تصاویر: ارجنٹینا میں پہلے دیو قامت ڈائنوسار کی باقیات دریافت

،تصویر کا ذریعہCecilia Apaldetti
اس کرہ ارض پر اتنے بڑے بڑے جانور رہتے کرتے تھے کہ ان میں سے کچھ کا وزن تو ایک خلائی شٹل جتنا ہوا کرتا تھا۔
تاہم اب تک یہ غیر واضح ہے کہ ڈائنو ساز اتنے بڑے کیسے ہو جاتے تھے۔
ارجنٹینا میں ایک نئی دریافت نے ان دیو قامت جانوروں کے بڑھنے سے متعلق نئے شواہد مہیا کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ماہرِمعدوم حیوانات کا کہنا ہے کہ یہ جانور اس قدر بڑا حجم حاصل کرنے کے لیے اپنے جسم میں موجود پرندوں جیسے پھیپھڑوں اور تیزی سے بڑھنے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ایک انوکھی حکمتِ عملی اپناتے تھے۔
تازہ دریافت کے دوران ارجنٹینا کے شمالی مغربی حصے میں محققین کو یہ باقیات ملے۔ انھیں کل چار ڈھانچے ملے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے ڈائنو سارز کی نئی قسم ہے، ان میں ایک طرح کے تین ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCecilia Apaldetti
ڈاکٹر سیسیلا اپالڈیٹی کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک نئی مخلوق ہے اس لیے ہم نے اس کا نام انجینٹیا پرائما رکھا ہے۔ یہ لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’پہلا دیو قامت‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ڈائنوسار تین کروڑ سال قدیم ہیں جس دور میں لمبی گردن والے سبزی خور ڈیپلوڈوکس اور براچیو سارز ہوا کرتے تھے۔
یہ زیادہ بڑا نہیں تھا اس کا وزن 10 ٹن کے لگ بھا رہا ہوگا۔ لیکن یہ دریافت حیران کن ہے کیونکہ یہ ڈائنو سارز کے ارتقا کے دور میں جلدی آگیا۔

،تصویر کا ذریعہCecilia Apaldetti
یہ نئی مخلوق انجینٹیا پرائما اور دیگر چھوٹی مخلوقیں ایک گروہ کی صورت رہتے تھے۔
یہ نیا ڈائنو سار کیسا ہے؟
یہ ایک گروہ ’سارو پوڈو مورفس‘ کا رکن ہے جس کا مطلب ہے چھپکلی کے پیروں کی قسم ہے۔ یہ بالآخر چار ٹانگوں والے جانور بنے جو کرہ ارض پر چلنے والے سب سے بڑے جانور تھے۔
ان ڈائنوسارم کی لمبی گردن اور دم تھی تاہم ڈیپلوڈوکس جتنی لمبی نہیں۔ ان کی گردن 10 میٹر تک لمبی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCecilia Apaldetti
یہ اتنے بڑے کیسے ہو گئے؟
بعد میں آنے والے ڈائنو سارز کی طرح اس کی بھی پرندوں جیسی سانس کی تھیلیاں تھیں جو شاید بڑے جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری تھی اور اس سے بڑی مقدار میں آکسیجن فراہم ہوتا تھا۔
ان کی ہڈیوں میں افزائش کے ہالوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تیزی سے بڑے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہJorge A. González
ڈاکٹر سیسیلا اپالڈیٹی کا کہنا ہے کہ ’ہم ہڈیوں کے مشاہدے سے دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی افزائش بہت تیزی سے ہوئی۔‘
ڈاکٹر سیسیلا اپالڈیٹی کے گروہ نے پایا کہ ان ڈائنوسارز کے حجم بڑھنے میں ایک سے زیادہ عناصر شامل تھے۔
ان کے خیال میں شاید اس سے بڑے اور عجیب ڈائنوسارز ہوں جو ابھی دریافت ہونا باقی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSPL
یہ دریافت سائنسی جریدے ’نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن‘ میں شائع کی گئی۔








