قطبی ڈائنوسار جن کی دریافت زمانہ قدیم کے نئے بھید کھول رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, زاریا گورویٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
یہ الاسکا میں سردیوں کا وسط تھا۔ ایک جانب دریائے کول ویل اپنی پوری وسعت کے ساتھ پھیلا ہوا تھا تو دوسری جانب خاکستری رنگ کی ایک چٹان آسمان کی بلندیوں کو چھوتی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے آس پاس سینکڑوں میل تک ٹنڈرا کے بیابان تھے۔
ایک برفانی کلہاڑی اور کریمپون پہنے ہوئے، پیٹ ڈرکین ملرمنفی 28 ڈگری سینٹی گریڈ کی آرکٹک ٹھنڈ میں کسی خاص چیز کی تلاش میں تھے۔
یہ سنہ 2021 تھا اور صرف اس چٹان تک پہنچ پانا ہی ایک انتہائی مشکل مہم تھی۔ الاسکا کے اس شمالی کونے میں کوئی سڑکیں نہیں، اس لیے یونیورسٹی آف الاسکا کے محققین اور ماہرینِ قدیم حیاتیات کو یہاں تک پہنچنے کے لیے برفانی سکوٹرز کا استعمال کر کے قریب ہی ایک کیمپ قائم کرنا پڑا۔
یہاں اس قدر ٹھنڈ تھی کہ ہر ٹینٹ میں الگ الگ آتش دان رکھا گیا تھا۔ اگلے کچھ ہفتوں تک ٹیم نے مسلسل فراسٹ بائٹ سے نبرد آزما رہنا تھا۔ ڈرکین ملر کہتے ہیں کہ ’ہم کئی بار بال بال بچے۔‘
ان کا اشارہ پہاڑی پتھر گرنے اور بھوکے قطبی ریچھوں کی جانب بھی تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ بے فائدہ نہیں تھا۔
اپنے سکی گوگلز کے ذریعے دیکھتے ہوئے ڈرکین ملر کو بالآخر وہ چیز مل گئی جس کی اُنھیں تلاش تھی۔ چٹان کی تہوں میں اُنھیں دریا سے 50 فٹ اوپر کوئی چار انچ موٹی مٹی اور گارے کی ایک تہہ ملی۔
آج سے سات کروڑ 30 لاکھ سال پہلے جب گارے کی اس تہہ نے اپنی جگہ لی ہو گی تو اس وقت دنیا اب کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم تھی مگر یہ خطہ اس وقت کہیں زیادہ شمال میں ہو گا۔
حالانکہ اب الاسکا کے اس خطے کو ہر سال سردیوں میں کچھ گھنٹوں کے لیے ہی سورج کی دھیمی روشنی مل جاتی ہے مگر اس وقت یہ اکتوبر سے فروری کے درمیان چار ماہ کے لیے مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا رہتا اور وقتاً فوقتاً برف باری کے باعث اکثر و بیشتر اس کا درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور گارے کی اس تہہ کے نیچے کرّہ ارض کی تاریخ کے عجیب ترین ادوار میں سے ایک کی آخری باقیات چھپی ہوئی ہیں، یعنی عظیم الجثہ ڈائنوسارز کے بچوں کے دانت اور ہڈیاں جو پیمائش میں کچھ ملی میٹرز تک ہی ہیں۔ یہاں ڈائنوسارز اپنے گھونسلے بنایا کرتے تھے اور وہ انڈے جو کبھی پھوٹ نہ سکے وہ اب تک یہاں موجود ہیں۔
ڈرکین ملر کہتے ہیں کہ ’یہ شاید پوری ریاست الاسکا میں ڈائنوسارز کی ہڈیوں کی سب سے دلچسپ تہہ ہے۔ وہ واقعتاً قطبِ شمالی پر رہ رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حالانکہ ہم ڈائنوسارز کو گرم خطوں کے رہائشی سمجھتے تھے جو کرّہ ارض کے گرم ادوار میں جنگلوں میں گھوما کرتے مگر سائنسدانوں کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ نظریہ مکمل طور پر درست نہیں۔
ڈائنوسار ٹھنڈی جگہوں پر بھی رہا کرتے تھے اور یہ بات اب پہلے سے زیادہ واضح ہو رہی ہے کہ وہ یہاں صرف کبھی کبھار گھومنے کے لیے نہیں آیا کرتے تھے۔
آسٹریلیا سے روس تک سائنسدانوں نے اب تک ایسے بیسیوں ڈائنوسارز کا پتا چلایا ہے جو انتہائی ٹھنڈے درجہ حرارت میں رہتے تھے اور برف کی سفید چادر میں اپنی خوراک تلاش کیا کرتے تھے۔
اور ایسا نہیں تھا کہ یہ ڈائنوسار الاسکا جیسی ان جگہوں پر بمشکل ہی زندہ تھے بلکہ یہ باقاعدہ طور پر پھل پھول رہے تھے۔
سائنسدان ایسے ڈائنوسارز کے متعلق عجیب و غریب مناظر کا بھی تصور کرتے ہیں مثلاً ان کا اپنے (ممکنہ) پروں پر سے برف جھاڑنا یا برفانی طوفان گزرنے کا انتظار کرنے کے لیے اپنے آپ کو تہہ کر کے چھپ جانا۔
مگر ان نئے انکشافات کے ممکنہ نتائج اس سب سے کہیں دور رس ہو سکتے ہیں اور ہر نئی دریافت کے ساتھ ایسے پولر یا قطبی ڈائنوسارز اپنی ہئیت اور روز مرّہ کے معمولات کے متعلق حیران کن معلومات مہیا کر رہے ہیں۔
اور ایسے وقت میں جب سائنسدان ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں تو پیلیونٹولوجی کے شعبے کا سب سے چبھتا ہوا سوال بھی شاید حل ہونے کے قریب ہو، کہ آیا ڈائنوسارز گرم خون والے جاندار تھے یا ٹھنڈے خون والے۔
ایک اچانک دریافت
سنہ 1961 میں رابرٹ لسکومب تیل کی کمپنی شیل کے لیے دریائے کول ویل کے ساحلوں کے نقشے تیار کر رہے تھے جب اُنھیں غیر متوقع طور پر ایک چٹان سے باہر نکلتی ہوئی مٹھی بھر ہڈیاں دکھائی دیں۔
اُنھوں نے سوچا کہ یہ ممالیہ جانوروں کی ہوں گی مگر وہ پھر بھی انھیں اپنے ساتھ لے گئے اور ایک الماری میں رکھ دیا۔ اسی سال ان کی ایک پہاڑی پتھر کی زد میں آ کر موت ہو گئی۔
اگلی دو دہائیوں تک یہ ہڈیاں کمپنی کے آرکائیوز میں بالکل محفوظ رہیں مگر کسی کو یہ یاد بھی نہیں تھیں۔ اسی دوران ڈائنوسارز کے الگ تھلگ فوسلز دیگر شمالی علاقوں میں دریافت ہونے لگے جن میں ناروے کے جزیرے سوالبارڈ میں پیروں کے نشان تک شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
پھر سنہ 1984 میں ایک بہت حیران کُن دریافت ہوئی۔ دریائے کول ویل کی اسی شمالی ڈھلوان سے ڈائنوسارز کی کھالوں اور پیروں کے نقش ملے جہاں لسکومب نے ہڈیاں دریافت کی تھیں۔ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے فوراً ہی دراز میں سے پرانی ہڈیاں نکالی گئیں اور پایا گیا کہ یہ تو ڈائنوسارز کی ہڈیاں ہیں۔
اس سے پیلیونٹولوجسٹس یا ماہرینِ قدیم حیاتیات کے درمیان ایک سخت بحث چھڑ گئی۔ وہ یہ کہ سرد خون والے جانور اس قدر شمال میں تو نہیں رہ سکتے ہوں گے، چنانچہ ایک صدی پرانے مفروضوں پر سوالات اٹھ گئے اور معاملات گرما گرمی تک جا پہنچے۔
مگر کچھ ہی عرصے میں یہ واضح ہو گیا کہ دریائے کول ویل سے دریافت ہونے والی ہڈیاں کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ اس کے ساحلوں کے آس پاس کی جگہ ڈائنوسارز کے فوسلز سے بھری ہوئی تھی۔ آرکٹک یا اینٹارکٹکا میں کسی اور جگہ پر بھی اتنے ڈائنوسار فوسل دریافت نہیں ہوئے ہیں۔
ڈرکین ملر کہتے ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب سے قطبی ڈائنوسار فوسل سائٹ سے بھی کہیں زیادہ دور ہے۔
جیسے جیسے دریافتیں ہونے لگیں ویسے ویسے ثبوتوں کے انبار جمع ہو گئے۔ ان ابتدائی دنوں میں بھی گائے جیسے سبزی خور ایڈمونٹوسارس اور ٹرائسیراٹوپس کے ایک نامعلوم رشتے دار کے فوسلز بڑی تعداد میں اور شکاری الیکٹروسارس کا ایک دانت، جو کہ خود ایک اوسط والرس یعنی دریائی گھوڑے کے سائز جتنا تھا۔
پولر ڈائنوسارز کا وجود ثابت ہو گیا مگر یہ سمجھنا اب بھی باقی تھا کہ وہ زندہ کیسے رہتے تھے۔ خوش قسمتی سے ایک ممکنہ توجیہ موجود تھی، کہ وہ یہاں صرف تب رہتے جب موسم گرم ہوتا اور ٹھنڈے موسم میں وہ یہاں سے ہجرت کر جاتے۔ اپنے دور دراز کے کزنز یعنی آرکٹک ٹرنز (قطبی ابابیلوں) کی طرح وہ بھی قطبِ شمالی صرف گرمیوں میں آیا کرتے اور سردیوں میں وہ گرم موسم کی جانب ہجرت کر جاتے۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دوران انھوں نے 3200 کلومیٹر سفر طے کیا تاہم یہ نظریہ زیادہ عرصہ نہیں چلا۔
کروڑوں سال قبل موسم گرما کے ایک نسبتاً ٹھنڈے دن جب ہیڈروسارس کا ایک غول آرکٹک کے میدان سے گزرا تو وہ ایک سخت موسم سرما گزار چکے تھے۔ اس غول میں ہر عمر کے ہزاروں جانور شامل تھے۔
کیچڑ سے بھرے اس میدان سے گزرنے کا سفر شاید چند منٹوں پر ہی محیط ہو گا لیکن ان کے قدموں کے نشان محفوظ رہ گئے جن کو 2014 میں سائنس دانوں نے دریافت کر لیا۔
یہ نشان اتنے واضح تھے کہ پیروں کی پہچان تک کی جا سکتی تھی۔
یہ باقیات الاسکا کے ایک قدرتی ریزرو سے ملیں جن میں جوان ڈائنوسارز کے قدموں کے نشانوں کی موجودگی نے اشارہ دیا کہ شاید وہ پورا سال اسے خطے میں رہے تاہم سب اس نظریے سے قائل نہیں ہوئے۔ پھر ڈرکین ملر میدان میں داخل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ایک پیچیدہ کام
ڈرکین ملر کے کام کرنے کا انداز کچھ مختلف تھا۔ جب ان کی ٹیم نے الاسکا میں کام کرنا شروع کیا تو موسم گرما تھا۔ ان کو جلد ہی واضح ہوا کہ یہ بہترین وقت نہیں تھا۔
جون اور اگست کے درمیان الاسکا مچھروں سے بھر جاتا ہے جو بادلوں کی طرح امڈ آتے ہیں تاہم یہ صرف ایک مشکل تھی۔ وہ جن پہاڑیوں پر کام کر رہے تھے، ان کے پتھر بمشکل ایک دوسرے سے جڑے تھے۔
ڈرکین ملر بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں درجہ حرارت اتنا ہوتا ہے کہ برف پگھلنے کی وجہ سے یہ پہاڑیاں سرک سکتی ہیں۔
’اگر آپ ان میں سے کسی ایک کے نیچے ایسے وقت میں موجود ہوں، تو سمجھیں کھیل ختم۔‘
انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ موسم سرما میں آئیں لیکن اس موسم کی اپنی مشکلات تھیں۔ وہ آرکٹک سمندر سے صرف 20 میل دور کا مقام تھا جہاں سردی کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹ کر ڈائنوسارز کے بچوں کی ہڈیاں تلاش کرنا ناممکن تھا تاہم جلد ہی اس وسیع و عریض میدان کی خاموشی مشینی آروں کی آواز سے گونجنے لگی۔
سب سے پہلے ان کی ٹیم نے پہاڑیوں میں چلنے کے لیے راستہ بنایا اور اس کے بعد چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کو تلاش کرنے کی بجائے ان مقامات سے برف کے بڑے بڑے بلاک کاٹ لیے جہاں ان کو ہڈیوں کی موجودگی کا شائبہ ہوا۔
ان بلاکس کو سینکڑوں میل دور لیبارٹری میں پہنچا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب یہ بلاک الاسکا یونیورسٹی پہنچے تو ان کو دھو کر مٹی کا جائزہ لیا گیا۔
ڈرکن ملر نے بتایا کہ صفائی کے عمل کے بعد پیچھے ریت کی تہہ بچ جاتی ہے اور ’ہم اس کے ہر ذرے کو دوربین کے نیچے رکھ کر دیکھ رہے تھے کہ ہڈی یا دانت مل سکے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ سست رفتار عمل ہوتا ہے اور ’ایسا ہی ہے جیسے آپ سونے کی تلاش کر رہے ہوں۔‘ ان کا اندازہ ہے کہ ایک دہائی کے دوران ان کی ٹیم نے ریت کے لاکھوں ذرات کو جانچا ہو گا لیکن اس محنت کے بعد ان کو ایک حیران کن نتیجہ ملا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمیں ایک یا دو طرح کے ڈائنوسارز کے نہیں، بلکہ سات مختلف گروہوں کے ڈائنوسارز کی موجودگی کا پتا چلا جن میں سبزی خور بھی تھے اور گوشت خور بھی، چھوٹے بھی اور بڑے بھی۔‘
اہم بات یہ تھی کہ یہ ڈائنوسار انڈے دینے کے قریب تھے جس کا مطلب ہے کہ وہ سردی کے وقت نقل مکانی نہیں کرنے والے تھے۔ چند مخصوص ڈائنوسار اقسام کو انڈے دینے کے لیے چھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے اور اگر مائیں بہار میں ان پر بیٹھیں تو بچے نکلتے نکلتے موسم سرما ہو جاتا ہے۔
آرکٹک میں بچے دینے کا مطلب ہوتا کہ ان کو موسم سرما اور اس کی تاریکی سے بچوں کو بچانے کے لیے ہزاروں میل دور نقل مکانی کرنا ہوتی جس کے لیے وقت نہیں تھا۔
ڈرکن ملر کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یقین ہو گیا کہ یہ ڈائنوسار یہاں کے مقامی تھے۔‘ تو ان پولر ڈائنوسار کی زندگی کیسی ہوتی ہو گی؟ اتنے مشکل حالات میں وہ کیسے جیتے ہوں گے؟
ایک برفانی پہیلی
اسی زمانے میں مارچ میں جب درختوں پر کلیاں پھوٹ رہی تھیں، آرکٹک کے کھلے میدانی جنگلات میں ڈائنوسار پھرتے ہوں گے۔
کبھی کبھار اس پرسکون غول کو اس وقت پریشانی ہوتی ہو گی، جب کوئی بھوکا نینوکسارس، جسے برفانی ریچھ چھپکلی بھی کہا جاتا ہے، کسی دبلے پتلے تھیسکی لوسارس کو جبڑوں میں دبا لیتی ہو گی۔
قریب ہی انڈوں کے نرسریاں ہوتی ہوں گی اگر یہ ڈائنوسار اپنے جنوبی رشتہ داروں جیسے تھے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAlamy
ہزاروں سال کے دوران اس علاقے میں مرنے والے کئی ڈائنوسار قریبی دریا یا جھیل کا حصہ بن گئے۔ ڈرکین ملر کہتے ہیں کہ ان کے دانت اور ہڈیوں کے نشان باقی رہ گئے۔
کول ویل دریا کے قریب سے دریافت ہونے والے متعدد ڈائنوسار کی شناخت اگرونالک کوکپکینسس کے نام سے ہوئی۔
ڈرکن ملر کا ماننا ہے کہ الاسکا کے ڈائنوسار کی کچھ منفرد خصوصیات ضرور تھیں مثلاً ایسا رویہ جس نے ایسی جگہ پر زندگی گزارنے میں مدد کی۔
یہ اشارے ہڈیوں کے اندر موجود دائروں سے ملتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کسی درخت کے تنے کے اندر موجود دائرے اس کی عمر کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ڈرکین ملر کے مطابق کول ویل دریا کے قریب سے ملنے والی مختلف ڈائنوسارز کی ہڈیوں سے چند دائرے غائب ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سردیوں میں بل بنا کر سست ہو جاتے تھے۔
2007 میں جرمن شیپرڈ کتے کے حجم کے اورکٹوڈرومیوس ڈائنوسار کی باقایات مونٹانا میں ایک چھوٹے سے کھڈے سے ملیں جس کے ساتھ اس کے دو بچوں کی باقیات بھی تھیں۔ وہ 100 ملین سال سے وہیں موجود تھے۔ ان کا شمار تھیسکولوسارس میں کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ایک گمان یہ بھی ہے کہ غالبا یہ ڈائنوسار اتنی سردی میں اسی طرح جیتے تھے جیسے کچھ جدید ممالیہ جن میں چربی کی موٹی تہہ موجود ہوتی ہے۔ ڈرکن ملر موس نامی جانور کی مثال دیتے ہیں جو گرمیوں میں موٹا ہو جاتا ہے اور پھر اپنی چربی کی مدد سے موسم سرما گزار لیتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ شاید ان برفانی ڈائنوسارز میں بھی ایسا ہی ہوتا ہو لیکن ایک چیز ایسی ہے جو اب واضح ہے کہ ڈائنوسار اپنا اندرونی درجہ حرارت کیسے کنٹرول کرتے تھے۔
سائنسدان ڈائنوسار کی دریافت سے بحث کر رہے تھے کہ وہ سرد خون والے ہیں یا گرم خون والے جانور۔
19ویں صدی میں یہ خیال کر لیا گیا کہ حجم کی وجہ سے ان کو قدرتی طور پر سورج کی گرمائش کی ضرورت ہوتی ہو گی۔
تاہم جیسے جیسے ان کے بارے میں مزید معلومات ملتی گئیں اور یہ ثابت ہوا کہ جدید دور کے پرندے دراصل ڈائنوسار کی ایک شکل ہیں تو بہت سے سائنسدانوں نے سوال کیا کہ آیا ان کے بارے میں قائم پرانے مروضات درست ہیں یا نہیں۔ تب تک کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔
آرکٹک ڈائنوسار نے سب بدل دیا۔ ڈرکن ملر کہتے ہیں کہ اس ساری کہانی میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ڈائنوسار یقیناً گرم خون والے ہوں گے جو سرد ماحول میں رہنے کی ایک شرط بھی ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
تاہم تمام ڈائنوسار گرم خون والے نہیں تھے۔ اس بات کے شواہد ہیں کہ ان کے جسمانی درجہ حرارت 29 ڈگری سے 46 ڈگری تک بھی جاتے تھے جس کا انحصار گروپ پر ہوتا تھا۔ زیادہ تر ممالیہ 36 سے 40 ڈگری تک رہتے ہیں جبکہ پرندوں میں اندرونی درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے تاہم اس کے اثرات وسیع ہیں۔
اینڈوتھرمک یا جسم کے اندر سے حرارت حاصل کرنے والے جانوروں کی چند خصوصیات میں تیز رفتار بڑھنے کا عمل اور زیادہ خوراک کی ضرروت شامل ہیں۔
لیکن اہم طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ چند جانور اسی وجہ سے ایسی عالمی صورت حال میں زندہ رہے جسے تاریخی اعتبار سے ڈائنوسار کے خاتمے سے منسلک کیا جاتا رہا۔
اگر ممالیہ اور پرندے اسے برداشت کر گئے، تو آرکٹک کے ڈائنوسار کیوں نہیں کر سکے؟
الاسکا کے ڈائنوسار کی موجودگی کے شواہد 1980 میں بڑھتے چلے گئے تو سائنس دان سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ان کو کوئی نئی وضاحت درکار ہو گی۔ آج کا نظریہ یہ ہے کہ ان کی معدومیت کی وجہ ان کا حجم تھا یعنی ان کو جتنی خوراک درکار تھی، اتنی دستیاب نہیں تھی۔
مانیریپٹرون ڈائنوسار ایک استثنی تھے جو چھوٹے حجم کے اور تقریباً دو کلو وزنی تھے۔ آج ہم ان کی نسل کو پرندوں کی شکل میں دیکھتے ہیں۔
ہر نئی دریافت کے ساتھ پولر ڈائنوسار دنیا بھر میں اپنے رشتہ داروں کے متنوع ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ وہ دیوہیکل چھپکلیوں سے کچھ زیادہ ہی تھے۔













