فیفا ورلڈ کپ: 200 ڈالر کے ’لگژری‘ خیمے شائقین کے لیے ’غیر معیاری ہاسٹل‘ ثابت ہوئے

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

    • مصنف, نیسٹا میکگریگر
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ

’یہ اب بھی زیرِ تعمیر ہے۔ دن کے وقت تو یہ جہنم جیسا ہوتا ہے۔ یہ صحرا ہے۔ یہاں بہت گرمی ہوتی ہے۔‘

حیران کن طور پر جب شوگو ناکاشیما اگلے دو ہفتوں کے لیے اپنے گھر کے بارے میں بتا رہے تھے تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ ایسی مسکراہٹ کہ ’اگر میں نہیں ہنسا تو میں رو دوں گا۔‘

’میں اپنی رہائش تبدیل نہیں کر سکتا سو مجھے اسے قبول کرنا ہو گا اور جاپان کے میچ تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ میں یہاں صرف سونے کے لیے آؤں گا۔ میں باہر جاؤں گا اور شہر دیکھوں گا۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔‘

جاپان سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ شوگو دوحہ کے شمال میں قطیفان آئیلینڈ فین ولیج میں پہنچنے والے اولین لوگوں میں سے ہیں جہاں اب بھی کچھ جگہوں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

سائٹ پر ابھی تمام شائقین کے آنے میں وقت ہے مگر پھر بھی کچھ اشارے ایسے ہیں کہ چیزیں توقع کے مطابق نہیں ہوں گی۔ 

کیمپ سائٹ کی جانب جاتی طویل اور بل کھاتی سڑک پر بھاری مشینری شور مچاتے ہوئے کام کر رہی ہے۔ تعمیراتی کرینیں آسمان تک بلند ہیں اور مزدور لائٹوں کی وائرنگ کرنے سے لے کر پتھر بچھانے تک کے کاموں میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ 

یہاں پر 1800 ٹینٹ ہیں جن میں دو دو لوگ سما سکتے ہیں۔ 

پیڈرو اور فاطمہ سپین میں رہتے ہیں مگر یہاں میکسیکو کی حمایت کریں گے۔ ان کی شادی اپریل میں ہوئی تھی اور یہ ان کے ہنی مون کا حصہ ہے۔ 

پیڈرو کہتے ہیں کہ اس کا خرچ 200 ڈالر فی رات ہے۔ صاف کہوں تو میں نے اس کی توقع نہیں کی تھی۔ جب آپ تصاویر دیکھتے اور اس کا تعارف پڑھتے ہیں تو آپ معیار کی توقع کرتے ہیں۔ یہ فیفا ورلڈ کپ ہے۔‘ 

’یہ ایک غیر معیاری ہاسٹل جیسا ہے جو ایک بیگ کے ساتھ دنیا گھومتے ہوئے آپ کو ملے گا۔‘ 

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ کسی گرین ہاؤس کی طرح ہے۔ سو ہم صبح نو بجے کے بعد نہیں سو سکے حالانکہ ہم پرواز کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے۔‘ 

موٹے پلاسٹک سے بنے ہوئے ٹینٹس میں دو سنگل بیڈ اور ایک سٹینڈ ہے جس پر ایک لیمپ رکھا ہے۔ پتلا سا کارپٹ کہیں کہیں سے اٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ مٹی اور بجری پر بچھایا گیا ہے۔ بجلی کا ایک پنکھا اس کمرے کو مکمل کرتا ہے۔‘

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

فاطمہ نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا: ’یہاں کوئی ترتیب نہیں۔ کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں۔ سٹورز بند ہیں، پینے کا پانی نہیں۔ یہ واقعی وہ جگہ نہیں، جس کی ہم نے ادائیگی کی ہے۔‘ 

وہاں گھومتے پھرتے ہم نے جس سے بھی بات کی اس کے ایسے ہی خیالات تھے۔ 

کچھ لوگوں نے کہا کہ اس حوالے سے فوری طور پر ایکشن لیا جانا چاہیے۔ پیرس سے ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے آنے والے جمال نے فین ولیج میں تین ہفتے قیام کے لیے 2700 پاؤنڈز دیے ہیں مگر یہاں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت گزارنے کے بعد وہ اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’میرے لیے یہ اچھا تجربہ نہیں رہا۔ یہاں نا ہی شاور جیل ہے، نہ ٹوتھ برش، نہ ٹوتھ پیسٹ۔‘ 

جمال نے ہمیں اپنی بکنگ کی تصدیقی رسید بھی دکھائی۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں لگا تھا کہ یہ ہوٹل جیسا ہو گا۔ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

ایک اچھی بات بھلے ہی معمولی ہو، وہ یہ کہ یہاں کا عملہ پرجوش، مددگار اور ہمیشہ مسکراتا ہوا ملتا ہے۔ بھلے ہی وہ متضاد معلومات بھی فراہم کر رہے ہوں جیسے پانی کہاں سے اور کب خریدا جا سکتا ہے، اور یہ کہ پانی خریدنے کے لیے ایک کلائی کا بینڈ پہننا لازمی ہو گا۔ 

فین ولیج سے تھوڑی ہی دور ایک بیچ کلب فین پارک ہے۔ یہاں ایک بڑی سکرین پر میچز دکھائے جائیں گے جبکہ الکوحل بھی فروخت ہو گی۔ حالانکہ حال ہی میں سٹیڈیمز میں اس کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 

بیچ کلب کو دیکھ کر بھی لگتا ہے کہ یہ بروقت مکمل نہیں ہو گا۔ تعمیراتی سامان کے ٹیلے پوری سائٹ پر ہر جگہ بکھرے نظر آتے ہیں اور بھاری مشینری کا شور ہر جگہ سنائی دیتا ہے۔ 

قطر، فٹ بال، ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہBBC Sport

مگر اس سب کے باوجود یہاں کا عملہ واضح طور پر نہایت پرامید اور پراعتماد ہے کہ فین پارک جلد مکمل ہو جائے گا۔

قطر اب تک اس ورلڈ کپ کے لیے 220 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے چنانچہ شاید ان کے زبردست منصوبوں پر سوالات نہیں اٹھائے جا سکتے، بھلے ہی ان پر کیسے بھی عمل کیا گیا ہو۔ 

مگر اس ملک کو سنہ 2010 میں ورلڈ کپ کی میزبانی دی گئی تھی۔ اس لیے ہزاروں خرچ کر کے یہاں دنیا بھر سے آنے والے شائقین کے لیے جلد بازی میں ہوتا کام دیکھنا کوئی اچھا نظارہ نہیں۔