کیڑے کھانے والے ابتدائی ڈائنوسار کا قد صرف چند سینٹی میٹر تھا، نئی تحقیق

،تصویر کا ذریعہAlex Boersma
ڈائنوسارز کو اکثر اوقات عظیم الجثہ جانور تصور کیا جاتا ہے مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق ان کی شروعات بہت چھوٹے حجم سے ہوئی تھی۔
یہ نئے ثبوت مڈغاسکر میں پائے گئے ایک نئے فوسل سے حاصل ہوئے ہیں جو 23 کروڑ 70 لاکھ سال قبل پرانا ہے اور اس کا قد صرف 10 سینٹی میٹر ہے۔ اس نمونے سے ٹیروسار یعنی ٹھنڈے خون والے اُن فقری جانداروں کی مبہم ابتدا کے بارے میں بھی معلومات مل سکیں گی جو پر رکھتے تھے اور ڈائنوسارز کے زمانے میں آسمانوں پر راج کرتے تھے۔
یہ تحقیق پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔
امریکہ کے نارتھ کیرولینا میوزیم آف نیچرل سائنسز سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف کرسچن کیمیرر کا کہنا ہے کہ 'عمومی تاثر یہ ہے کہ ڈائنوسارز عظیم الجثہ تھے۔ مگر یہ نیا جانور ڈائنوسارز اور ٹیروسارز کے درمیان کے کسی جانور جیسا ہے اور یہ حیران کن حد تک چھوٹا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کونگونافون کیلی نامی یہ نمونہ 1998 میں مڈغاسکر میں محققین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا تھا جس کی سربراہی امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے جان فلین نے کی تھی۔
کونگونافون کے دانتوں پر موجود نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیڑے کھایا کرتا تھا۔
اس نمونے کے ڈائنوسارز سے تعلق پر حال ہی میں نئے انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
ڈائنوسارز اور ٹیروسارز دونوں ہی اورنیتھوڈیرا نامی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کی ابتاد کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں کیونکہ اس سلسلے کی ابتدا سے بہت کم ہی فوسل نمونے حاصل ہو پائے ہیں۔
کونگونافون نامی یہ فوسل اورنیتھوڈیرا خاندان کے شجرے کی جڑ میں پایا جانے والا پہلا جانور نہیں ہے مگر اس سے قبل ان نمونوں کو علیحدہ اور دوسروں سے مستثنیٰ تصور کیا جاتا تھا۔
عمومی طور پر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ آرکوسارز (رینگنے والے جانوروں کا وہ گروہ جس میں پرندے، مگرمچھ، اڑنے کی صلاحیت سے عاری ڈائنوسارز، ٹیروسارز وغیرہ شامل تھے) میں جسامت یکساں رہتی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد ڈائنوسارز کے خاندان میں جسامت انتہائی زیادہ بڑھنے لگی۔
یاد رہے کہ اب سے تقریباً چھ کروڑ 60 لاکھ سال قبل ڈائنوسارز کا دنیا سے خاتمہ ہوگیا تھا۔
عمومی سائنسی اتفاق یہ ہے کہ ایسا ایک عظیم الجثہ شہابِ ثاقب گرنے سے ہوا جس کی وجہ سے زمین ڈائنوسارز کے رہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔
اپریل 2019 میں سائنسدانوں کو زمین سے شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے ثبوت ملے تھے۔
امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا میں کھدائی کے دوران مچھلیوں اور درختوں کے فوسل دریافت کیے گئے جن پر وہ چٹانی اور شیشے کے ذرات موجود ہیں جو آسمان سے برسے تھے۔
ان باقیات کے پانی میں غرقاب ہونے کے بھی ثبوت سامنے آئے جو کہ شہابِ ثاقب گرنے کے بعد اٹھنے والی دیوقامت لہروں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔









