کاروباری خاتون تانیا رابرٹسن: ’مرد سرمایہ کاروں سے زیرِ جامہ پر بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی‘

،تصویر کا ذریعہWomanhood
- مصنف, جیریمی ہوویل
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
تانیا رابرٹسن نے جب ’وویمن ہوڈ‘ نامی ایک آن لائن کمپنی شروع کی تو ان کا خواب تھا کہ وہ اس کے ذریعے خواتین کے لیے مختلف سائزوں اور طرز کے زیر جامہ فروخت کریں گی۔
تاہم ان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ کاروباری قرضے فراہم کرنے والی جن کمپنیوں سے انھوں نے رابطہ کیا وہاں انھیں اکثر مردوں سے بات کرنا پڑتی تھی اور خواتین کے زیر جاموں پر ان سے بات کرنا عجیب سا لگتا تھا۔
تانیا کا کہنا ہے کہ اکثر کارروباری معالات طے کرتے ہوئے ایسی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی تھی جہاں آپ کو جسمانی ساخت اور سائز کے بارے میں بھی بات کرنا پڑتی تھی اور مخالف جنس کے ساتھ ایسا کرنا کبھی کبھار دشوار ہو جاتا تھا۔
اس گفتگو کے دوران کبھی پہلو بدلے جاتے اور کبھی گلا صاف کیا جاتا اور کچھ سوالوں سے گریز کر کے گفتگو دوسری طرف موڑ دی جاتی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ یہ صورتحال مایوس کن ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ وویمن ہوڈ کے فروخت کی وجہ ان زیر جاموں کا آرام دہ ہونا ہے، جس لیے تمام عورتیں یہ استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
تانیا نے کہا کہ ان کی والدہ تک کو زیر جامہ (برآ) خریدنا بہت برا لگتا تھا۔
’حقیقتاً مجھے اپنی زندگی میں ایسی بہت سی خواتین ملی ہیں۔ ان میں میری سہلیاں، بہنیں اور رشتہ دار بھی شامل ہیں اور شاید ان سب کو ہی ایسا محسوس ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2019 میں اپنی کمپنی کے قیام کے بعد سے اب تک وہ 11 مختلف ڈیزائنرز کے ڈیزائن کردہ زیرجامے فروخت کر چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر ڈیزائنر کا سٹاک ہمارے اقدار سے مطابقت رکھتا ہو اور متنوع بھی ہو تاکہ ہر کسی کی ضروریات کا خیال بھی رکھا جا سکے۔‘
’ہم دراصل چاہتے ہیں کہ اپنے خریداروں کو وہ فراہم کریں جو وہ چاہتے ہیں بجائے اس کے ہم انھیں یہ بتائیں کہ وہ زیر جامہ میں کیسی دکھیں گی یا انھیں کس طرح کی برا پہننا چاہیے وغیرہ۔‘
کاروبار شروع کرتے ہی پہلے سال میں ہونے والی فروخت کے اعداد و شمار انتہائی حوصلہ افزا رہے یہاں تک کہ تانیا کو اپنے کارروبار کو وسعت دینے کے لیے قرضے فراہم کرنے والوں کے پاس جانا پڑا۔
اس موقع پر انھیں یہ مشکل درپیش آئی کہ انھیں اپنے آئیڈیاز بتانے کے لیے زیادہ تر کارروباری قرضے فراہم کرنے والے بینکوں اور اداروں میں کام کرنے والے مرد حضرات سے بات کرنا پڑی۔
انھوں نے کہا ’خواتین اپنے تجربات شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں کہ کس طرح انڈرویئر نے ان کی زندگی پر اثر ڈالا۔ وہ اس بات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں لیکن مردوں کے ساتھ یہ بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
ایسے موقعوں پر ان کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ مردوں سے بات کرتے ہوئے گفتگو کا رخ موڑ دیتے ہیں تاکہ انھیں بات چیت آگے بڑھانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ جب ہم منافع پر بات شروع کرتے ہیں یا کارروبار کے بڑھنے پر بات ہوتی ہے تو وہ ان اعداد و شمار پر بہت اطمینان سے بات کرتے ہیں اور یہ زبان دونوں اچھی طرح سمجھتے ہیں۔












