کچی آبادی سے باس بننے تک کا کامیاب سفر: ’لوگوں نے کہا پارلر کا کام لڑکیوں کے لیے صحیح نہیں‘

- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو
’جس محلے میں میرا بچپن گزرا تو وہاں جو ماحول تھا، وہ لوگ اُس وقت پڑھائی کی اہمیت نہیں جانتے تھے اور نہ انہیں اندازہ تھا کہ امی ہمارے لیے کیا سوچ رہی ہیں۔ وہ لوگ ہمارا بہت مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھتے ہیں کہ کون سے افسر لگتے ہیں ان کے بچے، ایسے ہی پڑھائی کر رہی ہیں، پتا چل جائے گا کیا کرتے ہیں اوراب وہی لوگ ہمیں سراہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھئی کمال کر دیا‘۔
پر اعتماد لہجے میں ادا کیے گئے یہ الفاظ کراچی کی ایک کچی آبادی کے اونچے نیچے راستوں سے کامیابی کی منزل پانے والی پروین آصف کے ہیں، جو آج ایک ماہر بیوٹیشن ہیں اور ’پری بیوٹی سیلون‘ کی دو برانچیز کی مالک ہیں۔
پروین آصف کا، جنھیں گھر میں سب پری کہہ کر پکارتے ہیں، بچپن کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کی کٹی پہاڑی پر بنی ایک کچی آبادی میں گزرا، جہاں ان کے ماں باپ ان سمیت پانچ بچوں کی پرورش اور انھیں تعلیم دلانے کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے۔
غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی پروین کی آنکھوں میں ایک بزنس وویمن اور باس بننے کے سپنے سجانے والی ان کی والدہ نسیم بی بی تھیں جنھوں نے پروین سمیت اپنے پانچوں بچوں کو پڑھانے، اچھا انسان بنانے اور انھیں مالی طور پر خودمختار بنانے کی ٹھانی تھی لیکن پری کے مطابق امی کے خواب کی تعبیرخود ان کے لیے آسان نہ تھی۔
’والد تو سب کے عموماً محنت کرتے ہیں لیکن میری امی نے ہمارے لیے مسلسل بہت محنت کی۔ وہ سلائی کڑھائی کرتی تھیں مگر اس میں اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی کہ وہ ہمیں پڑھا بھی سکیں اور خرچے بھی پورے کر سکیں۔ سلائی کڑھائی کے ساتھ انھوں نے لوگوں کے گھروں میں جا کر کھانا پکانے کا کام شروع کر دیا، ساٹھ ستر لوگوں کا کھانا بنانا، کچن سنبھالنا، ناشتہ پانی کا انتظام کرنا آسان نہیں ہوتا، جس سے وہ بے حد تھک جاتی تھیں مگر انھوں نے ہمیں اس کام پر نہ لگایا۔‘
’اگر وہ اپنی زندگی آسان بنانا چاہتیں تو ہم سب کو بھی کام پر لگا سکتیں تھیں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ امی کی دلی خواہش تھی کہ جو کچھ محنت و مشقت وہ کر رہی ہیں، ان کے بچے ایسی مشکلات سے نہ گزریں۔‘

’یہ سوچ کر نکلی تھی کہ گھر والوں کا سر فخر سے بلند کرنا ہے‘
پروین آصف شوق کے باوجود اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ نہ پڑھ سکیں مگر ان کے ذہن میں ہنر سیکھ کر اپنا کاروبار کرنے کا پلان تھا۔
انھوں نے اپنے شوق کے مطابق بیوٹیشن کا کورس کرنا شروع کیا جس میں انھیں گھر والوں کا تعاون اور حوصلہ افزائی تو ملی مگر اپنے اردگرد سے منفی اور حوصلے شکن رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آج سے پندرہ سال پہلے بیوٹیشن کی فیلڈ کو اتنا اچھا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ محلے میں یا خاندان والے کہتے تھے کہ یہ کام لڑکیوں کے لیے صحیح نہیں تو ایسے ماحول میں میں گھر سے یہ سوچ کر نکلی تھی کہ مجھے ایسا کوئی کام نہیں کرنا جو میرے ماں باپ کے لیے شرمندگی کا باعث بنے ہو بلکہ اپنے کام سے ان کا سر فخر سے بلند کرنا ہے۔‘
’میرے شوہر کو کہا جاتا، یہ تو جورو کا غلام ہے‘
کام سیکھنے کے بعد پروین نے بیوٹی پارلر میں کام اور ہوم سروس دینا شروع کی اور اس دوران ہی ان کی شادی ہوئی۔
چند ماہ بعد حاملہ ہونے پرپروین کو محسوس ہوا کہ شاید اپنا سیلون بنانے کا خواب جلد پورا نہ ہو لیکن یہاں ان کے شوہر آصف نے بھی ان کا مکمل ساتھ دیا اور سماجی رویوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پروین کے ساتھ گھر داری میں بھی ہاتھ بھی بٹایا اور بچے کی پیدائش کے بعد اس کو سنبھالنے میں بھی پیش پیش رہے۔

پروین کہتی کہ کہ ان کے سب سے بڑے سپورٹر ان کے شوہر ہیں۔
’ہم دونوں میاں بیوی کو صبح ساڑھے نو بجے گھر سے نکلنا ہوتا تھا، تو اس کے لیے مجھے کھانا پکانا جھاڑو پونچھا برتن بھی کرنا ہے، بچے کا فیڈر، اس کا کھانا، اس کی مالش نہلانا دھلانا سب اس مختصر وقت میں کرنا ہے تو وہ میں اکیلے نہیں کر سکتی۔ تو میرے شوہر بھی ساتھ ہی جاگتے اور اگر میں بچے کو پیمپر بدلا رہی ہوں تو وہ ناشتہ بناتے، میرے کپڑے استری کر دیتے تھے تو یہ بہت بڑی سپورٹ تھی۔‘
’اس چیز پر مذاق بنتا کہ جورو کا غلام ہے بھئی لیکن آج وہ وقت ہے کہ جو لوگ مذاق اڑاتے تھے اور ہمیں برا سمجھتے تھے آج وہی ہمیں سراہتے ہیں، ہم میاں بیوی کی محبت کا تعلق دوسروں کے لیے مثال بن گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہParveen Asif
’لوگوں کے منفی رویوں اور ناکامی نے زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پروین آصف آج دو بیوٹی سیلون کی مالک ہیں لیکن کچی آبادی سے شروع کیے جانے والے سفر میں کامیابی انھیں پلیٹ میں رکھی نہیں ملی۔
پروین کے مطابق انھوں نے اپنا پہلا سیلون کھولنے کے لیے گھر میں چھوٹے سیٹ اپ کے ساتھ کافی عرصے ہوم سروس اور ایک ڈینٹل کلینک میں پارٹ ٹائم جاب بھی کی۔
اپنے سیلون کے سیٹ اپ کے لیے انھوں نے رقم جمع کر کے کے ڈی اے چورنگی پرایک گھر کے اندر کمرہ کرایے پر لیا۔ ایک مہینے تک اپنے پہلے بیوٹی پارلر کو سجایا سنوارا اور ایک ایک چیز بنائی۔
پری کے مطابق بزنس کے پہلے تجربے میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ناکامی کے اس واقعہ اور لوگوں کے منفی رویوں نے انھیں زندگی میں مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
’میں نے اپنے پہلے سیلون کا جس دن افتتاح کیا تو آس پاس کے تمام لوگ جمع ہو گئے اور بہت سختی سے کہا کہ یہاں پارلر نہیں کھولا جا سکتا کیونکہ یہ ایک رہائشی علاقہ ہے۔ ہماری التجا کے باوجود محلے کے تمام لوگ یک زبان ہو کر وہ سیٹ اپ بند کروانے آ گئے۔ جس دن پارلر کا سامان اٹھانا تھا اس دن میرے سجائے ہوئے گملے اور لائیٹس جب اتریں تو لگتا تھا زندگی میں کچھ نہیں بچا۔‘

’اس وقت گھر میں مکمل سناٹا تھا اور میرا چھ ماہ کا بچہ جب اچانک رونا شروع ہوا تو جیسے میرا سکتہ ٹوٹا اور پھر میں نے اپنے شوہر کی جانب دیکھا اور پھر ہم اچانک سب ہنسنے لگے۔
میں نے تہیہ کیا کہ کوئی بات نہیں ایک بار پھر ہوم سروس کروں گی، پھر جاب کروں گی، پھر پیسے جمع کروں گی اور پھر اپنا سیلون کھولوں گی، تو اس واقعے نے میرے اندر مزید آگے بڑھنے کی ہمت پیدا کردی۔‘
پری کے مطابق ان کے پاس اب نہ صرف اپنا گھر ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جسے زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انھیں اپنی والدہ کے خوابوں کی تعبیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ ’ساری زندگی ہماری امی نے ہمارے لیے محنت کی تو اب وہ وقت ہے کہ ہم اپنی والدہ کے لیے کچھ کریں۔ میرے کاروبار میں امی کا بھی حصہ ہے اور مجھے اس کی بہت خوشی ہے کہ میں امی کے لیے بھی کچھ کر سکی ہوں۔ ‘

’کام سے محبت اور محنت کامیابی کی اصل کنجی ہے‘
پروین آصف اب تین بچوں کی ماں ہیں اور ان کے کام میں آج بھی ان کے شوہر ان کا ہاتھ بٹانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر سیلون کے وزٹ کے دوران وہ پری کو گاڑی خود ڈرائیو کر کے لے جاتے ہیں مگر اب سے چند سال پہلے پروین کو اپنے کلائنٹ تک پہنچنے میں بہت مشکلات رہتی تھیں۔
’ہوم سروس میں نارتھ ناظم آباد سے ڈی ایچ اے تک کلائنٹ ہوتے تھے تو جب سیزن ہوتا تھا تو میں وہاں پھنس جاتی تھی۔ اس وقت کوئی اپنی سواری نہ تھی تو کبھی رکشہ، کبھی پیدل سفر کرتی تھی۔ بہت مشکل ہوتی تھی، مثلاً ایک جگہ گئی تو دوسرے گھر جا کے پتا چلا کہ ویکس بھول گئی تو پھر واپس دوڑ لگاتی تھی‘۔
پروین کے مطابق بزنس کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کلائئنٹ کوعزت دی جائے۔
’مثلاً اگر رات گیارہ بجے کسی کلائئنٹ کی کال آتی کہ پری بھنویں بنا دیں تو میں نے کبھی نہیں سوچا کہ اس وقت پچاس روپے کے لیے کون نکلے بلکہ میں سوچتی تھی کہ یہ میری کلایئنٹ ہیں، سارے کام مجھ سے کرواتی ہیں تو میں ضرور جاتی تھی۔ اپنے کام سے محبت اور اس میں محنت میری کامیابی کی اصل کنجی ہے۔‘
پری کے مطابق وہ خود زیادہ نہیں پڑھ سکیں مگر اپنے بچوں کو ہنر کے ساتھ اعلی تعلیم دینا ان کی ترجیح ہے اور کئی سال پہلے بیوٹیشن کی فیلڈ کو برا سمجھنے والے ان کے پرانے محلے دار اور رشتہ دار اب پروین کی کامیابی کی بدولت اپنی بچیوں کو بھی تعلیم و ہنر کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔
’میرے اپنے خاندان میں جتنی بچیاں ہیں ان میں سے آدھی سے زیادہ اب بیوٹیشن بن رہی ہیں۔ ہمارے اردگرد ایسی بچیاں ہیں جن کے والدین اگر بیٹیوں کو کام سکھانے سے ہچکچاتے ہیں تو میں اور امی خود جا کر ان کو قائل کرتے ہیں کہ ہنر اورمہارت اپنی بیٹیوں کو سکھائیں اور پڑھائیں۔‘
اپنی محنت کش والدہ کی آنکھوں میں بسے خوابوں کو تعبیر دینے والی با ہمت پروین آصف اپنے سیلون میں اب ایسی کئی بچیوں کو ہنر مند بنا رہی ہیں تاکہ ان جیسی اور کئی بچیاں با اختیار اور مالی طور پر خود مختار بن سکیں اور چراغ سے چراغ جلتا رہے۔













