ٹیروسار: برطانیہ میں سب سے بڑے اڑنے والے ڈائنوسار کے فوسل کی دریافت

ٹیروسار

،تصویر کا ذریعہGREGORY FUNSTON

،تصویر کا کیپشنٹیروسار کا ڈھانچہ چٹان کے اس ٹکڑے میں دیکھا جاسکتا ہے
    • مصنف, وکٹوریا گل
    • عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس، بی بی سی

جراسک دور کے سب سے بڑے ڈائنوسار ٹیروسار کے فوسل (باقیات) سکاٹ لینڈ کے جزیرے سکائی کی چٹانوں پر ملے ہیں۔

پی ایچ ڈی کی طالبہ امیلیا پینی نے سکائی کے ساحل پر قدیم چونے کے پتھر کی چٹانوں پر ٹیروسار کے نوکیلے دانتوں والے جبڑے کی دریافت کی تھی۔

2017 کی اس ابتدائی دریافت کے بعد اب اس فوسل ڈھانچے پر ایک تفصیلی تحقیق جاری کی گئی ہے۔

جریدے ’کرنٹ بیالوجی‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس اُڑنے والے ڈائنوسار کے پر 2.5 میٹر لمبے تھے۔

ٹیروسار کا خاکہ

،تصویر کا ذریعہNATALIA JAGIELSKA

،تصویر کا کیپشنٹیروسار کا خاکہ

پی ایچ ڈی کی طالبہ نتالیا جگیلسکا کی سربراہی میں اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سائنس کے لیے ایک نئی نُوع (یا نسل) ہے۔

اسے سکاٹ لینڈ کی ایک مقامی زبان گیلک سے ’ڈیئرک جارک سکیاچ‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے مراد ایسا رینگنے والے جانور ہے جو اُڑ بھی سکتا ہے۔

فوسل، ٹیروسار

،تصویر کا ذریعہSTEPHEN BRUSATTE

،تصویر کا کیپشنپی ایچ ڈی کی طالبہ امیلیا پینی اپنے دریافت کردہ فوسل کے ساتھ

گلاسگو میں ہنٹیرین میوزیم اور سکائی میں سٹیفن میوزیم کے محققین کو اس ڈائنوسار کا فوسل حاصل کرنے کے لیے چٹان کاٹنا پڑی۔ یہ ایک مشکل اور شور مچانے والا کام تھا جسے پانی کی تیز لہروں کی آمد کے دوران سرانجام دیا گیا۔ بعد ازاں یہ فوسل یونیورسٹی آف ایڈنبرا لایا گیا۔

مگر اس کام کے لیے یہ محنت ضائع نہیں ہوئی۔

محقق نتالیا بتاتی ہیں کہ ’ڈیئرک ایک بہترین مثال ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پیلینٹولوجی (قدیم زندگی کے علوم) ہمیں ہمیشہ حیرت میں مبتلا کرتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹیروسار

،تصویر کا ذریعہNATALIA JAGIELSKA

،تصویر کا کیپشناس فن پارے میں ڈیئرک کا خاکہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے

’ٹیروسار کے مکمل فوسل بہت نایات ہیں۔ اڑنے والے جانوروں کے جسم بہت ہلکے ہوتے ہیں جیسے آج کے پرندوں کے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس وجہ سے وہ بہت کمزور ہوتے ہیں اور ان کے فوسل عموماً محفوظ حالت میں نہیں پائے جاتے۔‘

ٹیروسار کا یہ فسل مکمل اور اچھی حالت میں موجود ہے، خاص کر اس کی کھوپڑی کی باریکیاں۔ اس کی مدد سے ایڈنبرا اور سینٹ اینڈریوز کی یونیورسٹیوں اور نیشنل میوزیمز سکاٹ لینڈ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس ڈائنوسار کی بینائی بہت اچھی ہے۔ اس فوسل کو نیشنل میوزیمز سکاٹ لینڈ میں دکھایا جائے گا اور اس پر مزید تحقیق کی جائے گی۔

ٹیروسار

،تصویر کا ذریعہSTEPHEN BRUSATTE

،تصویر کا کیپشنفوسل کی دریافت کے بعد سکاٹ لینڈ کے جزیرے سکائی پر چٹان کی کٹائی کا کام کیا گیا

نتالیا کہتی ہیں کہ ’ہم ڈیئرک کا مزید تفصیلی مطالعہ کریں گے تاکہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ وہ کیسے رہتے تھے اور ان کا رویہ کیسا تھا۔‘

یونیورسٹی آف ایڈنبر کے سٹیو بروسیٹ سکائی کے اس دورے کی سربراہی کر رہے تھے۔ انھوں نے اسے ایک ’اعلیٰ سکاٹش فوسل‘ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت محفوظ انداز میں موجود ہے۔ ہم نے سکاٹ لینڈ میں ٹیروسار کا ایسا فوسل پہلے کبھی نہیں دیکھا اور یہ شاید 1800 کی دہائی میں (فوسل کی متلاشی) میری ایننگ کے وقت کے بعد برطانیہ کا پہلا بہترین ڈھانچہ ہے۔‘

خیال ہے کہ ٹیروسار 17 کروڑ سال قبل سکائی کے آسمان میں اڑا کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہNATALIA JAGIELSKA

،تصویر کا کیپشنخیال ہے کہ ٹیروسار 17 کروڑ سال قبل سکائی کے آسمان میں اڑا کرتے تھے

’اس کے حجم سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیروسار ہماری سوچ سے زیادہ بڑے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ کریٹیشیس دور سے بہت پہلے کی بات ہے جب ان کا مقابلہ پرندوں سے تھا۔ یہ بہت اہم پیشرفت ہے۔‘