کے لیے اپنے پارٹنرز سے زیادہ کمائی کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن ایرن جیسی خواتین (جو اپنے شوہر یا پارٹنر سے زیادہ کماتی ہیں) کی تعداد اب بھی کم ہے۔

برطانیہ میں سنہ 2019 میں صرف 26 فیصد خواتین کی آمدن ان کے اپنے پارٹنر زیادہ تھی اور امریکہ میں ایسی خواتین کی تعداد تقریباً 30 فیصد تھی۔ یہ شاید ہی حیران کُن ہو کیونکہ کام کرنے والی خواتین اب بھی اوسطاً مردوں کے مقابلے میں 16 فیصد کم کماتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایرن اور اُن جیسی خواتین اس بارے میں بات چیت کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں کہ ان کا ساتھی ان کی زیادہ آمدن کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے اور اس وجہ سے کسی بھی منفی جذبات یا مردانہ برتری میں کمی کے احساسات سے انھیں کیسے محفوظ رکھتا ہے۔

یہ ایسی بات چیت ہے جس کی ضرورت شاید اس وقت محسوس ہی نہ ہو اگر مرد اپنی بیوی یا پارٹنر سے زیادہ کماتا ہو۔

خواتین کی کمانے کی طاقت میں بہت سے مواقع پر اضافہ ہو سکتا ہے، پھر بھی خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین کے ساتھ عمومی رویہ اب بھی کافی پسماندہ ہے۔ گھر سے باہر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی خواتین جو اپنے پارٹنر سے زیادہ کماتی ہیں، انھیں اپنے گھروں میں روایتی عورتوں کی طرح دیگر ’محنت‘ طلب کام بھی کرنے پڑتے ہیں، جیسے گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال، وغیرہ۔ اس وجہ سے انھیں مسلسل ضرورت سے زیادہ کام کرنے، دباؤ میں رہنے اور منفی جذبات اور تاثرات سے اپنے پارٹنر کے ساتھ رہنے کی شراکت کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

یہ سب کچھ ایسی خواتین کے لیے کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے پتگ چلتا ہے کہ کمانے والی خواتین کی شادیوں کا طلاق پر ختم ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسا ہونا ضروری نہیں۔

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کمانے والی خواتین پر گھریلو کاموں کا بوجھ

تاریخی طور پر مرد تقریباً ہمیشہ ہی اپنی بیویوں یا پارٹنرز سے زیادہ کماتے ہیں۔ خواتین، جو اکثر افرادی قوت سے مکمل طور پر خارج ہوتی ہیں، اس کی بجائے گھریلو کام کاج اور بچوں کی پرورش سمیت گھر کے امور کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔

لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ جب سے خواتین بڑے پیمانے پر افرادی قوت میں داخل ہوئی ہیں گھریلو فرائض میں عدم توازن کو حقیقی طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ جب خواتین اپنے (مرد) ساتھیوں سے زیادہ پیسہ کماتی ہیں تب بھی انھیں ہی گھر کے کام کاج زیادہ کرنے پڑتے ہیں۔

کچھ محققین نے دریافت کیا ہے کہ برطانیہ میں 45 فیصد خواتین اب بھی زیادہ تر گھریلو کام انجام دیتی ہیں، اس کے مقابلے میں صرف 12.5 فیصد مرد کمانے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کاج کرتے ہیں اور یہ کہ اوسطاً خواتین خاندان کی کفالت کرنے والے پورے کام کے ساتھ گھر کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔

مزید برآں، آسٹریلیا اور امریکہ میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگرچہ خواتین نے اپنی کمائی بڑھنے کے ساتھ گھر کے کام کاج میں کمی کی لیکن یہ بات صرف ایک حد تک درست تھی۔ محققین نے پایا کہ ایک بار جب خواتین نے اپنے پارٹنر سے زیادہ کمانا شروع کیا تو جوڑے اکثر زیادہ روایتی اپنے صنفی کرداروں کی طرف لوٹ جاتے ہیں، خواتین گھریلو کام کاج میں غیر متناسب حصہ لینے لگتی ہیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن (یو سی ایل) کے سکول آف مینجمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رائینا برانڈز کہتی ہیں کہ ’ایسا محسوس کرنا کہ ہم معاشرے کی توقعات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں یعنی یہ کہ عورت یا مرد ہونے کا کیا مطلب ہے، یہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’کام کرنے والی خواتین یہ محسوس کرنے پر مجبور ہیں کہ انھیں روایتی نسائی کردار ادا کرنے کے بجائے گھر سے باہر کام کرنے کی وجہ سے اپنے گھر کے کام کو دوگنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان جوڑوں کو جو بات ذہن میں رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ تکلیف کے احساسات کچھ انتہائی غیر معقول گھریلو فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں، جیسا کہ خواتین کا کم کمانے کا انتخاب کرنا یا تنخواہ والے کام کو مکمل طور پر چھوڑ دینا (جس سے گھر کی مالی حیثیت متاثر ہوتی ہے) یا گھریلو کام میں ان کے منصفانہ حصہ سے زیادہ کام کرنا۔

خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کہ کہنا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کو اپنے پارٹنر سے زیادہ کمانے کی وجہ سے گھروں پر زیادہ کام کرنا پڑت، اور اس سے ان کے اپنے خانگی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

بیرونی عوامل

لندن میں قائم فنٹیک کمپنی مرزا کے شریک بانی اور سی ای او سیرن کاو کا استدلال ہے کہ ’یہاں تک کہ جب ایک جوڑا گھر کے کاموں کو آپس میں برابری کی بنیاد پر منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنے کا بہترین ارادہ رکھتے ہوں، معاشرتی عوامل، لوگوں کی آرا اور تاثرات اُن کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔‘

تنخواہ کے فرق کی وجہ سے زیادہ کمانے والی خواتین کو اپنے گھر کے اضافی کام اور اضافی ذمہ داریاں اٹھانا پڑ سکتی ہیں۔

کاو کہتے ہیں کہ ’سکول کی انتظامیہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں اب بھی ماں کو فون کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، چاہے سکول میں بچے کی دیکھ بھال کے لیے باپ کا نام درج کرایا گیا ہو۔ مردوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ان دیکھ بھال کرنے والے صنفی اصولوں میں مداخلت کریں تاکہ انھیں والدین بننے کا موقع ملے۔‘

یہی تنہا ایک اس قسم کی صورت حال نہیں جس میں زیادہ کمانے والی خواتین کے بارے میں بیرونی تصورات کا منفی اثر پڑتا ہے۔ 24 برس کی روون اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہے اور فی الحال اپنے منگیتر سے زیادہ کمائی کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں اکثر اپنے موجودہ سیٹ اپ کے بارے میں دوسروں کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم روون کا کہنا ہے کہ ’لوگ میرے حالاتِ زندگی پر ترس کھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو قابل تعریف بات ہے کہ مجھے گھر کے کاموں کے لیے اس کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں اور یہ کہ انھوں نے یہ سیکھا ہے کہ دشمنی یا منفی سوچ اُس کو کمزور نہ کرنے پائے۔

اس قسم کی معاشرتی رائے اور لوگوں کے تاثرات بہت عام ہیں خاص طور پر زیادہ کمانے والی ماؤں کے لیے۔ سنہ 2013 کے ایک مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ 16 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایک ایسے خاندان میں بچے کی پرورش کرنا جہاں ماں بنیادی کمانے والی ہے بچوں پر منفی اثر پڑے گا اور 59 فیصد بالغ اب بھی کہتے ہیں کہ بچے بہتر ہوتے ہیں جب ان کے والدین میں سے کوئی ایک ان کے ساتھ گھر میں رہتا ہے۔

خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان میں سے 45 فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ بہتر ہے کہ گھر میں رہنے والے والدین میں سے ماں گھر پر رہے جبکہ صرف 2 فیصد نے باپ کے گھر رہنے کی حمایت کی۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہماری سوچ میں راسخ یہ نظریات سماج کو اس طرح متاثر کر سکتے ہیں کہ جوڑے اپنی کمائی کی طاقت کے بارے میں کیسے بات کرتے ہیں۔

کچھ تحقیق اس بات کی بھی تائید کرتی ہے کہ کمانے والے جوڑے خواتین کے روایتی سماجی تصور کو اتنا زیادہ اپنائے ہوئے ہیں کہ اپنی مجموعی آمدن میں مرد سے زیادہ کمائی کرنے والی عورت کی آمدن کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہیں۔

جب ایک بیوی اپنے شوہر سے زیادہ کمائی کرتی ہے، تو وہ اپنے مرد کی آمدن کو بڑھا چڑھا کر بتاتی ہیں کہ وہ کافی زیادہ کماتا ہے۔ کچھ جوڑے اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور خواتین کو فعال طور پر کام نہ کرنے کا کہتے ہیں، خاص کر ایسے جوڑوں میں جہاں ایک عورت کی آمدنی اس کے مرد ساتھی کی آمدنی سے زیادہ ہونے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے (مثال کے طور پر، اگر وہ زیادہ معاوضہ دینے والی صنعت میں زیادہ کمانے کی قابلیت رکھتی ہے)، تو پھر بھی اس کے بامعاوضہ کام کرنے کا امکان کم ہوتا ہے اور جب وہ ایسا کرتی ہے تو وہ اپنی صلاحیت سے کم کمانے کا رجحان رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک تحقیق بتاتی ہے کہ ان جوڑوں میں جہاں گھر کی کفالت کرنے والی خاتون گھر کے کام کاج میں زیادہ وقت صرف کرتی ہے حالات کشیدہ ہو جاتے ہیں

طلاق کا عنصر

زیادہ تر جوڑوں کے لیے ایسے حالات میں ان کے تعلقات کا واقعی امتحان ہوتا ہے خاص کر جب، اور اگر، ان کے بچے ہوتے ہیں۔۔۔ ایک سنگ میل (ماں بننا) جہاں تک ایرن اور روون کو ابھی تک پہنچنا ہے۔ جو جوڑے پہلے ہی اپنی کمائی کے توازن کے لحاظ سے معمول کی روایات کے خلاف جا رہے ہیں انھیں اس بارے میں اہم فیصلے کرنے چاہیے کہ آیا وہ بچوں کی دیکھ بھال کے غیر روایتی توازن کا بھی انتخاب کریں گے، یعنی کم کمانے والے والد کو بچے کی دیکھ بھال کی زیادہ ذمہ داریاں اٹھانا ہوں گی۔

اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر جوڑوں میں ایسا نہیں ہوتا - بہرحال اگرچہ برطانیہ اور امریکہ میں تقریباً ایک چوتھائی خواتین اپنے گھر کی کمائی کرنے والی بنیادی رکن ہیں لیکن 10 میں سے صرف ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی دیکھ بھال کرنے والے ہیں۔ صنفی عدم مساوات کے بہت سے پہلوؤں کی طرح ایسا لگتا ہے کہ خواتین کے ماں بننے کے بعد سب سے اہم خلا اور فیصلے سامنے آتے ہیں۔

خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کئی دہائیوں کے کام کے باوجود کچھ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جوڑوں میں اگر خاتون شریک حیات اپنے شوہر سے زیادہ کمائی کرتی ہے تو طلاق کا امکان اب بھی زیادہ ہوتا ہے۔ فیصلہ اور گھریلو کاموں کو تقسیم کرنے کی مشکلات دونوں ان تعلقات کے پیچیدہ عوامل میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ جو مرد اپنی خاتون ساتھی سے کم کماتے ہیں ان میں دھوکہ دہی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ مردانہ پن کو بحال کرنے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ صنفی شناخت اور ایسے جوڑوں میں جہاں کمانے والی خواتین گھریلو کاموں میں زیادہ وقت صرف کرتی ہیں، ازدواجی عدم اطمینان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں خواتین نے صنفی تعصبات پر قابو پانے کے لیے سخت جدوجہد کی ہے، اس میں خاندان کی کفالت کرنے والی اور مرد سے زیادہ سے کمانے والی خواتین کی دنیا تاریک نظر آ سکتی ہے لیکن برانڈز کا استدلال ہے کہ جوڑوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بڑے اعدادوشمار میں نہ پھنسیں اور اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ ان کے لیے ان کا آپس کا رشتہ کس طرح منصفانہ ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'اہم بات یہ ہے کہ صنفی کردار مقدر نہیں۔ جو جوڑے غیر روایتی انتظامات کی تکلیف سے گزرتے ہیں اور مالی تعاون کے حوالے سے گھریلو کاموں کی منصفانہ تقسیم پر بات چیت کرتے ہیں، ان کے بھی وسیع تر معنوں میں برابری حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں یعنی عورت اور مرد دونوں کو مالی تحفظ اور آزادی حاصل ہوتی ہے، جو ان کو اس قابل بنائے گی جس سے وہ بامعنی کیریئر کو آگے بڑھانے اور اپنے کیریئر اور خاندانی زندگی دونوں میں توازن پیدا کریں۔

ایرن اور روون کے آخری نام رازداری کی وجوہات کی بنا پر پوشیدہ رکھے جا رہے ہیں۔