ڈائنوسار سے بھی کروڑوں سال پرانی مچھلی کا دل مل گیا

،تصویر کا ذریعہPaleozoo
- مصنف, پیلب گھوش
- عہدہ, نامہ نگار برائے سائنس
محققین نے 380 ملین سال پرانی ایک مچھلی کا دل دریافت کیا ہے، جو مچھلی کے اندر ابھی تک محفوظ تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دل خون پمپ کرنے والے عضو کے ارتقا کے حوالے سے بہت اہم ہے جو انسانوں سمیت کمر کی ہڈی والے تمام جانوروں میں پایا جاتا ہے۔
یہ ’گوگو‘ نامی مچھلی کا دل ہے، جو اب ناپید ہے۔
سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی یہ حیرت انگیز دریافت مغربی آسٹریلیا میں کی گئی تھی۔
پرتھ کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنسدان پروفیسر کیٹ ٹریناجسٹک نے بی بی سی کو اس لمحے کے بارے میں بتایا جب انھیں اور ان کے ساتھیوں کو احساس ہوا کہ انھوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی دریافت کر لی ہے۔
وہ کہتی ہیں ’ہم کمپیوٹر کے گرد جمع تھے اور جب ہمیں پتا چلا کہ یہ ایک دل ہے تو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ یہ ناقابل یقین حد تک دلچسپ تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہJohn Long
عام طور پر نرم خلیوں کی بجائے ہڈیاں فوسلز میں تبدیل ہوتی ہیں لیکن کمبرلے میں اس مقام پر، جسے گوگو چٹان کی تشکیل کے نام سے جانا جاتا ہے، یہاں پر معدنیات نے مچھلی کے بہت سے اندرونی اعضا کو محفوظ کر لیا تھا، جن میں جگر، معدہ، آنت اور دل شامل ہیں۔
پروفیسر کیٹ ٹریناجسٹک کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے اپنے ارتقا کے حوالے سے یہ ایک اہم لمحہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈیلیڈ کی فلنڈرز یونیورسٹی سے ان کے ساتھی پروفیسر جان لانگ نے اس دریافت کو حیرت انگیز قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے تک ہمیں جانوروں کے ان پرانے نرم اعضا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC News
گوگو مچھلی قدیم زمانے کی مچھلیوں کی پہلی کلاس ہے جسے پلیسوڈرم کہتے ہیں۔ یہ مچھلیوں کی پہلی قسم تھی، جن کے جبڑے اور دانت تھے۔ ان سے پہلے مچھلیاں 30 سینٹی میٹر سے بڑی نہیں تھیں لیکن پلیسوڈرم لمبائی میں نو میٹر تک تھیں۔
پلیسوڈرم مچھلیاں 60 ملین سال تک ہمارے سیارے پر موجود تھیں یعنی پہلے ڈائنوسار کے زمین پر قدم رکھنے سے 100 ملین سے زیادہ سال پہلے سے یہ مچھلیاں موجود تھیں۔
گوگو مچھلی کے فوسل کے سکین سے پتا چلتا ہے کہ جتنا توقع کی جا رہی تھی اس کا دل قدیم مچھلیوں سے بھی پیچیدہ نکلا۔ اس کے دو چیمبر تھے جو ایک دوسرے کے اوپر اور ساخت میں انسانی دل کی طرح تھے۔
محققین کا خیال ہے کہ اس سے مچھلی کا دل زیادہ کارآمد بن گیا اور اس اہم پیشرفت نے اسے ایک سست حرکت کرنے والی مچھلی سے تیزی سے چلنے والے شکاری میں تبدیل کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہKate Trinajstic/Science
یہ بھی پڑھیے
پروفیسر لانگ کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ طریقہ تھا جس سے وہ آگے بڑھ کر شکاری بن سکتی تھیں۔‘
دوسرا اہم مشاہدہ یہ تھا کہ ان کا دل قدیم دوسری مچھلیوں کے مقابلے میں جسم میں بہت آگے تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اس پوزیشن کا تعلق گوگو مچھلی کی گردن کی نشوونما سے ہے اور اس نے پھیپھڑوں کی نشوونما کے لیے جگہ بنائی۔

نیچرل ہسٹری میوزیم لندن کی ڈاکٹر زیرینا جوہانسن نے اس تحقیق کو ایک ’انتہائی اہم دریافت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہ بتانے میں مدد ملتی ہے کہ انسانی جسم آج اس طرح کی شکل میں کیوں ہے۔
’اس میں جو بہت سی چیزیں آپ دیکھتے ہیں وہ ہمارے جسموں میں اب بھی موجود ہیں، مثال کے طور پر جبڑے اور دانت۔ اس کے آگے اور پیچھے کے پر پہلی ظاہری شکل ہے، جو ارتقائی عمل سے گزر کر ہمارے بازو اور ٹانگیں بنے۔‘
’ان پلیسوڈرم میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو آج ہمارے جسم کا حصہ ہیں جیسے گردن، دل کی شکل اور ترتیب اور جسم میں اس کی پوزیشن۔‘
امپیریئل کالج لندن کے ماہر ڈاکٹر مارٹن بریزیو کے مطابق، یہ دریافت زمین پر زندگی کے ارتقا میں ایک اہم قدم ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتیجہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔
’میں اور میرے ساتھی جن مچھلیوں پر تحقیق کر رہے ہیں وہ ہمارے ارتقا کا حصہ ہیں۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانوروں اور سمندر میں رہنے والی مچھلیوں کے ارتقا کا حصہ ہے۔‘










