قطر میں کنٹینرز سے تعمیر ہونے والا سٹیڈیم کہاں گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیک سکیلٹن
- عہدہ, بی بی سی سپورٹس
فیفا ورلڈ کپ 2022 کے لیے قطر میں بنائے جانے والے عارضی سٹیڈیم 974 میں دو ہفتوں میں سات میچز ہوئے اور اب ورلڈ کپ کے اس پہلے عارضی سٹیڈیم کو جلد ہی ختم کر دیا جائے گا۔
اس سٹیڈیم کا نام سٹیڈیم 974 قطر کے بین الاقوامی ڈائلنگ کوڈ اور اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے شپنگ کنٹینرز کی تعداد کی مناسبت پر رکھا گیا۔ یہ فٹبال کے عالمی ٹورنامنٹ کے لیے بنائے گئے سات میدانوں میں سے ایک تھا۔
سٹیڈیم 974 کے سٹیل کے پورے ڈھانچے کو کسی دوسرے ورلڈ کپ یا کھیلوں کے بڑے ایونٹ کے لیے اسی سائز کے مقام یا کئی چھوٹی سہولیات کے طور پر دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔
قطر نے پہلے کاربن نیوٹرل ورلڈ کپ کی فراہمی کے اپنے عہد کے ایک حصے کے طور پر سٹیڈیم کو اپنی ’پائیداری کا روشن مینار‘ قرار دیا۔
سات نئے سٹیڈیم کے ساتھ ساتھ قطر میں ایک نیا ہوائی اڈہ، میٹرو سسٹم، سڑکیں اور تقریباً 100 نئے ہوٹل تعمیر ہوئے ہیں لیکن اس نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کام کرنے والے دسیوں ہزار تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا، اس پر قطر کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سٹیڈیم 974 کو آنے والے دنوں میں فیشن شو اور کانسرٹس کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ قطر 2022 کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے ’مکمل طور پر ختم کرنے اور دوبارہ تیار کرنے کے لیے کوئی قطعی ٹائم لائن‘ ابھی طے نہیں کی گئی۔
تو سٹیڈیم 974 پروجیکٹ کتنا پائیدار ہے اور سٹیڈیم کو کہاں اور کب دوبارہ استعمال کیا جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مستقبل کی ایک جھلک؟
یہ 44,089 لوگوں کو سمانے کی صلاحیت رکھنے والا سٹیڈیم 974 دوحہ کے ساحل پر واقع ہے اور یہ ایک ماڈیولر سٹیل فریم پر ٹکا ہوا ہے جس میں باہر سے مختلف رنگ کے شپنگ کنٹینرز دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس میں واش رومز کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے سٹال کی بھی سہولیات موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا جانے والا واحد سٹیڈیم تھا جس میں ایئر کنڈیشنگ نہیں تھی۔ اس لیے یہاں صرف شام کے میچوں کی میزبانی کی گئی اور یہاں آخری میچ برازیل نے جنوبی کوریا کے خلاف 5 دسمبر کو کھیل کر آخری 16 ٹیموں میں اپنی جگہ بنائی۔
شپنگ کنٹینرز اور ری سائیکل شدہ سٹیل کے استعمال نے دیگر نئے مقامات کے مقابلے میں پیدا ہونے والے فضلہ اور تعمیراتی وقت کو کم کرنے میں مدد کی۔
ماحولیات پر نظر رکھنے والے گروپ کاربن مارکیٹ واچ نے کہا کہ اگر موجودہ قابلِ استعمال ڈھانچے کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے تو اس سے کھیلوں کے بڑے ایونٹس کے لیے بولی لگائی جا سکتی ہے اور یہ ’ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ قابل رسائی‘ ہوگا کیونکہ اخراجات مختلف ایڈیشن کی میزبانی کرنے والے کئی ممالک کے درمیان تقسیم ہو جائیں گے۔
سٹیڈیم 974 میں فیفا کی طرف سے کمیشن کی گئی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے ماہرین کی طرف سے فراہم کی گئی ایک رپورٹ نے بھی اس فائدے کی طرف اشارہ کیا ہے اور مزید کہا کہ اس طرح سے سٹیڈیم زیادہ مرکزی اور ’آسانی سے قابل رسائی‘ مقامات پر تعمیر کیے جا سکتے ہیں، جس سے ٹورنامنٹ کے دوران ’انٹرا سٹی فین ٹریول‘ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
منتظمین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دوسرے سٹیڈیمز سے 170,000 نشستیں ترقی پذیر ممالک کو عطیہ کریں گے تاکہ انھیں مزید پائیدار بنانے کی کوشش کی جا سکے اور مستقبل میں ان کا استعمال کم ہونے سے بچایا جا سکے تاہم کاربن مارکیٹ واچ نے کہا کہ نشستوں یا کرسیوں کی تقسیم کے لیے انھیں ’کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں مل سکا۔‘
ماہرین ماحولیات نے قطر ورلڈ کپ کے کاربن نیوٹرل ہونے کے دعوے کو بھی ’خطرناک اور گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں کاربن فٹ پرنٹ بتائی گئی سطح سے تین گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوبارہ استعمال کی اہمیت
فیفا کی رپورٹ میں سٹیڈیم 974 کی تعمیر سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج کا موازنہ چار مستقل سٹیڈیمز کے اوسط اخراج سے کیا گیا، جن کی گنجائش 40,000-45,000 ہے۔
اس نے پایا کہ عارضی سٹیڈیم مستقل سٹیڈیم میں بنیادی طور پر کنکریٹ کے استعمال کے مقابلے میں ’شروع میں دھات اور سٹیل جیسے کاربن کی شدت والے مواد کے استعمال کی وجہ سے زیادہ کاربن خارج کرتا ہے‘ لیکن اسے متعدد بار توڑا اور دوبارہ جمع کیا جاسکتا ہے۔
لہذا ابھی یہ جس طرح بنا ہے تو اس سٹیڈیم میں قطر 2022 کے لیے بنائے گئے دوسرے مستقل سٹیڈیمز کے مقابلے میں زیادہ کاربن فوٹ پرنٹ ہے۔
کاربن مارکیٹ واچ کا کہنا ہے کہ مستقل سٹیڈیمز کے مقابلے میں عارضی سٹیڈیم میں کل کاربن فٹ پرنٹ کا کم ہونا ’اس بات پر منحصر ہے کہ اس سٹیڈیم کو کتنی بار اور کتنی دور دور تک منتقل اور دوبارہ اسمبل کیا جاتا ہے۔‘
فیفا کے مطالعے نے سٹیڈیم 974 کے مستقبل کے لیے تین مختلف منظرناموں کا جائزہ لیا، جس میں اسے مختلف مقامات کی ایک سیریز میں ایک بار، دو بار یا تین بار دوبارہ استعمال کیا جانا شامل ہے۔
اس نے پایا کہ اگر عارضی سٹیڈیم کو صرف ایک بار دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے، تو اسے دو مستقل سٹیڈیمز کی تعمیر سے زیادہ ’ماحولیاتی طور پر فائدہ مند‘ ہونے کے لیے ’سمندری اور سڑک کے کل سفر یعنی 7,033 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر‘ منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس نے خطے کے اندر، یا خاص طور پر قطر میں دوبارہ تعمیر کیے جانے والے سٹیڈیم کے ماحولیاتی فوائد پر بھی روشنی ڈالی۔
اس طرح زیادہ سے زیادہ سفری اعداد و شمار دو بار استعمال کے لیے مجموعی طور پر 40,118 کلومیٹر اور تین بار کے لیے 72,616 کلومیٹر تک بڑھ جاتا ہے۔
تینوں منظرنامے اسی عارضی سٹیڈیم پر بنائے گئے ہیں، جو پہلے مقام پر چار سال گزارے گا اور اس کے بعد ہر مقام پر 60 سال کی اپنی عمر تک یہ اپنی آخری منزل پر جانے سے پہلے ہر جگہ اتنے ہی سال گزارے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹیڈیم کہاں جا رہا ہے؟
ایسا لگتا ہے کہ سٹیڈیم 974 کے مستقبل کے استعمال یا مقامات کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کاربن مارکیٹ واچ نے کہا کہ اگرچہ منتظمین نے ’عارضی سٹیڈیم کی ڈسمینٹل کیے جانے کی نوعیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم ہم کسی خاص منصوبے کی نشاندہی نہیں کرسکے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سٹیڈیم کو الگ الگ کیا جاتا ہے تو سٹیڈیم کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ سٹیڈیم 974 یوراگوئے کو بھیجا جا سکتا ہے، جو 2030 کے ورلڈ کپ کے لیے ارجنٹائن، چلی اور پیراگوئے کے ساتھ مشترکہ بولی کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔
یوراگوئے دوحہ سے تقریباً 13,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس لیے اگر عارضی سٹیڈیم کو وہاں منتقل کیا جاتا ہے، تو اسے دوبارہ تیسرے مقام پر استعمال کرنا پڑے گا تاکہ یہ ہر جگہ الگ الگ نئے سٹیڈیم بنانے سے زیادہ ماحولیات کے لیے فائدہ مند ہو۔
جب سٹیڈیم 974 کے کسی بھی ممکنہ مقامات کے بارے میں مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آرگنائزنگ کمیٹی نے کہا کہ ’قطر پہلے کاربن نیوٹرل فیفا ورلڈ کپ کی فراہمی کے راستے پر ہے۔‘
'اس کا مطلب ہے کہ بشمول آٹھ سٹیڈیمز تمام بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو پائیداری کے سخت معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔‘
’ان کی تعمیر کے دوران، ہم نے جہاں بھی ممکن ہو اسے ری سائیکل ہونے والے مواد سے تیار کیا اور توانائی اور پانی کی بچت کے وسیع حل کو نافذ کیا۔ اس کے علاوہ، پائیدار ذرائع سے حاصل ہونے والے مواد کا استعمال کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اختراعی ورثے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا تاکہ ٹورنامنٹ میں کوئی کمی نہ آئے اور یہ سفید ہاتھی بن کر نہ رہ جائے۔‘













