لاہور کے مین ہول میں گرنے سے خاتون اور بچی کی ہلاکت: کیا چند افسران کی معطلی یا گرفتاری ایسے واقعات کو روک پائے گی؟

لاہور، مین ہول، سیوریج
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران دو صوبوں میں دو ایسے حادثات ہوئے ہیں جن میں حکومتی ردعمل کو تنقید کا سامنا ہے۔

پہلے بڑے واقعے میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی میں درجنوں افراد جان سے گئے۔ دوسرا واقعہ حال ہی میں پنجاب کے شہر لاہور میں پیش آیا جہاں داتا دربار کے قریب تعمیراتی کام کی جگہ پر ایک خاتون اپنی دس ماہ کی بچی سمیت ایک مین ہول میں گر گئیں جس سے دونوں کی موت ہو گئی۔

ابتدائی طور پر جب دونوں ماں بیٹی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری تھا تو اس دوران واقعے کو سرے سے جھٹلانے اور بعد میں اس کو قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے ان کے خاوند کو شک کی بنیاد پر حراست میں بھی رکھا۔

بعض اداروں نے موقف اپنایا کہ مین ہول میں کوئی گر ہی نہیں سکتا لیکن چند ہی گھنٹے بعد ریسکیو اہلکار سیوریج کے نالے سے ماں کی لاش برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دس ماہ کی بچی کی لاش مزید کئی گھنٹے کی کوشش سے برآمد ہوئی۔

اس پر یہ سوال اٹھا کہ جب یہ حادثہ واقعتاً ہوا تو انتظامیہ نے اس کو چھپانے کی کوشش کیوں کی۔ اس پر پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے از خود مقامی ذرائع ابلاغ پر لائیو نشر ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران انتظامیہ کے افسران سے بریفنگ لی۔

اس میں انھوں نے اس کا اعتراف کیا کہ ’یہ حادثہ ہوا جس میں انتظامیہ نے ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اسے دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی اور وہ اس پر بہت شرمندہ ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے کمشنر لاہور سمیت کئی افسران کو واقعے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ ان کی اس میٹنگ کے بعد پولیس نے مرنے والی خاتون کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جس میں نامزد پراجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

اس واقعے کی تحقیقات میں ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے پولیس مزید کئی محکموں کے اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کر سکتی ہے۔

تاہم یہ پاکستان میں یا پنجاب میں ہونے والا اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل اس طرح کے متعدد واقعات میں کئی لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ ہر اس نوعیت کے واقعے کے بعد رد عمل میں چند افسران کی معطلی یا گرفتاری سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو جائے گی۔

تعمیراتی کام کی جگہوں پر کام کرنے والے سیفٹی ایکسپرٹ سمجھتے ہیں اس طرح کے ردعمل کے طور پر کیے جانے والے اقدامات ایسے حادثات کی روک تھام میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتے۔

تاہم اس پر جانے سے پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ تعمیراتی کام کی جگہوں پر کس قسم کے سیفٹی پروٹوکول لینا ضروری ہوتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بنانا کس کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ہونے والے واقعے میں حکومت کی ابتدائی تحقیقات میں کن کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔

لاہور، مین ہول، سیوریج

،تصویر کا ذریعہFamily

لاہور بھاٹی گیٹ کا حادثہ کیسے ہوا ہو گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جمعرات کے روز وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی اعلی سطحی میٹنگ کے دوران ایک حکومتی اہلکار نے انھیں بریفینگ دیتے ہوئے بھاٹی گیٹ میں میں ہونے والے واقعے کے بارے میں ممکنہ وجوہات کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے واقعے کے مقام پر مبینہ کوتاہیوں کے بارے آگاہ کیا۔ ان میں تین نکات بنیادی اہمیت کے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’وہاں ایک تو تعمیراتی کام کی جگہ کو پیدل چلنے والوں سے الگ کرنے کے لیے رکاوٹیں یا تو موجود ہی نہیں تھیں اور جہاں تھیں وہ کھدائی والی جگہ سے بہت پیچھے تھیں۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تعمیراتی علاقے میں ایک پبلک پارکنگ بدستور چل رہی تھی جس میں کوئی وہاں لوگوں سے پارکنگ فیس بھی وصول کر رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ پارکنگ وہاں نہ ہوتی تو لوگ اس طرف نہ آتے اور شاید اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔‘

تیسری کوتائی جس کی انھوں نے نشاندہی کی وہ روشنی کا انتظام تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق اس مقام پر جہاں خاتون مین ہول میں جا گریں وہاں پر روشنی کا کوئی بندوبست موجود نہیں تھا۔ ’اگر روشنی ہوتی اور وہ اس مقام کو دیکھ سکتیں تو شاید وہ اس طرف نہ آتیں اور اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔‘

تاہم سوال یہ ہے کہ یہ اور اس طرح کے دیگر کون سے ایسے اقدامات ہیں جو تعمیراتی علاقوں میں لینا ضروری ہوتے ہیں اور ان کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس کی ہوتی ہے۔

لاہور، مین ہول، سیوریج

تعمیراتی کام کی جگہ کو کیسے محفوظ بنایا جاتا ہے؟

صوبہ پنجاب کے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے گذشتہ برس جون میں صوبے کے تمام تعمیراتی اور انتظامی اداروں کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا جس میں وہ تمام حفاظتی اقدامات واضح طور پر بتائے تھے جو تعمیراتی کام کی جگہ پر لینا ضروری ہوتے ہیں۔

ان 17 اقدامات میں زیادہ تر کنسٹرکشن سائٹ پر کام کرنے والوں اور وہاں سے گزرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایات لکھیں تھیں۔ ان میں ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ ’تعمیراتی کام کی جگہ ٹریفک اور پیدل گزرنے والوں کے لیے واضح نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔‘

محمد اویس سول انجینیئر ہیں۔ وہ سرکاری اور نجی نوعیت کے پراجیکٹس پر تعمیراتی کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ تعمیراتی کام کی جگہ پر سیفٹی کے لیے باقاعدہ طور پر پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

’اس میں سب سے بنیادی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ تعمیراتی کام کی جگہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے عام لوگوں کو اس طرف آنے سے روکا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اور پاکستان میں بھی اس کے لیے دو قسم کی رکاوٹیں استعمال ہوتی ہیں جن میں معمولی اور ٹھوس دونوں رکاوٹیں شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ موزوں طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شیٹیں لگا کر اس جگہ کو عام لوگوں کی آمدورفت سے الگ کر دیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس جگہ پر روشنی کا بھی خاطر خواہ بندوبست ہونا چاہیے۔ وہاں کام کرنے والوں اور اردگرد کام کرنے والے تمام لوگوں کو پراجیکٹ اور اس پر ہونے والے تعمیراتی کام کے حوالے سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے کہ وہاں کس قسم کا کام ہو رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کھدائی والی جگہ کو خاص طور پر عام افراد کی رسائی سے دور رکھا جائے۔

’بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر جگہوں پر ایسا ہوتا نہیں۔ زیادہ تر لوگ سیفٹی ٹیپ لگا دیتے ہیں۔ روشنی کا بندوبست نہیں ہوتا اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت بھی وہاں سے جاری رہتی ہے۔ لوگ ٹیپ اوپر اٹھا کر وہاں سے گزر جاتے ہیں۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس پر عملدرآمد کیسے کروایا جا سکتا ہے۔

لاہور، مین ہول، سیوریج

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

’لوگ کہتے ہیں میرے ساتھ تو کبھی حادثہ نہیں ہوا‘

انجینیئر محمد اویس کہتے ہیں پاکستان میں حفاظتی اقدامات نہ لیے جانے کی کئی وجوہات ہیں تاہم ان کے خیال میں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں ایک عام لوگوں کا رویہ اور دوسرا پراجیکٹس کا بجٹ ہوتا ہے۔

’ہمارے ہاں لوگوں کو ایسی تعمیراتی جگہوں پر خطرات کے حوالے سے آگاہی نہیں اور دوسرا ان کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہوتا ہے۔ لوگ کہتے کہ میرے ساتھ تو کبھی ایسا حادثہ نہیں ہوا۔ اس لیے وہ حفاظتی اقدامات کا خیال نہیں رکھتے۔‘

محمد اویس نے بتایا کہ زیادہ تر عام لوگ واضح طور پر ہدایات کو نظرانداز کر کے اس جگہ سے گزرنے کا راستہ بنا لیتے ہیں جہاں تعمیراتی کام ہو رہا ہوتا ہے۔ اس مقام پر کام کرنے والوں کو وہاں موجود خطرات کا علم ہوتا ہے لیکن جو باہر سے آتا ہے اس کو نہیں ہوتا۔

’ہمارے ہاں اکثر سبز شیٹ لگا کر جگہ کو محفوظ بنایا جاتا ہے لیکن عام لوگ وہ شیٹ اوپر اٹھا کر نیچے سے گزر جاتے ہیں۔ وہ شارٹ کٹ اپناتے ہیں۔ اس لیے اگر کہیں کھدائی ہوئی یا مین ہول کھلا ہے تو ان لوگوں کے لیے حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

ان کے خیال میں یہ پراجیکٹ پر کام کرنے والے سیفٹی کے اہلکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے لوگوں میں اس بارے میں آگاہی دیں۔

’پراجیکٹ کے ٹھیکیدار پیسہ بچانے کی کوشش کرتے ہیں‘

انجینیئر محمد اویس کا کہنا ہے کہ تعمیراتی مقامات پر موثر حفاظتی اقدامات نہ لینے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ پراجیکٹ کا بجٹ ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں بجٹ ہی وہ چیز ہے جہاں سیفٹی کے لیے الگ سے پیسے رکھ کر اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ٹھیکیدار تمام حفاظتی اقدامات لے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خاص طور پر سرکاری نوعیت کے تعمیراتی کام میں بجٹ کا مسئلہ آتا ہے۔

’وزیراعلی کو افسران یہ تو بتا رہے ہیں کہ وہاں کس قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے تھے لیکن ان کو یہ بتانے کی ہمت کوئی نہیں کر رہا کہ کیا اس پراجیکٹ کے اندر سیفٹی کے لیے الگ سے بجٹ رکھا گیا تھا یا نہیں۔‘

محمد اویس کے خیال میں کیونکہ سرکاری ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے کم سے کم بولی آفر لگانے کی ضرورت پڑتی ہے تو لوگ سیفٹی بجٹ کاٹ دیتے ہیں۔ دوسری صورت میں ٹھیکہ دینے والا ان سے کہہ دیتا ہے کہ سیفٹی کا بندوبست انھوں نے اسی پیسے سے کرنا ہے جو انھوں نے ریٹ لگایا۔

’اس صورت میں ٹھیکیدار پیسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یا تو حفاظتی اقدامات لیتے ہی نہیں اور اگر لیتے بھی ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ جتنا پیسہ بچایا جا سکے اتنا اچھا ہے۔‘

’اس لیے وہ سستی اور غیر معیاری چیزیں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ٹیپ لگانا یا سبز شیٹ لگا دینا۔ اس کے بعد وہ نگرانی بھی نہیں کرتے۔ اس چیز پر بھی توجہ نہیں دی جاتی کہ کیا لوگ وہاں سے گزر رہے ہیں یا نہیں۔‘

انجینیئر محمد اویس کے مطابق اگر بجٹ کے وقت پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران سیفٹی کے لیے الگ سے بجٹ رکھا جائے اور اس بات کو نگرانی کے ذریعے یقینی بنایا جائے کہ وہ بجٹ حفاظتی اقدامات کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو ان حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

لاہور، مین ہول، سیوریج

کیا ردعمل میں کیے جانے والے سخت اقدامات حادثات روک سکتے ہیں؟

انجینیئر محمد اویس سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔ ان کے خیال میں ایک ایسے شخص کو عوامی سطح پر ایک ایسی کوتاہی کا ذمہ دار ٹھہرا دینا جو اس کے قلمدان کا حصہ ہی نہیں، مسئلے کا حل نہیں کر سکتا۔

’کمشنر یا ڈپٹی کمشنر وغیرہ کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ تعمیراتی کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ یہ ان کا پورٹ فولیو ہی نہیں۔ اس لیے ان کو مورد الزام ٹھہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘

تاہم وہ یہ مانتے ہیں کہ پراجیکٹ کے مینیجر یا سیفٹی انچارج پر اس کی ذمہ داری ہے اور ان سے اس بارے میں تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں تاہم محمد اویس کے خیال میں رد عمل کے طور پر کیے جانے والے اقدامات سے حادثات نہیں رک پائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر تعمیراتی پراجیکٹ کے لیے ایک جامع اور موزوں منصوبہ بندی کے ذریعے ایک سیفٹی پلان بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے علیحدہ بجٹ رکھا جاتا ہے۔ پلان میں تمام اقدامات اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جاتا ہے۔

’یہ پلان ایل ڈی اے یا سرکاری محکموں کی نگرانی میں بنتا ہے یا وہ اس کی کاپی ضروری منگواتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اس کاپی کو کوئی کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھتا۔‘

محمد اویس کہتے ہیں کہ اس پلان کے تحت تعمیراتی کام کی جگہ کی باقاعدہ انسپیکشن کی جانا ہوتی ہے۔ بعض جگہوں پر یہ انسپیکشن دن میں دو مرتبہ بھی ہوتی ہے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ حفاظتی اقدامات درست طریقے سے لاگو کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی پراجیکٹ کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ کتنی جلدی مکمل ہو گیا۔ اگر کسی پراجیکٹ میں کچھ لوگوں کی اموات ہو جائیں تو اس کو کامیاب پراجیکٹ نہیں کہا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور دیگر شہروں میں کئی مقامات پر ترقیاتی کام جاری ہیں تاہم لاہور ہی میں ان کے مشاہدے میں ایسے مقامات ہیں جہاں اب بھی موزوں حفاظتی اقدامات نہیں لیے جا رہے۔