آشوری قوم: حساب کتاب کی ماہر اور تجارتی معاہدوں کی نگران، تاریخ کی ابتدائی کاروباری اور سرمایہ کار خواتین کون تھیں؟

آشور، خواتین، کاروبار

،تصویر کا ذریعہVanessa Tubiana-Brun

،تصویر کا کیپشنآشوری خواتین اپنے خطوط میں اپنے شوہروں اور بھائیوں کو ہدایات بھی دیتیں تو کبھی کبھی ڈانٹ بھی دیا کرتیں
    • مصنف, سوفی ہارڈاک
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

1870 قبل مسیح میں شمالی عراق کے شہر آشور میں اہاہا نامی ایک خاتون نے مالیاتی فراڈ کے ایک معاملے سے پردہ اٹھایا تھا۔

اہاہا نے آشور اور ترکی کے شہر کنیش کے درمیان ہونے والی ایک تجارت میں سرمایہ کاری کی تھی۔ انھوں نے اور اُن کے جیسے دیگر سرمایہ کاروں نے چاندی کی صورت میں سرمایہ اکھٹا کیا اور گدھوں کے ایک قافلے کا انتظام کیا تھا جس کا کام کنیش تک ٹن (قلعی) اور کپڑے پہنچانا تھا۔ گدھوں پر لدے اس سامان کی فروخت کے عوض انھیں مزید چاندی اور زبردست منافع حاصل ہونے کی امید تھی۔

مگر ہونے والے منافع میں سے اہاہا کا حصہ بظاہر غائب تھا جسے ممکنہ طور پر ان کے ایک بھائی بازوزو نے ہڑپ کر لیا تھا۔

چنانچہ انھوں نے بانس کا ایک قلم اور مٹی کی لوح پکڑی، اور اپنے ایک اور بھائی آشور متاپل کو خط لکھ کر ان سے مدد چاہی۔ اس خط میں انھوں نے لکھا ’میرے پاس ان پیسوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ کریں کہیں میں برباد نہ ہو جاؤں۔‘

انھوں نے اشور متاپل کو ان کی چاندی برآمد کرنے اور انھیں فوراً مطلع کرنے کی ہدایت کی: ’اگر وہ چاندی کی ادائیگی کریں تو اگلے کارواں کے ساتھ مجھے ایک تفصیلی خط لکھنا۔ اب مجھ پر احسان کرنے اور مجھے مالی پریشانی سے بچانے کا وقت ہے۔‘

اہاہا کے خطوط اُن 23 ہزار مٹی کی لوحوں میں سے ہیں جو کنیش میں تاجروں کے گھروں کی باقیات سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ آشوری افراد کے تھے جو کنیش میں رہتے تھے اور آشور میں اپنے خاندان سے برابر رابطے میں رہا کرتے تھے۔

آشور اور کنیش کے درمیان کا فاصلہ گدھوں کا ایک کارواں چھ ہفتے میں طے کر لیا کرتا۔ ایک نئی کتاب سے ہمیں اس برادری کے اندر ایک حیرت انگیز گروہ یعنی ان خواتین کے بارے میں غیر معمولی معلومات حاصل ہوتی ہیں جنھوں نے سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کے ذریعے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ کام بھی کیے جو اس وقت عام طور پر مرد ہی کرتے تھے۔

درحقیقت کہا جا سکتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی پہلی معلوم کاروباری خواتین، خواتین بینکار، اور خواتین سرمایہ کار تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مضبوط اور خود مختار

کنیش سے ملنے والے زیادہ تر خطوط، معاہدے اور عدالتی حکمنامے 1900 سے 1850 قبل مسیح کے درمیان کے ہیں جب آشوریوں کا تجارتی نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس کے ذریعے خطے میں خوشحالی آ رہی تھی اور کئی نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔

آشوریوں نے سرمایہ کاری کی کچھ اقسام ایجاد کیں اور یہ اپنے خطوط پروفیشنل لکھاریوں سے املا کر کے لکھوانے کے بجائے خود لکھنے والے اولین مرد اور عورتیں تھے۔ ہم ان ہی خطوط کی وجہ سے آج کئی پرعزم اور پرجوش خواتین کی آوازیں سُن سکتے ہیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ انتہائی قدیم زمانے میں بھی تجارت اور ایجادات کے شعبے پر مردوں کی حکمرانی نہیں تھی۔

جب ان کے شوہر سفر میں ہوا کرتے یا کسی دور دراز تجارتی آبادی میں سودا کر رہے ہوتے تو یہ خواتین اپنے شہر میں کاروبار سنھالتیں۔ مگر یہ اپنی خود کی دولت بھی جمع کرتیں اور اس سے سرمایہ کاری کرتیں، اور آہستہ آہستہ انھوں نے اپنی ذاتی زندگیوں میں زیادہ طاقت حاصل کرنی شروع کر دی تھی۔

آشور، خواتین، کاروبار

،تصویر کا ذریعہCecile Michel, Archaeological Mission of Kültepe

،تصویر کا کیپشنیہ خط ہتھیلی کے سائز کے ہوتے لیکن ان میں بے پناہ معلومات درج ہوتیں

فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ (سی این آر ایس) میں سینیئر محقق سیسیل مشیل کہتی ہیں کہ ’یہ خواتین واقعی مضبوط اور خود مختار تھیں۔ کیونکہ یہ اکیلی ہوتی تھیں، اس لیے یہ شوہر کی غیر موجودگی میں گھرانے کی سربراہ ہوتیں۔‘

سیسیل مشیل نے ’ویمن آف آشور اینڈ کنیش‘ نامی ایک کتاب لکھی ہے۔ تین سو سے زیادہ خطوط اور دستاویزات کے ذریعے یہ کتاب اِن خواتین کی جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک حیران کُن حد تک تفصیلی اور رنگین کہانی سناتی ہے۔

بھلے ہی یہ خطوط دلچسپ کہانیوں اور ایڈونچر سے بھرپور ہیں مگر سائز میں یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ انسانی ہتھیلی میں سما جائیں۔

ان کاروباری خواتین کی کہانیاں مجموعی طور پر آشوری تاجر برادری کی کہانیوں سے منسلک ہیں۔ اپنے عروج کے دور میں آشوری لوگ مشرقِ قریب کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ روابط رکھنے والے تاجر تھے۔

ان کے کارواں 300 تک گدھوں پر مشتمل ہوتے اور یہ پہاڑوں اور غیر آباد میدانی علاقوں کا سفر کرتے ہوئے خام مال، لگژری سامان اور مٹی کی لوحوں پر لکھے گئے خطوط لایا لے جایا کرتے۔

نیدرلینڈز کی لائیڈن یونیورسٹی میں اسائریولوجسٹ (ماہرِ آشوری تہذیب) جان گیریٹ ڈرکسن کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کا ایک روٹ تھا، جو وسطی ایشیا میں کہیں سے شروع ہوتا اور اس میں افغانستان سے سنگِ لاجورد (نیلے رنگ کا معدنی پتھر)، پاکستان سے عقیقِ احمر، اور ایران یا مشرق میں کہیں سے ٹن لیا جاتا۔‘

پروفیسر جان بھی کنیش سے ملنے والی لوحوں پر کام کر چکے ہیں۔ غیر ملکی تاجر یہ سامان آشور تک لایا کرتے جس میں جنوبی عراق کے شہر بابل سے کپڑا بھی شامل ہوتا۔ یہ سامان آشوریوں کو بیچا جاتا جو اسے کنیش اور ترکی کے اناطولیہ خطے میں واقع دوسرے شہروں میں بھیجنے کے لیے کاروان پر لاد دیا کرتے، جہاں انھیں سونے اور چاندی کے عوض بیچ دیا جاتا۔

پیچیدہ مالیاتی نظام سے یہ تجارت ممکن ہو پاتی۔ اس نظام میں ’ناروقم‘ نامی ایک چیز تھی جس کے لغوی معنیٰ ’تھیلے‘ کے ہیں۔ یہ ایک مشترکہ سٹاک کمپنی ہوتی تھی جس میں آشوری سرمایہ کار اپنی چاندی ڈالتے اور کئی سالوں تک تاجروں کے کاروان کے اخراجات یہیں سے پورے کیے جاتے۔

تاجروں نے ایک مخصوص کاروباری بولی بھی ایجاد کر لی تھی۔ لوح کے مر جانے کا مطلب ہوتا تھا کہ قرض ادا کر دیا گیا ہے اور یوں اس قرض کا جس مٹی کی لوح پر ریکارڈ رکھا جاتا، اسے منسوخ کر دیا جاتا۔ ’بھوکی چاندی‘ کا مطلب وہ چاندی ہوتی جسے کسی کام میں نہیں لگایا گیا ہوتا، اور اُس سے کوئی منافع حاصل نہ ہو رہا ہوتا۔

آشوری خواتین اس پھلتی پھولتی تجارتی مارکیٹ میں اپنا حصہ برآمدات کے لیے کپڑا بنا کر، تاجروں کو قرضے جاری کر کے، گھروں کی خرید و فروخت کر کے اور ناروقم سکیموں میں سرمایہ کاری کر کے ڈالا کرتیں۔ کپڑا بُننے میں مہارت کے باعث وہ اپنی چاندی خود کما سکتی تھیں۔ وہ غیر ملکی فیشن اور مارکیٹ رجحانات پر نظر رکھتیں تاکہ سب سے بہتر قیمت، ٹیکس کی شرح اور دیگر قیمتیں حاصل کی جا سکیں تاکہ اخراجات کو محدود رکھا جا سکے۔

آشور، خواتین، کاروبار

،تصویر کا ذریعہArchaeological Mission of Kültepe Archives

،تصویر کا کیپشنکنیش کا قدیم شہر جو موجودہ دور کے ترکی میں ہے

مشیل جنھوں نے ان خواتین کے بارے میں ایک نئی دستاویزی فلم بھی مشترکہ طور پر بنائی ہے، کہتی ہیں کہ ’یہ واقعی اکاؤنٹنٹس ہیں۔ یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ انھیں ٹیکسٹائل کے بدلے میں کیا ملنا چاہیے۔ اور جب وہ اپنے کپڑے کی فروخت سے پیسے کماتیں تو اپنے کھانے، گھر، اور روز مرّہ کی زندگی کے اخراجات تو پورے کرتی ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ سرمایہ کاری بھی کیا کرتیں۔

ریکارڈز کی محافظ

یہ تجارتی ذہانت انھیں کئی ایسے کام سنبھال لینے میں مدد دیتی جو اس وقت خواتین کے لیے غیر معمولی تھی۔ وہ اپنے شوہروں کی قابلِ اعتماد کاروباری شراکت دار کے طور پر کام کرتیں۔ تاجر اس کے بدلے میں پڑھی لکھی اور حساب کتاب کی ماہر بیویوں سے مدد لیتے جو روز مرّہ کے کاروبار کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں بھی ان کا ساتھ دیا کرتیں۔

ایک آشوری تاجر اپنی اہلیہ اِشتر بشتی کے نام لکھتا ہے: ’فوراً اپنا پڑا ہوا سامان فروخت کرو۔ لیمیشار کے بیٹے کا سونا لو اور مجھے بھیجو۔ میری ساری لوحیں محفوظ کر کے رکھ دو۔‘

دوسرے لوگ اپنی بیویوں سے کہا کرتے کہ وہ گھر میں پڑے ذاتی ریکارڈز میں سے مالی معلومات نکالیں تاکہ کاروباری معاہدے کو نمٹایا جا سکے۔

مشیل ان خواتین کے متعلق کہتی ہیں: ’چونکہ وہ گھر پر رہا کرتیں، اس لیے وہ ریکارڈز کی محافظ ہوتی تھیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان معاہدوں میں بہت پیسہ شامل ہوتا تھا، مثال کے طور پر قرض کے معاہدوں میں۔‘

اس کے ساتھ ساتھ خواتین اپنے شوہروں یا بھائیوں کو ہدایات دینے یا ڈانٹنے سے گھبراتی نہیں تھیں۔ نارمتم نامی ایک آشوری خاتون دو مردوں کو لکھتی ہیں: ’کیا بات ہے کہ تم مجھے خوش خبری کی دو انگلی چوڑی لوح بھی نہیں بھیجتے؟‘

وہ قرضے اور گمشدہ سامان کے بارے میں ایک تنازع کی شکایت کرتے ہوئے ان مردوں پر اسے سلجھانے کے لیے زور ڈالتی ہیں، اور اچانک سے اپنے خط کا اختتام کرتی ہیں: ’مجھے کپڑے کی قیمت بھیجو اور خود کرو۔‘ ایک اور خاتون اپنے بھائی کو ایک گمشدہ ادائیگی پر طنز کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’اس قدر لالچی نہ بنو کہ مجھے برباد ہی کر دو۔‘

ان خواتین کو مشرقِ قریب کے چند دیگر معاشروں مثلاً قریب میں ہی واقع جنوبی عراقی شہر بابل کے مقابلے میں کہیں زیادہ آزادی حاصل تھی۔ مشیل نشاندہی کرتی ہیں کہ کنیش کی طرح آشور میں بھی شوہر اور بیوی دونوں طلاق مانگ سکتے تھے اور دونوں کو یکساں کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا۔

’مگر اسی دوران بابل میں اور بابل کے جنوب میں کوئی خاتون طلاق نہیں مانگ سکتی تھی، اور بابل کے شمال میں اگر کوئی خاتون طلاق مانگنے کی جرات کرتی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔‘

آشور، خواتین، کاروبار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک مٹی کی لوح (خط) اور اس کا لفافہ (دائیں جانب)

اور اس مضبوط معاشی اثر و رسوخ کے ساتھ خواتین کی ذاتی زندگیوں میں بھی حالات بہتر ہونے لگتے۔ اُن میں سے کئی خواتین شادی کرتے وقت معاہدے میں شرائط رکھتیں جن کے تحت اُن کے شوہر دوسری شادی یا خود سے سفر نہ کر سکتے۔ مثال کے طور پر: ’آشور ملک نے ارم آشور کی بیٹی سہکانا سے شادی کی ہے۔ آشور ملک جہاں بھی جائیں گے، اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ وہ کنیش میں کسی اور خاتون سے شادی نہیں کریں گے۔‘

پھر ایک ایسا وقت آیا کہ غیر واضح وجوہات کی بنا پر آشور اور کنیش کے درمیان تجارت کم ہوتے ہوتے رک گئی اور کنیش غیر آباد ہو گیا۔ دیگر شہروں اور برادریوں نے تجارت، تخلیق اور ثقاف کے تبادلے کا کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مگر خواتین کی مٹی کی لوحیں جنھیں آگ میں تپا کر سخت کیا جاتا تھا، اب بھی ہزاروں سال بعد ان لاوارث گھروں میں سے برآمد ہو رہی ہیں۔

یہ خواتین کے ایسے تجربات بیان کرتی ہیں جنھیں شاید ہی کبھی تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تجربات ملکاؤں یا اعلیٰ مذہبی خواتین کے نہیں ہیں بلکہ کام کرنے والی اُن خواتین کے ہیں جو اگلا دن بھی گزارنے کے لیے پریشان رہتی ہیں۔

جیسا کہ مشیل کہتی ہیں کہ میسوپوٹیمیا کے دیگر شہروں میں خواتین کے لکھے ہوئے خطوط بھی ملے ہیں، ’مگر یہ اُتنے نہیں ہیں۔ کنیش اس حوالے سے منفرد ہے۔‘

اور ایسے وقت میں جب کنیش کی تقریباً نصف لوحیں اب تک پڑھی نہیں گئی ہیں، تو ضرور ایسے کئی راز ہوں گے جو خود پر سے پردہ اٹھنے کے منتظر ہیں۔