ناصرہ نواز: ستر سالہ باہمت خاتون جنھوں نے امداد مانگنے کے بجائے کھانے کا کامیاب کاروبار جما لیا

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’کھانا لے لو کھانا، ماں کے ہاتھ کا کھانا، گھر کا بنا صاف ستھرا کھانا۔‘
راولپنڈی کے مصروف راجہ بازار میں گھومتے پھرتے یہ آوازیں آپ کو سننے کو ملیں گی۔ یہ آواز راولپنڈی کی رہائشی 70 سالہ ناصرہ نواز کی ہے جو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے گھر سے نکلی ہیں۔
ناصرہ نواز راولپنڈی میں ایک پرانے اور بوسیدہ گھر میں اپنے خاوند اور ایک بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔ دوپہر کا کھانا بنا کر وہ راجہ بازار اور اس کے نزدیک واقع چھ مارکیٹوں میں دکانداروں اور راہگیروں کو فروخت کرتی ہیں۔
جس علاقے میں وہ کھانا فروخت کرتی ہیں وہ سارا کمرشل علاقہ ہے اور وہاں پر ایک فٹ جگہ کا کرایہ بھی ہزاروں روپے میں ہے، تاہم وہاں پر ایک دکاندار نے انھیں جگہ فراہم کی ہوئی ہے جس کا وہ کوئی کرایہ وصول نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناصرہ نواز گیارہ بجے کے قریب اپنے گھر سے پکا ہوا کھانا لے کر نکلتی ہیں۔ وہ کھانے کے دو بڑے برتن اپنی بھانجی کی مدد سے اپنے گھر کی اوپر والی منزل سے اُتار کر رکشے میں رکھتی ہیں اور بارہ بجے کے قریب اپنا کام شروع کر دیتی ہیں جو کہ عموماً سورج ڈھلنے سے پہلے تک جاری رہتا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں بہت سی خواتین آن لائن گھر کا کھانا ایسے افراد کو پہنچانے کی سروس مہیا کرتی ہیں جو اپنی کام کی جگہ پر بوجوہ گھر سے کھانا نہیں لا سکتے تاہم ایک خاتون کی طرف سے پکا ہوا کھانا آوازیں لگا کر فروخت کرنا نئی بات ہے۔
ناصرہ نواز کا کھانا فروخت کرنے کا انداز بھی کافی منفرد ہے۔ اُنھوں نے ایک مائیک اپنے پاس رکھا ہوا ہے، جہاں سے وہ گزرتی ہیں تو وہ اس روز بنائے اپنے کھانوں کی آوازیں لگاتی ہیں اور جن دکانداروں یا راہگیروں کو اس میں سے جو ڈش پسند آئے تو وہ اس کی فرمائش کرتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ناصرہ گذشتہ تین سال سے یہ کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دکانداروں کی فرمائش اور پسند کو سامنے رکھتے ہوئے وہ روزانہ چار پانچ پکوان بنا کر اُنھیں ڈسپوزیبل برتنوں میں پیک کرتی ہیں اور اگر کسی کی الگ سے فرمائش ہو تو پھر اس صارف کے لیے خصوصی ڈش تیار کی جاتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ شروع میں وہ کھانا ان افراد کے لیے لے کر آتی تھیں جو کہ غیر شادی شدہ تھے اور وہ جب کھانا فروخت کرنے کی آواز لگاتی تھیں تو واضح انداز میں اعلان کرتیں کہ یہ کھانا ان افراد کے لیے ہے جن کی شادی نہیں ہوئی اور یہ کہ شادی شدہ افراد اپنی بیویوں کے ہاتھ کا کھانا کھائیں۔
کھانا بیچتے ہوئے اُن کی یہ شرط سن کر دکاندار اور راہگیر مسکرائے بغیر نہیں رہ پاتے تھے۔

ناصرہ کا کہنا ہے کہ جب ان غیر شادی شدہ لوگوں کے شادی شدہ دوست ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو وہ بھی کھانا لینے کی فرمائش کرتے، جس کے بعد اُنھوں نے اپنی ’پالیسی‘ میں تبدیلی کی اور ان لوگوں کو بھی کھانا سپلائی کرنا شروع کر دیا جو شادی شدہ ہیں اور گھروں سے کھانا نہیں لے کر آتے۔
اُن سے کھانا خرید کر کھانے والے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ ’جب سے اماں جی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا ہے تو اس کے بعد سے مارکیٹوں میں واقع ہوٹلوں سے کھانا منگوانا چھوڑ دیا ہے۔‘
دکاندار منصور قادری بھی اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں جن کی راجہ بازار میں الیکٹرانکس کی دکان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’بعض اوقات میری اہلیہ کی جانب سے دوپہر کے کھانے کی تیاری میں ناگواری کا اظہار کیا جاتا تھا، لیکن جب سے اماں جی نے کھانا فروخت کرنا شروع کیا ہے تو میں ان سے کھانا خرید کر کھا لیتا ہوں۔ اس طرح نہ صرف گھر کا بنا ہوا کھانا مل جاتا ہے بلکہ اہلیہ کو بھی آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور انھیں اطمینان بھی رہتا ہے کہ میرا شوہر ہوٹلوں کے کھانے نہیں کھا رہا۔‘

ناصرہ پڑھی لکھی تو نہیں ہیں لیکن 70 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود ان کی یادداشت بہت اچھی ہے۔ وہ جن دکانداروں کو کھانا دیتی ہیں تو شام ہونے سے پہلے ان سے کھانے کے پیسے بھی وصول کرتی ہیں۔ ناصرہ نواز کو یہ تک معلوم ہوتا ہے کہ کس دکاندار نے سبزی کا سالن خریدا تھا اور کس نے گوشت کا سالن لیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ دو روز تک کا تو ادھار کر لیتی ہیں لیکن اگر کوئی تیسرے دن بھی ادھار پر کھانا خرید کر پیسے نہ دے تو پھر وہ اس کی شکایت متعلقہ مارکیٹ کے صدر کو کرتی ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ اُن کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ شوہر پی آئی اے میں ٹھیکداری کرتے تھے تاہم وہاں سے کام ختم ہونے کے بعد کچھ عرصے تک جو جمع پونجی تھی وہ کھاتے رہے، لیکن پھر وہ بیمار رہنے لگے اور جو پیسے بچے ہوئے تھے وہ سارے ان کی بیماری پر لگ گئے۔
’ایسے حالات میں گھر چلانے کے لیے کسی نہ کسی کو تو باہر نکلنا ہی تھا۔ چونکہ شوہر کی جسمانی حالت ٹھیک نہیں تھی اس لیے میں نے روزگار کے لیے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے تین بیٹے ان کی کوئی مالی معاونت نہیں کرتے تو ناصرہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور پھر حوصلہ اکھٹا کرتے ہوئے وہ بولیں کہ ’مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ان کے شوہر سبزیاں کاٹنے اور حساب کتاب میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ مالی معاونت کے لیے حکومت کے کسی ادارے سے رابطہ کیوں نہیں کرتیں تو ناصرہ نے پنجابی کی یہ ضرب المثل سنائی ’منگتیاں کولوں منگنا لعنتیاں دا کم۔‘
ناصرہ نواز کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں جہاں پر مردوں کی حکمرانی ہے وہاں پر ایک عورت کا گھر سے باہر نکلنا کسی طور پر بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جب وہ سڑکوں پر خواتین اور بچیوں کو بھیک مانگنتے ہوئے دیکھتی ہیں تو ان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہاں سے گزرنے والے لوگ جس بری نظر سے ان خواتین کو دیکھتے ہیں تو بطور خاتون وہ پانی پانی ہو جاتی ہیں۔
ناصرہ نواز کا کہنا تھا کہ وہ بھیک کو ایک لعنت سمجھتی ہیں اور اُنھوں نے سڑکوں پر بھیک مانگنے والی متعدد لڑکیوں سے کئی بار کہا ہے کہ وہ بھیک مانگنا چھوڑیں اور کوئی ہنر سیکھ کر اپنا روزگار کمائیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ وہ روزانہ جو کھانا بناتی ہیں ان میں سے کچھ حصہ ان افراد کے لیے بھی ہوتا ہے جن کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہوتے۔
ناصرہ نواز کا کہنا تھا کہ اگر کسی دن کوئی کھانا بچ جاتا ہے تو وہ وہاں پر بھیک مانگنے والوں کو دے دیتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر روز کھانا لوگوں کو پسند آئے، بلکہ بعض اوقات کھانا خریدنے والے ان کھانوں میں خرابیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جن کو اگلے روز دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ناصرہ ہفتے میں چھ دن کھانا سپلائی کرتی ہیں اور اس دن چھٹی کرتی ہیں جس روز مارکیٹیں بند ہوتی ہیں۔
ناصرہ نواز چھٹی والے دن اپنے بچوں کے گھروں میں جاتی ہیں، جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اُن کے آنسو جاری ہو گئے۔









