تہران میں نئی حکومت یا ’وینزویلا ماڈل‘، امریکی حملے کی صورت میں سات ممکنہ نتائج

A composite image of US President Donald Trump and Iran's Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکہ آئندہ چند دنوں میں ایران پر حملہ کرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ ممکنہ اہداف تو بڑی حد تک قابلِ اندازہ ہیں لیکن نتائج نہیں۔

لہٰذا اگر تہران کے ساتھ آخری لمحے میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی افواج کو حملے کا حکم دے دیں تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

1- جمہوریت کی طرف منتقلی

امریکی فضائی اور بحری افواج محدود اور درست حملے کرتے ہوئے اپنا ہدف ایران کی پاسداران انقلاب کے فوجی اڈے، اس کے ماتحت نیم فوجی دستہ بسیج، بیلسٹک میزائل لانچ اور ایران کے جوہری پروگرام کو رکھیں گی۔

ایک پہلے سے کمزور حکومت گرتی ہے تو یو پھر بالآخر ایک حقیقی جمہوریت کی طرف منتقلی ہو سکے گی، جہاں ایران دوبارہ دنیا کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔

یہ ایک نہایت پرامید منظرنامہ ہے لیکن عراق اور لیبیا میں مغربی فوجی مداخلت جمہوریت کی ہموار منتقلی نہیں لا سکی۔ اگرچہ اس نے دونوں ممالک میں ظالمانہ آمریتوں کا خاتمہ کیا لیکن اس کے نتیجے میں کئی برسوں تک افراتفری اور خونریزی دیکھنے میں آئی۔

شام، جہاں عوام نے اپنی ہی بغاوت کے ذریعے 2024 میں صدر بشار الاسد کو مغربی فوجی مدد کے بغیر ہٹایا، اب تک نسبتاً وہاں بہتر حالات ہیں۔

2- حکومت بچ جاتی ہے مگر پالیسیوں میں نرمی لے آتی ہے

اسے ’وینیزویلا ماڈل‘ کہا جا سکتا ہے، جس کے تحت امریکہ کی تیز اور طاقتور کارروائی حکومت کو برقرار رکھتی ہے لیکن اس کی پالیسیوں میں نرمی آ جاتی ہے۔

ایران کے معاملے میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت قائم رہے گی، جو بڑی تعداد میں ایرانی عوام کو مطمئن نہیں کرے گی لیکن اسے مجبوراً مشرقِ وسطیٰ میں پرتشدد ملیشیاؤں کی حمایت کم کرنی پڑے گی، اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکنا یا محدود کرنا ہوگا اور مظاہروں کو کچلنے میں بھی نرمی لانا ہوگی۔

یہ منظرنامہ بھی زیادہ غیر ممکنہ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی قیادت گذشتہ 47 برس سے مزاحمت کرتی آئی ہے اور تبدیلی کے لیے تیار نہیں رہی۔ اب بھی اس کے راستہ بدلنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

Police officers in all black clothing carrying guns patrol a crowd carrying Iranian flags.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

3- حکومت گر جاتی ہے اور اس کی جگہ فوجی حکومت قائم ہو جاتی ہے

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ حکومت عوام میں غیر مقبول ہے اور برسوں سے جاری ہر نئی احتجاجی لہر اسے مزید کمزور کرتی ہے لیکن ایک وسیع اور طاقتور سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے جو موجودہ نظام کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اب تک احتجاجی تحریکیں حکومت کو گرانے میں اس لیے ناکام رہی ہیں کہ ان کی طرف کوئی بڑی تعداد میں انحراف نہیں ہوا جبکہ اقتدار پر قابض عناصر طاقت اور تشدد کے بے پناہ استعمال کے لیے تیار ہیں تاکہ اقتدار میں رہ سکیں۔

امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایران ایک مضبوط فوجی حکومت کے زیرِ انتظام آ جائے، جو زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کے افراد پر مشتمل ہو۔

4- ایران جوابی کارروائی میں امریکی افواج اور پڑوسی ممالک پر حملہ کر دے

ایران نے کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کی انگلی ٹریگر پر ہے۔‘

اگرچہ ایران امریکی بحریہ اور فضائیہ کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن وہ اب بھی اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کے ذریعے حملہ کر سکتا ہے، جن میں سے کئی غاروں، زیرِ زمین یا دور دراز پہاڑی علاقوں میں چھپائے گئے ہیں۔

خلیج کے عرب حصے میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات موجود ہیں، خاص طور پر بحرین اور قطر میں تاہم ایران اگر چاہے تو ان ممالک کے اہم ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جنھیں وہ امریکی حملے میں شریک سمجھتا ہے، جیسے اردن یا اسرائیل۔

سنہ 2019 میں سعودی آرامکو کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر تباہ کن میزائل اور ڈرون حملہ، جسے عراق میں ایران نواز ملیشیا سے منسوب کیا گیا، نے سعودی عرب کو یہ دکھا دیا کہ وہ ایرانی میزائلوں کے سامنے کس قدر کمزور ہیں۔

ایران کے خلیجی عرب پڑوسی، جو سب امریکی اتحادی ہیں، بجا طور پر اس وقت شدید پریشانی میں ہیں کہ کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کا نتیجہ بالآخر ان پر ہی الٹ سکتا ہے۔

A blurry video grab shows protesters and smoke from a fire, with one person holding up a phone to capture events, taken in Mashhad in early January.

،تصویر کا ذریعہUGC

5- ایران جوابی کارروائی میں خلیج میں بارودی سرنگیں بچھا دے

یہ خطرہ طویل عرصے سے عالمی بحری تجارت اور تیل کی فراہمی کے لیے موجود رہا ہے۔

عراق جنگ (1980-88) کے دوران جب ایران نے واقعی بحری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں اور برطانوی بحریہ کے مائن سوئیپرز نے انھیں صاف کرنے میں مدد دی تھی۔

ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات اور 20 سے 25 فیصد تیل اور اس کی مصنوعات ہر سال اسی راستے سے گزرتی ہیں۔

ایران نے تیزی سے سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی مشقیں کی ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کا عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر ناگزیر اثر پڑے گا۔

6- ایران جوابی کارروائی میں امریکی جنگی جہاز کو تباہ کر دے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

خلیج میں تعینات ایک امریکی بحری جہاز کے کپتان نے ایک بار مجھے بتایا کہ ایران کی طرف سے جس خطرے کی انھیں سب سے زیادہ فکر ہے وہ ’جھُنڈ کی شکل میں حملہ‘ ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ ایران ایک یا کئی اہداف پر اتنے زیادہ بارودی ڈرونز اور تیز رفتار جنگی کشتیوں سے حملہ کرے کہ امریکی بحریہ کا طاقتور دفاعی نظام بھی بروقت سب کو ختم کرنے میں ناکام ہو جائے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خلیج میں عرصہ پہلے روایتی ایرانی بحریہ کی جگہ لے لی تھی، جن کے بعض کمانڈروں کو شاہ کے دور میں ڈارٹ ماؤتھ میں تربیت بھی دی گئی تھی۔

ایرانی بحری عملہ اپنی زیادہ تر تربیت غیر روایتی یا ’غیر متوازن‘ جنگی حکمتِ عملی پر مرکوز رکھتا ہے تاکہ وہ امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی تکنیکی برتری کو شکست دے سکے یا اس سے بچ نکلے۔

کسی امریکی جنگی جہاز کو تباہ اور اس کے عملے کے زندہ بچ جانے والے افراد کا ممکنہ طور پر گرفتار ہونا امریکہ کے لیے بڑی ذلت ہو گی۔

اگرچہ اس منظرنامے کو غیر ممکنہ سمجھا جاتا ہے لیکن اربوں ڈالر مالیت کے تباہ کن جہاز یو ایس ایس کول کو سنہ 2000 میں عدن کی بندرگاہ پر القاعدہ کے خودکش حملے نے شدید نقصان پہنچایا تھا، جس میں 17 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

اس سے پہلے سنہ 1987 میں ایک عراقی پائلٹ نے غلطی سے دو ایکزو سیٹ میزائل ایک امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سٹارک پر داغ دیے تھے، جس میں 37 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

A woman wearing a dark hijab and black dress walks past a mural on a wall depicting politicians from the US and Iran sitting opposite each other, taken in Tehran on 28 January.

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

7- حکومت گر جائے اور افراتفری پھیل جائے

یہ نہایت حقیقی خطرہ ہے اور قطر و سعودی عرب جیسے پڑوسی ممالک کی بڑی تشویش کا باعث ہے۔

خانہ جنگی کے امکان کے ساتھ ساتھ، جیسا کہ شام، یمن اور لیبیا میں دیکھا گیا، یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ افراتفری اور انتشار کے دوران نسلی کشیدگی مسلح تصادم میں بدل جائے جبکہ کرد، بلوچ اور دیگر اقلیتیں ملک گیر طاقت کے خلا میں اپنے لوگوں کے تحفظ کی کوشش کریں۔

مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک یقیناً اسلامی جمہوریہ کے خاتمے پر خوش ہوں گے، خاص طور پر اسرائیل، جو پہلے ہی ایران کے اتحادی گروہوں کو خطے میں سخت نقصان پہنچا چکا ہے اور ایران کے مشتبہ جوہری پروگرام سے خطرہ محسوس کرتا ہے۔

لیکن کوئی بھی نہیں چاہتا کہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک تقریباً 93 ملین افراد، افراتفری کا شکار ہو جائیں اور ایک انسانی المیے اور پناہ گزینوں کا بحران جنم لے لے۔

سب سے بڑا خطرہ اب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ، جو ایران کی سرحدوں کے قریب ایک طاقتور فوجی قوت جمع کر چکے ہیں، یہ فیصلہ کریں کہ انھیں کارروائی کرنی ہی ہو گی ورنہ اپنی ساکھ کھو دیں گے۔

اور یوں ایک ایسی جنگ شروع ہو جائے جس کا کوئی واضح انجام نہ ہو اور جس کے نتائج غیر متوقع اور ممکنہ طور پر نقصان دہ ہوں۔