دنیا کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی لندن آمد مگر کیا یہ میوزیم میں پورا آئے گا؟

ڈائنوسار

زمین پر آج تک چلنے والوں میں سے ممکنہ طور پر سب سے بڑے جانور کی ایک نقل نیو ایئر کے موقع پر لندن میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس کی گیلری میں پوری آئے گی؟ 

ناک سے لے کر دم تک 115 فٹ لمبا یہ جانور اپنی زندگی میں 60 سے 70 ٹن وزنی رہا ہو گا۔ 

لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں ایگزیبیشن ڈویلپر سینیاڈ میرن نے کہا: ’ہم اسے اندر تو لا سکیں گے لیکن اس کے بعد زیادہ جگہ نہیں بچے گی۔‘ 

یہ نقل ارجنٹینا کے ایگیڈیو فیروگلیو میوزیم (ایم ای ایف) سے ادھار لی جا رہی ہے جس کے عملے نے سنہ 2014 میں اس عظیم الجثہ جانور کی ہڈیاں دریافت کی تھیں۔ 

10 کروڑ سال پرانے اس جانور کی ہڈیوں کی دریافت سے سائنسی دنیا میں تہلکہ مچ گیا تھا۔ 

ایک محقق نے اس کی پنڈلی کی ہڈی کے ساتھ لیٹ کر اپنی تصویر بنوائی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جانور کس قدر بڑا تھا۔ یہ تصویر دنیا بھر کے اخبارات میں چھپی تھی۔ 

بی بی سی کی جانب سے سر ڈیوڈ ایٹنبرو کے ساتھ مل کر اس حوالے سے ایک فلم بھی بنائی گئی ہے جس کا نام ایٹنبرو اینڈ دی جائنٹ ڈائنوسار ہے۔

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہD.Pol/MEF

ارجنٹینا کا ایم ای ایف میوزیم لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کو ٹانگ کی وہ اصلی ہڈی بھی ادھار دے رہا ہے جو میوزیم آنے والے لوگوں کو سیلفی کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔ 

سینیاڈ میرن نے کہا: ’ٹانگ کی یہ ہڈی 2.4 میٹر لمبی اور 500 کلو وزنی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس بازو کی ہڈیوں کا مکمل سیٹ بھی ہو گا۔‘ 

اُنھوں نے بتایا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پیٹاگوٹائٹن نامی یہ ڈائنوسار اور یہ فوسلز یورپ میں نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔‘ 

میرن نے کہا کہ ’ایم ای ایف بہت دریا دل ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی سائنس دیکھے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم وہ جگہ ہیں جہاں وہ اس کی نمائش چاہتے ہیں۔‘ 

ڈائنوسار

اس ڈھانچے کے ساتھ کئی انٹرایکٹیو نمائشی اشیا رکھی جائیں گی جو مجموعی طور پر ٹائٹینوسارس کہلانے والے دنیا کے سب سے بڑے ساروپوڈ ڈائنوسارز کی زندگیوں کی کہانی بیان کریں گی۔ 

پیٹاگوٹائٹن اور ارجنٹینوسارس میں سے کون زیادہ بڑا تھا، یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ اب تک ان ڈائنوسارز کی تمام تر ہڈیاں دریافت نہیں ہوئی ہیں اس لیے ان کے حقیقی سائز کا اندازہ لگانا تھوڑا سا مشکل ہے۔ 

سائنسدان اب تک نہیں جانتے کہ ٹائٹینوسارس اتنے بڑے کیوں تھے مگر ان کا اندازہ ہے کہ اس کی وجہ اس دور کے نسبتاً خراب معیار کے پودے جنھیں ہضم کرنے کے لیے ایک بڑے نظامِ انہضام کی ضرورت ہوتی تھی۔ 

آسان الفاظ میں کہیں تو یہ بڑے ستون جیسی ٹانگوں پر رکھے فرمنٹیشن ٹینکس جیسا نظامِ انہضام تھا۔ 

ڈپی

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنڈپلوڈوکس نامی ڈائنوسار بھی ساروپوڈ ہے مگر پیٹاگوٹائٹن سے کہیں چھوٹا ہے

نیچرل ہسٹری میوزیم باقاعدگی سے آنے والے افراد ڈپی دی ڈائنوسار کو بھی جانتے ہوں گے۔ یہ بھی ایک ساروپوڈ ہے مگر لوگ پیٹاگوٹائٹن کو دیکھ کر شاید حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ 

میوزیم کے پیلی اونٹولوجسٹ ڈاکٹر پال بیریٹ نے کہا: ’پیٹاگوٹائٹن ڈپی سے بہت بڑا ہے۔‘ 

اُنھوں نے کہا کہ ڈپی پیٹاگوٹائٹن سے بہت ہلکا بھی ہے اور تقریباً اس کے وزن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ 

ڈپی اس وقت نیچرل ہسٹری میوزیم کی واٹرہاؤس گیلری میں ہے اور اسے پیٹاگوٹائٹن کے لیے جگہ بنانے کی خاطر وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ 

سینیاڈ میرن نے کہا ڈپی کو برطانیہ میں ایک اور جگہ طویل مدتی نمائش کے لیے ادھار دیا جا رہا ہے۔ 

اس نمائش کی شروعات جمعہ 31 مارچ 2023 کو ہو گی۔