مغربی ممالک میں خواتین میں طلاق لینے میں پہل کرنے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کیٹی بشپ
- عہدہ, بی بی سی
اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ اکثر خاصا مشکل ہوتا ہے اور جوڑے اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مہینوں اور کبھی کبھی کئی برس سوچ و بچار کرتے ہیں لیکن جب اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ لینے کا وقت آتا ہے تو اس بارے میں ایک واضح رجحان پایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں طلاق لینے میں خواتین کا ایک بڑا تناسب زیادہ تر پہل کرتا ہے۔
خاص طور پر امریکہ میں، جہاں 50 ریاستوں میں شادی ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں میں اثاثوں کی مساوی تقسیم کا قانون موجود ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق امریکہ میں شرحِ طلاق 70 فیصد ہے۔ خواتین کالج گریجویٹ ہوں، تو یہ شرح 90 فیصد کی حیران کن سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 میں انگلینڈ اور ویلز میں 62 فیصد خواتین نے طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔
اب کچھ مغربی ممالک میں طلاق لینا آسان ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں حال ہی میں نو فالٹ ڈائیورس (شادی ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں میں اثاثوں کی مساوی تقسیم) کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جوڑے اب آسانی سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ قوانین میں یہ تبدیلی اب ان خواتین کے لیے بھی دروازے کھول سکتی ہے، جو اس سے قبل شاید طلاق لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد طلاق لینے میں پہل کیوں کر رہی ہیں؟
کچھ خواتین کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اُن کے شوہر ان کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے لیکن کچھ خواتین کے لیے طلاق لینے کی وجوہات خاصی پیچیدہ بھی ہو سکتی ہیں۔
خود مختاری اور آزادی کی اہمیت
زیادہ تر معاشروں میں طلاق نسبتاً ایک نیا رجحان ہے۔
سنہ 1914 سے پہلے تک برطانیہ میں طلاق بالکل بھی عام نہیں تھی اور 19 ویں صدی کی پہلی دہائی میں ہر 450 شادیوں میں سے صرف ایک میں طلاق ہوتی تھی۔ اب برطانیہ میں ہر برس ایک لاکھ سے زیادہ جوڑے طلاق لیتے ہیں جبکہ امریکہ میں تقریباً نصف شادیوں کا اختتام طلاق پر ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں ایجوکیشن ڈویلپمنٹ سینٹر سے وابستہ ماہر نفسیات ہیدی کار کہتی ہیں کہ ’یہ کوئی محض اتفاق نہیں کہ طلاق کی بڑھتی شرح کا خواتین کی آزادی سے گہرا تعلق ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں کہ ’خواتین کے لیے شادی ختم کرنے سے پہلے معاشی خودمختاری ایک اہم عنصر ہے، چاہے وہ اکیلی ہوں یا ان کے ساتھ بچے بھی ہوں۔ گر ان کے پاس خود پیسے کمانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو خواتین کے لیے شادی ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب خواتین خود کمانا شروع کر دیتی ہیں تو صنف سے وابستہ معاشرتی ذمہ داریاں پیچیدہ ہو جاتی ہیں اور فطری طور پر شادی شدہ زندگی میں مسائل شروع ہونے لگتے ہیں۔‘
دوسرے الفاظ میں خواتین کا کام کرنا انھیں ناخوش شادیوں سے نکلنے میں مدد کرتا ہے اور وہ معاشی طور پر پرتشدد بندھنوں میں رہنے کی پابند نہیں رہتیں اور پھر خواتین بڑے پیمانے پر طلاق کی جانب بڑھتی ہیں۔
ہیدی کار کہتی ہیں کہ ’دنیا کی مختلف معاشروں اور علاقوں میں یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین، جو مالی طور پر اپنا خیال خود رکھ سکتی ہیں وہ ان خواتین کے مقابلے میں طلاق کی جانب زیادہ قدم بڑھا سکتی ہیں جو مالی طور پر اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔‘
جذباتی اور معاشی عوامل
اس کے باوجود صرف معاشی آزادی وہ واحد وجہ نہیں کہ مردوں کے مقابلے خواتین طلاق لینے میں پہل کرتی ہیں۔ طلاق لینے والی خواتین کی بڑھتی شرح کی کئی دیگر وجوہات بھی ہیں۔
بہت سی خواتین شادی کے وقت جو توقعات رکھتی ہیں وہ شادی کے بعد پوری نہیں ہوتیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مردوں کی نسبت خواتین اس بارے میں زیادہ توقعات رکھتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کی جذباتی ضروریات پر پورا اتریں گے، لیکن شادی کے بعد یہ توقعات مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔
امریکہ میں مختلف جوڑوں کی تھراپی کرنے والی ماہر جلزا فورٹ ماٹینز کہتی ہیں کہ معاشرتی حالات خواتین کے مقابلے میں مردوں کو کم ایموشنل انٹیلیجنس (جذباتی ذہانت) سکھاتے ہیں اور اس وجہ سے خواتین کو اپنے رشتے میں زیادہ جذباتی مشقت کرنا پڑتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایموشنل انٹیلیجنس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خواتین مسائل اور کسی رشتے میں منفی علامات کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں اور بات چیت کرنے اور اپنی طبعیت میں ہمدردی کا رجحان ہونے کی وجہ سے وہ مسائل کی نشاندہی بھی پہلے کرتی ہیں، جس کا نتیجہ آخر کار علیحدگی یا طلاق کی شرح میں سامنے آتا ہے۔
جلزا فورٹ کہتی ہیں کہ ’خواتین شادی سے بہت کم جذباتی فوائد حاصل کرتی ہیں، جس کی وجہ سے غیر شادی شدہ زندگی زیادہ پُرکشش لگتی ہے۔ جہاں مردوں کو زیادہ جینے اور زیادہ کمانے کا موقع ملتا ہے، خواتین کو عام طور پر ازدواجی رشتوں سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے گھریلو ذمہ داریوں اور بچے پیدا کرنے کا بوجھ بھی انھیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے اکثر وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
عموماً مردوں کے مقابلے میں خواتین کے قریبی دوست بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ میں صرف 15 فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی قریبی دوست نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کے پاس ایسے دوست زیادہ ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ اپنی شادی کے مسائل کے بارے میں زیادہ کھل کے بات کر سکتی ہیں اور یوں وہ ان کے لیے شادی ختم کرنے اور دوبارہ سے اکیلے زندگی گزارنا قدرے آسان ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ خواتین کی زیادہ دوستیوں کی وجہ سے ان کے لیے طلاق ایک ممکنہ حل بن جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر کسی کے دوست یا سہیلی کی طلاق ہو جاتی ہے، تو اس کی اپنی طلاق کے امکانات 75 فیصد زیادہ ہو جاتے ہیں۔
ان وجوہات کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ طلاق کے بعد اکثر بچے خواتین کو مل جاتے ہیں، یوں خواتین کو لگتا ہے کہ طلاق کی صورت میں مردوں کے مقابلے میں ان کا نقصان کم ہو گا۔ کسی حد تک یا بات درست بھی ہے کیونکہ تحقیق کے مطابق طلاق کے فوراً بعد مردوں کی ذہنی صحت ڈرامائی طور پر خراب ہو جاتی ہے۔
لیکن یہ چیز بہت دیر تک نہیں چلتی۔
ماہر نفسیات ہیدی کار کہتی ہیں کہ ’طلاق کے کچھ عرصے بعد تک بحیثیت مجموعی مردوں کی زندگی خراب ہو جاتی ہے اور وہ خواتین کے مقابلے میں اکیلے پن کی شکایت زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق ختم ہو جاتا ہے اور خواتین پر طلاق کے برے اثرات دیر تک رہتے ہیں اور انھیں زیادہ مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں گھر کی ملکیت ختم ہو جانا، ذرائع آمدن میں کمی اور شوہر کے بغیر بچوں کی دیکھ بھال کا دباؤ وغیرہ شامل ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ طلاق کے بعد خواتین کو زیادہ پچھتاوا ہوتا ہے۔ طلاق کے نقصانات کے باوجود صرف 27 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ اُنھیں طلاق کے بعد کوئی پچھتاوا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 39 فیصد مردوں کا کہنا تھا کہ اُنھیں طلاق کے بعد افسوس ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر خواتین طلاق کے بعد کی مشکلات کو ایک ایسے رشتے پر ترجیح دیتی ہیں جس میں وہ ناخوش ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مسائل کے حل کی کوشش
صاف ظاہر ہے کہ طلاق کی درخواست دینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ شادی ختم کر رہے ہیں۔ اگرچہ تحقیق بتاتی ہے کہ خواتین کی جانب سے شادی ختم کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن بہت سی خواتین ایسی ہیں جنھوں نے یہ انتخاب نہیں کیا کہ اپنے شوہر سے تعلقات ختم کر دیے، تاہم یہ خواتین پھر بھی یہ چاہتی ہیں کہ شوہر سے علیحدگی کو باقاعدہ شکل دینی چاہیے۔
اس حوالے سے لندن میں مقیم خاندانی قوانین کی ماہر کیٹی سپونر کہتی ہیں کہ ’خواتین میں یہ خواہش زیادہ ہوتی ہے کہ ان کی ازدواجی حیثیت جلد از جلد واضح ہو‘ یعنی ان کی طلاق ہو چکی ہے یا وہ محض ایک دوسرے سے علیحدگی چاہتے ہیں۔
وکیل کی حیثیت سے اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر کیٹی سپونر کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ان کا کوئی دوسرا رشتہ نہیں بنتا اور مالی معاملات کو حل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، زیادہ تر مرد بیوی سے صرف علیحدگی کی حد تک خوش رہتے ہیں۔
اس کے برعکس خواتین چاہتی ہیں کہ طلاق کا معاملہ کسی ٹھکانے لگے۔ ’مالی معاملات کی تقسیم کی درخواست کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ خاتون کے پاس طلاق نامہ موجود ہو۔‘
مگر کچھ خواتین کو طلاق کی شدید ضرورت ہو سکتی ہے۔ سپونر علیحدگی کے بعد پیسوں کی تقسیم کی قانونی پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’نان نفقے کی درخواست دینے سے قبل طلاق کی درخواست دائر کرنا اب بھی ضروری ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’تاریخی طور پر خواتین کو ایسا کرنے کی ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے کیونکہ یا تو وہ کمزور مالی صورتحال میں ہوتی ہیں یا پھر بچے پالنے کی بنیادی ذمہ داری اُن پر ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسرے الفاظ میں کہیں تو شادی شدہ خواتین عموماً اپنے شوہروں سے کم پیسے کماتی ہیں اور زیادہ امکان ہے کہ اگر وہ زیادہ پیسے کماتی بھی تھیں تو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے یا تو کام چھوڑ دیتی ہیں یا کم کر دیتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ خواتین جو طلاق کے معاہدے کے بغیر اپنے شوہروں سے الگ ہوتی ہیں اُنھیں مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ جب تک طلاق باقاعدہ طور پر نہ ہو جائے تب تک اُن کا اثاثوں یا مالی امداد پر حق شاید تصور نہ کیا جائے، بھلے ہی رشتہ ختم کرنے میں پہل اُنھوں نے نہ کی ہو۔
سپونر نشاندہی کرتی ہیں کہ برطانیہ میں خواتین کے طلاق میں پہل کرنے میں اہم موڑ 1996 میں تب آیا جب شادی چلانے میں ’گھر بسانے والی‘ کے کردار کا اعتراف کیا گیا جس سے خواتین اثاثوں میں منصفانہ حصے کی حق دار ہو گئیں۔
اس سے قبل کمزور مالی حالت والے شریکِ حیات (عموماً خواتین، خاص طور پر اگر اُنھوں نے کریئر چھوڑ دیا ہو) کو صرف بنیادی ضرورت کے لیے نان نفقہ ملا کرتا ہے بجائے اس کے کہ اُن کی گھریلو محنت نے شادی چلانے میں کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔
اب یہ معاملہ دیگر ممالک میں بھی رواج پا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ طلاق کے بعد غربت کا خطرہ اب کم خواتین کو درپیش ہے اور وہ اثاثوں میں اپنا جائز حصہ لینے کے لیے علیحدگی کے بجائے طلاق کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں۔
جہاں تک برطانیہ کے نئے قانون کی بات ہے تو سپونر کہتی ہیں کہ نو فالٹ طلاق کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی لوگ قوانین کی تبدیلی کا انتظار کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم رجحانات کس طرف جائیں گے اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا۔
خود سپونر مانتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ خواتین کی طرف سے طلاق لینے میں شاید ’تھوڑی کمی‘ آئے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جوڑے مشترکہ درخواستیں دے سکتے ہیں۔
برطانیہ میں بالآخر جو بھی ہو مگر طلاقیں شادیوں کی طرح پیچیدہ معاملات ہوتے ہیں۔ کچھ معاملات میں تو طلاق کا دعویٰ دائر کرنا ایک ایسا آخری اقدام ہوتا ہے جو سالہا سال ناخوش رہنے کے بعد اٹھایا جاتا ہے۔
کچھ دیگر لوگوں کے لیے طلاق کا دعویٰ دائر کرنا ایک زیادہ عملیت پسند قدم ہوتا ہے جس کی بنیاد ایک مالی سمجھوتے پر پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مگر جو بات واضح ہے وہ یہ کہ کچھ عوامل مثلاً خواتین کی آمدن میں اضافے، شادی میں خواتین اور مردوں کی جذباتی ضروریات میں ہم آہنگی کا نہ ہونا اور گھریلو مشقت میں موجود عدم مساوات کا مطلب ہے کہ طلاق کے معاملے میں صنف کا کردار اہم ہی رہے گا۔












