پولینڈ کی فٹبال ٹیم F-16 طیاروں کی حفاظت میں دوحہ روانہ

،تصویر کا ذریعہLACZYNASPILKA
- مصنف, غضنفر حیدر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
جمعرات کو قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ میں شمولیت کے لیے جب پولینڈ کی ٹیم ملک سے روانہ ہوئی تو ایک حیران کن منظر دیکھا گیا۔
قطر کے لیے سفر کرنے والی پولینڈ کی قومی فٹ بال ٹیم کے جہاز کے ساتھ ساتھ ہوا میں دو F-16 لڑاکا طیارے بھی موجود تھے۔
ٹیم کے آفیشل ٹؤٹر اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں F-16 فائٹر جیٹس کی جوڑی کو ٹیم کے طیارے کے ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ٹویٹ میں بتایا گیا کہ ’ہمیں F-16 طیاروں کے ہمراہ پولینڈ کی جنوبی سرحد پر لے جایا گیا۔‘
اس ٹویٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی گئی اور آخر میں ’آپ کا شکریہ اور پائلٹوں کو سلام!‘ بھی لکھا دیکھا جاسکتا ہے۔
ٹیم کی طرف سے لی گئی تصاویر میں F-16 پائلٹوں میں سے ایک کو اپنے کاک پٹ کی کھڑکی میں قومی سکواڈ کے نام کا نشان رکھے ہوئے دکھایا گیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران کچھ دن قبل ایک میزائل گرنے سے پولینڈ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سے پولینڈ کی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور پولینڈ کے مقامی میڈیا میں فٹبال ٹیم کے ہمراہ لڑاکا طیاروں کی روانگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہLACZYNASPILKA
یہ بھی پڑھیے
قطر فٹ بال ورلڈ کپ
قطر پہنچنے کے بعد پولش ٹیم اپنا پہلا میچ میکسیکو کی ٹیم سے 22 نومبر کو کھیلے گی اور چار دن بعد ان کا مقابلہ سعودی عرب سے ہو گا۔
پولینڈ کا گروپ سی ہے اور اس میں ارجنٹینا، سعودی عرب اور میکسیکو شامل ہیں۔
پولینڈ کے گروپ مرحلے کا آخری میچ 30 نومبر کو ہو گا جہاں ان کا مقابلہ لیونل میسی کی ارجنٹائن سے ہو گا۔
بارسیلونا کے سٹار سٹرائیکر رابرٹ لیوینڈوسکی اور ان کا عملہ 1986 کے بعد پہلی بار پولینڈ کو ناک آؤٹ مرحلے تک لے جانے کی کوشش کرے گا۔
پولینڈ کی موجودہ ٹیم فٹبال میں تاریخی لحاظ سے اتنی کامیاب نہیں رہی لیکن اس ورلڈ کپ میں شامل ہونے والے تقریباً تمام کھلاڑی دنیا کی بڑی لیگز میں کھیل رہے ہیں اور یہ تکنیکی لحاظ سے بھی مضبوط ہیں۔













