شہرزاد: ایک ایرانی تارک وطن خاتون جو ویڈیو ٹیکنالوجی کی صنعت کی فاتح بن گئیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہرزاد رفاتی جب کینیڈا پہنچیں تو ان کے پاس صرف ایک سوٹ کیس تھا اور انہیں انگریزی زبان کی معمولی سمجھ ہی تھی۔ آج وہ ویڈیو ٹیکنالوجی کمپنی براڈ بینڈ ٹی وی کی مالک ہیں۔ بی بی سی نے ان سے ان کے اس غیر معمولی سفر کی کہانی معلوم کی۔
شہزاد رفاتی محض 13 برس کی تھیں جب انھوں نے طے کیا کہ وہ ایک دن بہت بڑے کاروبار کی مالک بنیں گی۔ ایسا کاروبار جو دنیا بھر میں جانا جائے گا۔
انھیں یہ بھی خدشہ تھا کہ ایران میں رہتے ہوئے وہ اپنے اس خواب کو پورا نہیں کر سکیں گی۔ اسی خیال کے ساتھ 17 برس کی عمر میں انھوں نے اپنے والدین کو راضی کر لیا کہ وہ انھیں یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے وینکوور بھیج دیں۔
یہ بھی پڑھیے
شہرزاد 1996 میں ایک سوٹ کیس کے ساتھ وینکوور پہنچیں۔ انھوں نے بتایا 'جب میں یہاں پہنچی تو میں اپنی بات لوگوں کو نہیں سمجھا پاتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ وہ سب سے بڑی دشواری تھی۔ لیکن میں نے طے کر لیا تھا کہ مجھے ایک کامیاب زندگی چاہیے۔'
نو عمری میں ایران چھوڑ دینے والی شہرزاد آج 40 برس کی ہو چکی ہیں اور بی بی ٹی وی نامی کمپنی چلاتی ہیں۔ ان کی کمپنی یوٹیوب، فیس بک اور ایسی دیگر ویب سائٹس پر لگے ویڈیوز میں اشتہارات کے ذریعے کمائی کرنے میں دنیا بھر کی کمپنیوں کی مدد کرتی ہے۔
ان کی کمپنی کا آغاز 2005 میں ہوا۔ ان کے کلائنٹس میں نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن سے لے کر سونی، وارنر بردرز اور ڈزنی جیسی بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے بھی شامل ہیں۔ کینیڈا کے مقامی اخبار کے مطابق ان کے کاروبار کی قیمت ایک بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ کاروبار کے لیے ضروری ہے کہ جتنا ہو سکے اتنا اونچا خواب دیکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہShahrzad Rafati
شہرزاد کا تعلق ایران کے ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ ان کی پیدائش 1979 میں ہوئی، یہ ایرانی انقلاب کا سال تھا۔ ان کی والدہ کپڑوں کی مل چلاتی تھیں اور والد کی کمپنی میں جائیداد کی خرید و فروخت کا کام ہوتا تھا۔
1980 سے 1988 کے درمیان تحریک اور ایران عراق جنگ کے دوران ان کے خاندان کے لیے حالات مشکل ہو گئے تھے۔ عراق کی فضائیہ کی بمباری سے بچنے کے لیے شہرزاد کے خاندان نے تہران چھوڑ دیا اور ایک گاؤں میں جا کر رہنے لگے۔
انھوں نے بتایا کہ 'ایران میں آٹھ برس تک جنگ جاری رہی اور میرے خاندان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب چھن گیا۔ میں جانتی تھی کہ مجھے مختلف زندگی اور مستقبل چاہیے تھا، جس میں سب برابر ہوں اور میں دوسروں کی زندگی کو مثبت انداز میں متاثر کر سکوں۔'
ان حالات میں نوعمری میں ہی ان کا ملک سے باہر جانے کا ارادہ اور بھی پکا ہو گیا۔
وینکوور میں انھوں نے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں داخلہ لیا۔ انہیں کمپیوٹر کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہیں تھی، لیکن انہیں ریاضی اور ٹیکنالوجی میں بہت دلچسپی تھی۔
2000 میں گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سوربون کی پیرس یونیورسٹی سے فرینچ کی تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے بزنس سکول سے لیڈرشپ کا کورس کیا۔
ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ ایپل میوزک کی صنعت کو کیسے متاثر کر رہا ہے۔ اور لوگ ایپل کے آئی پاڈ اور آئی ٹیونز کے ذریعے کیسے میوزک سن رہے ہیں۔ انھوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ مستقبل میں اسی طرح ویڈیوز بھی آن لائن سٹریم ہوا کریں گے۔
انھوں نے بتایا 'میوزک سنے جانے کے انداز میں تبدیلی اس بات کے اشارے دے رہی تھی کہ ویڈیوز کا مستقبل کیا ہوگا۔ ارتقاء کے آغاز میں آڈیو تھا اور یہ بات واضح تھی کہ اگلا نمبر ویڈیو کا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی خیال کے ساتھ 2005 میں 25 برس کی عمر میں انھوں نے اپنی کمپنی بی بی ٹی وی کھولی۔ اسی سال یوٹیوب کا بھی جنم ہوا۔
کینیڈا کے وزیرا عظم جسٹن ٹروڈو نے شہرزاد رفاتی کا انتخاب 2018 کے جی ٹوئنٹی اجلاس میں کینیڈا کی کاروباری خواتین کی نمائندگی کرنے کے لیے کیا۔
آغاز میں ان کی کمپنی سیٹ ٹاپ باکس بناتی تھی جس کی مدد سے لوگ اپنے ٹی وی پر انٹرنیٹ کی ویڈیوز دیکھ سکتے تھے۔ لیکن لوگ آن لائن موجود مواد کو اپنے کمپیوٹر پر زیادہ آسانی سے دیکھ سکتے تھے، اس لیے تین ماہ کے اندر شہرزاد نے طے کیا کہ وہ کمپنی کی توجہ کا مرکز بدل دیں گی۔
انھوں نے کہا 'آپ کو جلد از جلد ناکام ہو کر اپنی غلطیوں سے فوری طور پر سیکھنا ہوتا ہے۔'
انھوں نے دیکھا کہ انٹرنیٹ یوزر ویڈیوز کی جعلی کاپی بنا کر انہیں یوٹیوب جیسے آن لائن پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کر رہے تھے۔ اس کے بعد کاپی رائٹ کمپنیاں اور فلم یا ٹی وی کمپنیاں انہیں جلد از جلد ہٹانے کی کوشش میں لگ جاتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBroadbandTV
تب انہیں ایک غیر معمولی آئیڈیا آیا۔ انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جائے جو ویڈیوز کو ہٹانے کے بجائے ان کی مالک کمپنیوں کی اشتہارات سے کمائی کرنے میں مدد کرے۔
بی بی ٹی وی کا سافٹ ویئر ایسے مواد کو تلاش کرتا ہے جیسے کھیلوں کی ہائی لائٹس یا کسی فلم سے کوئی سین۔ ایسا آڈیو ویڈیو رکگنیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوتا ہے۔ پھر ان پر اشتہارات لگا دیے جاتے ہیں۔
اشتہارات سے ہونے والا نفع ان کمپنیوں یا اداروں کو جاتا ہے جن کا وہ مواد ہوتا ہے۔ نفعے کا کچھ حصہ بی بی ٹی وی کو ملتا ہے۔
دو برس کے اندر ہی بی بی ٹی وی کے پاس پہلے بڑے کلائنٹ این بی آئی کی آمد ہوئی جو آج بھی بی بی ٹی وی کی خدمات لے رہا ہے۔ شہرزاد نے بتایا 'میری عمر کم تھی، میں بہت گھبرائی ہوئی تھی، لیکن مجھے اپنی ٹیکنالوجی میں مکمل یقین تھا۔'
کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے انھوں نے متعدد سرمایہ کاروں کا ساتھ حاصل کیا جن میں کینیڈا کے ٹیکنالوجی سے متعلق کاروباری شخصیت حامد شاہبازی بھی شامل ہیں۔ 2013 میں یوروپی انٹرٹینمینٹ گروپ آر ٹی ایل نے کمپنی کے 51 فیصد شیئر 36 ملین ڈالر میں خرید لیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آر ٹی ایل اپنا شیئر بڑھاتی گئی جو اب 57.3 فیصد ہے، لیکن اب بھی واحد سب سے برا شیئر شہرزاد کے پاس ہی ہے۔
بی بی ٹی وی کمپنی اب آن لائن ویڈیوز بنانے کے سافٹ وئرز بھی بناتی ہے۔ اس کی خدمات کمپنیوں کے علاوہ عام لوگ بھی لے سکتے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی سے منسلک ویڈیوز کو 2019 میں 429 بلین مرتبہ دیکھا گیا۔
کینیڈا میں کاروباری خواتین اور خواتین رہنماوٴں کی مدد کرنے والے ادارے ویمین آف انفلوئینس کی چیف ایکزیکیوٹیو سٹیفنی ورالی کے بقول شہرزاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اُس میں اِس صنعت کے ساتھ ساتھ خود بھی بڑا اور بہتر ہوتے جانے کی صلاحیت ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'وہ مسلسل مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے اور اسی لیے وہ اس کھیل میں آگے ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مردوں کے غلبے والی صنعت میں ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے شہرزاد کا کہنا ہے کہ انہیں اس میدان میں مردوں کے مقابلے زیادہ محنت کرنی پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس غلطی کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں تھی۔
بی بی ٹی وی کے ذریعے انھوں نے ایک عالمی شناخت والا کاروبار کھڑا کرنے کا اپنا خواب پورا کیا ہے۔ وینکوور میں کمپنی کے صدر دفتر سمیت نیو یارک، لاس اینجلس اور ممبئی کے دفاتر میں چار سو ملازمین کام کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں خواتین اور مرد ملازمین کے درمیان تبخواہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کل ملازمین میں سے 43 فیصد خواتین ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر 46 فیصد خواتین ہیں۔ یہ کسی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے زبردست اعداد و شمار ہیں۔
شہرزاد نے کہا کہ وہ اس بات پر بہت فخر محسوس کرتی ہیں اور شاید یہی بی بی ٹی وی کی کامیابی کی ایک وجہ بھی ہے۔








