فیفا ورلڈ کپ: قطر کا یہ حیا کارڈ کیا ہے جس کی سعودی عرب نے بھی منظوری دے دی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فٹبال کا ورلڈ کپ رواں سال 21 نومبر سے مشرق وسطیٰ کے ملک قطر میں شروع ہو رہا ہے اور فائنل 18 دسمبر کو ہونا ہے۔ اس دوران کل 64 میچ کھیلے جائیں گے۔
قطر نے فیفا ورلڈ کپ کے تحت ملک میں ایک خصوصی کارڈ جاری کیا ہے جسے حیا (HAYYA) کارڈ یا فین کارڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اب اس کارڈ کو سعودی عرب نے بھی منظوری دے دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہWWW.FIFA.COM
یہ حیا کارڈ کیا ہے؟
حیا کارڈ کو فین آئی ڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ قطر کی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک قسم کی دستاویز ہے۔ یہ دستاویز خصوصی طور پر فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کی گئی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کا کوئی بھی میچ دیکھنے کے لیے اس کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔
میچ دیکھنے کے لیے آپ کے پاس حیا کارڈ اور اس میچ کے ٹکٹ لازمی ہیں اس کے بعد ہی میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ اس کارڈ کی خاصیت یہ ہے کہ ایک بار آپ یہ کارڈ لے چکے ہیں، پھر آپ کو اسے بار بار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کارڈ ہر میچ کے لیے کارآمد ہوگا۔
اب حیا کارڈ سے متعلق ایک اور اہم خبر سامنے آئی ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ملٹی انٹری وزٹ ویزا کا آغاز کیا ہے۔ یہ ویزا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہے جو فیفا ورلڈ کپ دیکھنے قطر پہنچ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سعودی عرب سے اہم اعلان
یہ خصوصی ویزا ان تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا جنھوں نے قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے لیے حیا کارڈ لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹس کے مطابق 'قطر نے فیفا ورلڈ کپ کے لیے کارڈ جاری کر دیا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے لازمی ہے جو ورلڈ کپ کا یہ میچ دیکھنے جائیں گے۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اطلاعات کے مطابق جن لوگوں کے پاس حیا کارڈ ہے وہ سعودی عرب کے خصوصی ویزے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ اس خصوصی ویزے کی مدد سے وہ سعودی عرب میں 60 دن قیام کر سکتے ہیں جس کی حد میچ شروع ہونے سے 10 دن پہلے شروع ہو جائے گی۔
اس حوالے سے سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک ٹویٹ بھی کیا گیا ہے۔
اس ویزے کی خاصیت یہ بھی ہوگی کہ جس کے پاس بھی یہ خصوصی ویزا ہوگا وہ ان 60 دنوں میں متعدد بار سعودی عرب جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہDEFODI IMAGES
حیا کارڈ سے متعلق چند اہم سوالات کے جوابات
کیا حیا کارڈ لازمی ہے؟
جی ہاں۔ یہ کارڈ ان تمام فٹبال شائقین کے لیے لازمی ہے جو قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے میچز دیکھنا چاہتے ہیں۔
کارڈ رکھنے کے کیا فائدے ہیں؟
یہ کارڈ سٹیڈیم میں داخلے کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ مذکورہ میچ کے لیے ٹکٹ کا ہونا بھی لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے قطر آنے والے شائقین کو بھی اس کارڈ میچ کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم ہو گی۔
کیا حیا کارڈ کی درخواست دینے کے لیے تصدیق شدہ رہائش کی ضرورت ہے؟
نہیں ایسا نہیں ہے۔ آپ تصدیق شدہ رہائش کی بکنگ کے بغیر بھی حیا کارڈ کی درخواست کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔
کیا اس کے لیے کوئی ڈیڈ لائن ہے؟
نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک کا سب سے متنازع ورلڈ کپ
دوحہ قطر میں منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ کو اب تک کا سب سے متنازع ورلڈ کپ بھی کہا جا رہا ہے۔ قطر کو اس ورلڈ کپ کی میزبانی کیسے ملی، اسٹیڈیم کے کارکنوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا اور کیا یہ ورلڈ کپ کے لیے صحیح جگہ ہے؟ ایسے سوالات مسلسل اٹھ رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ سے وابستہ 30,000 مہاجر مزدوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر خاصی تنقید ہوئی ہے۔
فروری سنہ 2021 میں، گارڈین اخبار نے لکھا کہ جب سے قطر نے ورلڈ کپ کے لیے اپنی بولی جیتی ہے، اس وقت سے انڈیا، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے 6,500 تارکین وطن کارکن قطر میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیبر رائٹس گروپ فیئر سکوائر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے بہت سے ورلڈ کپ کے انفراسٹرکچر پراجیکٹس میں کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم قطری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بہت زیادہ بتائے جا رہے ہیں، کیونکہ ان میں وہ ہزاروں غیر ملکی بھی شامل ہیں جو قطر میں کئی سالوں تک رہنے اور کام کرنے کے بعد وفات پا گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ عمارت کی تعمیر کے شعبے میں کام نہیں کر رہے تھے۔ قطر کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 سے 2020 کے درمیان ورلڈ کپ سٹیڈیم کی تعمیر میں 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 34 اموات کام کی وجہ سے نہیں ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر کو ورلڈ کپ کی میزبانی کیسے ملی؟
قطر میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2022 اس وقت سے تنازعات کا شکار ہے جب فیفا نے 2010 میں قطر کی میزبانی کا اعلان کیا تھا۔
قطر ایک بہت چھوٹا لیکن خوشحال ملک ہے جس کی فٹبال کی تاریخ بھی مختصر ہے اور کبھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
جب ایسے ملک نے امریکہ، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ کر میزبانی حاصل کی تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔
ایسے الزامات بھی لگائے گئے کہ قطر نے اس کے لیے فیفا حکام کو رشوت دی تھی۔ تاہم، بعد میں فیفا نے ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی لیکن کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔
قطر ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس نے مندوبین کے ووٹ خریدے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
قطر ورلڈ کپ موسم سرما میں کیوں کرایا جا رہا ہے؟
ورلڈ کپ ٹورنامنٹ عام طور پر جون اور جولائی میں منعقد ہوتا ہے، لیکن قطر میں سال کے ان مہینوں میں اوسط درجہ حرارت 41 °C کے ارد گرد ہوتا ہے جو کہ بعض حالات میں 50 °C تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی خطرناک گرمی اور ایسی حالت میں کوئی 90 منٹ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
بولی کے عمل کے دوران قطر نے جدید ایئر کنڈیشنگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا وعدہ کیا۔ کہا گیا کہ اس سے سٹیڈیم اور ٹریننگ پچ جیسی جگہوں کو 23 ڈگری سیلسیئس تک ٹھنڈا رکھا جائے گا۔ تاہم سنہ 2015 میں فیفا نے فیصلہ کیا کہ یہ ٹورنامنٹ موسم سرما میں منعقد کیا جائے گا۔
ورلڈ کپ 21 نومبر سے شروع ہو رہا ہے اور فائنل 18 دسمبر کو کھیلا جانا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بہت سے ممالک کے کلب فٹ بال سیزن کے عین وسط میں آئے گا جس کی وجہ سے انھیں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مثال کے طور پر انگلش پریمیئر لیگ کا 13 نومبر سے 26 دسمبر کے درمیان کوئی میچ نہیں کھیلا جائے گا۔ اور اس کو پورا کرنے کے لیے سنہ 2022/2023 کا سیزن معمول سے ایک ہفتہ پہلے شروع ہوگا اور ایک ہفتہ بعد ختم ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیاری کیا ہے؟
فیفا ورلڈ کپ کے اس 22ویں ایڈیشن میں میزبان ملک قطر سمیت صرف 32 ٹیمیں ورلڈ کپ میں حصہ لیں گی۔
منتظمین کا اندازہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں تقریباً 15 لاکھ شائقین شرکت کریں گے۔ تاہم، ملک میں سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے تقریباً 1,75,000 کمرے ہیں۔
قطر میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے لیے کل 8 سٹیڈیم تیار کیے گئے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے شروع سے ہی آٹھ میں سے سات تیار ہیں جبکہ ایک کو مکمل طور پر نئے سرے سے تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ تمام سٹیڈیم ایک دوسرے سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر ہیں اور زیادہ سے زیادہ 43 میل کے فاصلے پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ آٹھاسٹیڈیم اس طرح ہیں:
لوسیل سٹیڈیم (صلاحیت- 80,000)
البیت سٹیڈیم (صلاحیت- 60,000)
سٹیڈیم 974 (صلاحیت- 40,000)
خلیفہ انٹرنیشنل سٹیڈیم (صلاحیت- 45,416)
ایجوکیشن سٹی سٹیڈیم (صلاحیت- 40,000)
الثمامہ سٹیڈیم (صلاحیت- 40,000)
الجنوب سٹیڈیم (صلاحیت- 40,000)
احمد بن علی سٹیڈیم (صلاحیت- 40,000)
فیفا ورلڈ کپ 2022 کا فائنل میچ 18 دسمبر کو لوسیل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔











