وہ بلوچ خاتون جس نے صوبے کی عورتوں کو تحصیلدار اور نائب تحصیلدار بننے کا حق دلوایا

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک خاتون کی کاوشوں کے باعث صوبے میں خواتین کے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار بننے کی راہ میں رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں خواتین کو طویل عرصے سے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کے عہدوں کے لیے درخواست دینے کا اہل نہیں سمجھا جاتا تھا، پھر ایک خاتون نے اس امتیازی سلوک کو چیلنج کیا اور ان کی کاوشوں سے اب ہائی کورٹ نے ان عہدوں کے لیے دیے اشتہار کو امتیازی قرار دیتے ہوئے حکام کو نئے اشتہار دینے کی ہدایت کی ہے جس میں تمام امیدواروں کو صنفی امتیاز کے بغیر امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ خاتون کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی وکیل نرگس سمالانی ہیں جنھوں نے دوران تعلیم شادی ہو جانے کے باوجود نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایل ایل بی کے علاوہ وکالت بھی شروع کی۔
وہ کہتی ہیں کہ 'تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی آسامیوں کے لیے خواتین کو اہل قرار دیا جانا بلوچستان میں خواتین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے انتظامی آسامیوں پر خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا'۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے نرگس سمالانی کا کہنا تھا کہ یہ بات ان کے لیے باعث حیرت تھی کہ بلوچستان میں تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی آسامیوں کے لیے صرف مرد امیدوار اہل تھے لیکن دیگر صوبوں میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔
آئیے جانتے ہیں کہ نرگس سمالانی ایڈووکیٹ نے ایسا کیاکیا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحصیلدار اور نائب تحصیلدروں کی آسامیوں کے لیے خواتین کو اہل قرار دیا گیا ہے۔

نرگس سمالانی نے بتایا کہ وہ ایک روز اپنے دفتر میں بیٹھی تھیں تو ان کی نظر اخبار میں ایک اشتہار پر پڑی جو کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی آسامیوں کے لیے دیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے اس اشتہار میں یہ دیکھا کہ صرف مرد امیدوار ان کے لیے اہل ہیں تو ان کہ حیرانگی کی انتہا نہیں رہی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'میں نے سوچا کہ خواتین جب اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور سیکریٹریز بن سکتی ہیں تو پھر تحصیلدار اور نائب تحصیلدار میں ایسی کونسی بات ہے کہ وہ اس کے لیے اہل نہیں ہوسکتی ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تو صریحاً جنسی امتیاز کی بنیاد پر ایک شرط تھی جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تو تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے امیدوار نہیں بننا چاہتی ہوں بلکہ وکالت کے پیشے کو ہی جاری رکھوں گی لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ بلوچستان میں خواتین بھی تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے اہل ہوں۔
نرگس نے اس امتیازی شرط کو ختم کرانے کے لیے کیا کیا؟
نرگس کا کہنا تھا کہ انھوں نے سب سے پہلے تمام صوبوں میں تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی آسامیوں کے لیے اہلیت کا موازنہ کرنے کے لیے تحقیق کی۔
انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مختلف کیس اسٹڈیز کے علاوہ دوسرے صوبوں کے قواعد وضوابط کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ان کے سامنے آئی کہ سندھ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں خواتین کے لیے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے درخواست دینے پر نہ صرف کوئی پابندی نہیں بلکہ پنجاب تو ایک قدم آگے ہے کیونکہ وہاں توٹرانسجینڈرز بھی اگر تحصیلدار اور نائب تحصیلدار بننا چاہیں تو وہ بھی ان کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
نرگس کا کہنا تھا کہ' سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا جہاں طالبان کے اثرات زیادہ ہیں وہاں خواتین ان آسامیوں کے لیے اہل ہیں تو پھر وہ بلوچستان میں کیوں اہل نہیں ہو سکتی ہیں'۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ آسامیاں بورڈ آف ریونیو کی ہیں اس لیے انھوں نے سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ایک درخواست دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ صرف مرد امیدواروں کو اہل قرار دینے کی امتیازی شرط کو ختم کرکے ان آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرایا جائے۔

نرگس سمالانی نے ہمت نہیں ہاری
نرگس کا کہنا تھا کہ ان کی اس درخواست پر بورڈ آف ریونیو نے اس امتیازی شرط کوختم کرنے کے لیے اقدام نہیں کیا لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ خواتین کو اہل نہ قرار دیا جانا ایک امتیازی شرط ہے جس کی آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں اس لیے انھوں نے اس کے خلاف آئین کے شق 199کے تحت بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس آئینی درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ کہ ایسے قواعد و ضوابط جو کہ خواتین کو تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کی آسامیوں کے لیے نا اہل قرار دیں، کو غیر آئینی اور غیرقانونی قرار دیا جائے ۔
درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ متعلقہ حکام کو یہ ہدایت کی جائے کہ وہ ان آسامیوں پر خواتین کے لیے کوٹہ مختص کریں اور خواتین کو اس بات کی بھی اجازت دی جائے کہ وہ مقابلے کے امتحان میں حصہ لیں۔
انھوں نے بتایا کہ عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو یہ ہدایت کی جا ئے کہ وہ ان آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرے اور خواتین سمیت تمام خواہشمند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیے
ہائیکورٹ نے نرگس سمالانی ایڈووکیٹ کی درخواست پر کیا حکم دیا ؟
بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس گل حسن خان ترین پر مشتمل بینچ نے اس آئینی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسی شرط جس کے تحت صرف مرد امیدواروں کو اہل قرار دیا گیا ہو اور خواتین کو روک دیا گیا ہو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
عدالت نے یہ حکم دیا کہ متعلقہ حکام خواتین امیدواروں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مقرر کریں اور مخصوص کوٹے کے علاوہ خواتین امیدوار اوپن میرٹ کی نشستوں پر بھی حصہ لینے کے لیے اہل ہوں گی۔
ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے کہا کہ خواتین کے لیے مختص آسامیوں کے لیے اگر اہل خواتین امیدوار دستیاب نہ ہوں توان کو مستقبل میں خواتین سے ہی پر کیا جائے۔
عدالت نے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کی آسامیوں کودوبارہ مشتہر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بلاامتیاز تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جائیں۔
ہائیکورٹ کے بینچ نے موجودہ قوانین میں پائے جانے والے ہر قسم کے امتیازات کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو حکم دیا کہ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے دفتر کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

’ہائیکورٹ کا فیصلہ بلوچستان میں خواتین کے لیے بڑی کامیابی ہے‘
نرگس سمالانی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ بلاشبہ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ بلوچستان میں خواتین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں اس فیصلے سے خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے میں مدد ملے گی وہاں اب بلوچستان میں جو بھی انتظامی آسامی ہیں ان پر خواتین کی تعداد بڑھتی جائے گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب تک خواتین کی حیثیت سے متعلق بلوچستان میں کمیشن نہیں بنتا اور پرانے رولز اور ریگولیشن کو تبدیل نہیں کیا جاتا تو اس وقت تک خواتین کے لیے رکاوٹیں رہیں گی۔
نرگس نے بتایا کہ 1996سے پاکستان جنسی امتیاز کے خاتمے کے لیے انٹرنیشنل کنوینشن پر دستخط کنندہ ہے اور اس کنوینشن کے تحت باقی صوبوں میں خواتین کی حیثیت پر کمیشن تو بن گیا ہے لیکن بلوچستان میں یہ قائم نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اگر یہ کمیشن قائم ہوتا تو وہ کمیشن خود امتیازی قوانین کو ختم کر سکتا تھا اور مجھے ہائیکورٹ میں اس آئینی درخواست کو دائر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی'۔

نرگس سمالانی ایڈووکیٹ کون ہیں ؟
نرگس سمالانی ایڈووکیٹ کا تعلق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہے۔
وہ شادی شدہ ہیں اور سنہ 2009 میں شادی کے وقت وہ سکول کی طالبہ تھی۔
پاکستان میں شادی کے بعد اکثر خواتین تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیتی ہیں لیکن شادی نرگس ایڈووکیٹ کی تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایف ایس سی اور بی ایس سی کرنے کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
انھوں نے ایم ایس سی کرنے کے بعد بھی تعلیم کا سلسلہ ترک نہیں کیا بلکہ یونیورسٹی آف بلوچستان سے ہی بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔
اتنی ساری ڈگریوں کے بعد انھوں نے شوہر کے ساتھ ایل ایل بی کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں نے نہ صرف ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی بلکہ پریکٹس بھی شروع کی اور اب وہ ایک معروف وکیل ہیں۔













