لینا نائر: انڈین نژاد خاتون لگژری فیشن برانڈ شینیل کی عالمی چیف ایگزیکٹیو بن گئیں

لینا نائر

،تصویر کا ذریعہ@LEENANAIRHR/INSTA

رواں ہفتہ انڈیا کے لیے بہت خاص رہا ہے اور انڈین خواتین نے اسے خاص بنا دیا ہے۔ ایک طرف ہرناز سندھو نے مس ​​یونیورس کا اعزاز جیتا وہیں اب ایک اور انڈین نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا ہے۔

یہ خاتون لینا نائر ہیں۔ اگر آپ کا فیشن کی دنیا سے کوئی تعلق ہے تو آپ نے لگژری فیشن برانڈ شینیل کا نام ضرور سنا ہوگا اور لینا اب اس کمپنی کی گلوبل چیف ایگزیکٹیو بن چکی ہیں۔

اندرا نوئی کے بعد وہ دوسری انڈین نژاد خاتون ہیں جو کسی عالمی کمپنی کی سی ای او بنیں۔ اندرا نوئی پیپسی کو کی گلوبل سی ای او تھیں۔

اگرچہ انڈین نژاد لینا نائر نے اپنے پچھلے عہدے پر رہتے ہوئے بھی ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔

لینا نائر پہلے اینگلو ڈچ کمپنی یونی لیور میں چیف ہیومن ریسورس آفیسر تھیں۔ وہ یونی لیور میں اس عہدے پر فائز ہونے والی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون تھیں۔

لینا نائر

،تصویر کا ذریعہTwitter

وہ یونی لیور میں یونی لیور لیڈرشپ ایگزیکٹیو کی رکن بھی تھیں۔ لینا نے ٹوئٹر پر اپنے نئے عہدے کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں شینیل میں گلوبل چیف ایگزیکٹیو کے طور پر تعینات ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہوں۔ یہ ایک شاندار اور مثالی کمپنی ہے۔‘

شینیل فیشن، جیولری، گھڑیاں، شیشے، پرفیوم، میک اپ اور جلد کی دیکھ بھال کے حوالے سے ایک معروف برانڈ ہے۔

اس برانڈ کی بنیاد گیبریئل بونل شنیل نے رکھی تھی۔ وہ ایک فرانسیسی فیشن ڈیزائنر اور کاروباری خاتون تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

لینا اس حوالے سے کئی ٹویٹس کر چکی ہیں۔

وہ لکھتی ہیں ’میں یونی لیور میں اپنے طویل کریئر کے لیے شکرگزار ہوں، وہ جگہ جو 30 سال تک میرا گھر رہی ہے۔ اس نے مجھے سیکھنے، ترقی کرنے اور حقیقی معنوں میں بامقصد کمپنی میں اپنا حصہ ڈالنے کے کئی مواقع ملے۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’میں ہمیشہ یونی لیور اور اس کے مقصد کے لیے فخر سے بات کروں گی۔‘

انھوں نے شینیل میں اپنی نئی تقرری اور حمایت کے لیے سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’آپ سب کا شکریہ۔ مجھ پر بھروسہ کریں میں یہاں پوسٹ کیا گیا ہر ایک تبصرہ پڑھ رہی ہوں۔‘

لینا نائر

،تصویر کا ذریعہ@LEENANAIRHR/INSTA

یونی لیور نے لینا کے بارے میں کیا کہا

جیسا کہ لینا نے خود اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ یونی لیور اور وہ 30 سال سے ساتھ تھے۔ کمپنی نے 30 سال تک اپنے پاس اہم ذمہ داریاں ادا کرنے والی لینا کی رخصتی پر بیان جاری کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق یونی لیور نے لینا کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’کمپنی کی سی ایچ آر او لینا نائر نے ایک نئے موقع پر جانے کے لیے جنوری 2022 میں کمپنی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ (شینیل میں) گلوبل چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر شامل ہو رہی ہیں۔‘

یونی لیور کے سی ای او ایلن جوپ نے کہا، ’لینا نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران کمپنی کے مقصد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت وہ یونی لیور میں اپنے پورے کریئر میں ہمیشہ سب سے آگے رہی ہیں۔‘

ہندوستانی نژاد لینا کی ذاتی زندگی

باون سالہ لینا نائر کا تعلق مہاراشٹر کے شہر کولہاپور سے ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ہولی کروس کانوینٹ سکول کولہاپور سے حاصل کی۔

انھوں نے سانگلی کے والچند کالج آف انجینیئرنگ سے الیکٹرونکس میں انجینیئرنگ کی اور اپنی مزید تعلیم زیویئرز سکول آف مینجمنٹ (XLRI)، جمشید پور سے مکمل کی۔ یہاں سے انھوں نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد اُنھوں نے سال 1992 میں ہندوستان لیور میں شمولیت اختیار کی۔‘

لینا نائر

،تصویر کا ذریعہ@LEENANAIRHR/INSTA

لینا کے نام کئی ریکارڈز ہیں۔

لینا نے ہندوستان لیور میں بطور مینجمنٹ ٹرینی اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سال 1993 میں وہ لپٹن میں فیکٹری پرسنیل مینیجر بن گئیں۔

سنہ 1996 میں وہ خود ہندوستان لیور میں ایمپلائی ریلیشن مینیجر بن گئیں اور پھر 2016 میں اُنھیں یونی لیور کا چیف ہیومن ریسورس آفیسر مقرر کیا گیا۔ یوں وہ اس عہدے تک پہنچنے والی سب سے کم عمر پہلی خاتون بن گئیں۔

اسی سال فارچیون انڈیا نے اُنھیں اپنی طاقتور ترین خواتین کی فہرست میں بھی شامل کیا۔

لینا نے اس سال ورلڈ اکنامک فورم میں بھی خطاب کیا۔ انھوں نے میٹ دی لیڈرز پروگرام کے تحت کئی جہتوں پر گفتگو کی تھی۔

لینا اندرا نوئی کو دوست اور سرپرست مانتی ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ میں اُنھیں اپنی دوست اور سرپرست کہنے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔

لینا نائر کی اس کامیابی پر انڈیا اور دنیا بھر سے اُنھیں نیک تمنائیں اور مبارکبادیں مل رہی ہیں۔

اُنھیں مبارکباد دیتے ہوئے جے ایس ڈبلیو فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن سنگیتا جندال نے لکھا: مبارک ہو لینا! خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے۔