بلوچستان کے سرکاری مال خانے سے چھ من منشیات غائب: ’کھڑکی توڑ کر داخل ہونے والے چور صرف افیون اور چرس لے گئے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
یہ بلوچستان میں سرکاری مال خانے سے اشیا کی چوری کا ایک انوکھا واقعہ ہے جس میں بظاہر محفوظ سمجھے جانے والے ایک مقام سے صرف افیون اور چرس غائب ہوئی۔
دراصل یہ معاملہ منشیات کی بھاری مقدار کی چوری کا ہے جو دُکی کے ایک سرکاری مال خانے میں پڑا ہوا تھا۔
واقعے کے حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق مال خانے سے مجموعی طور پر چھ من سے زیادہ منشیات چوری ہوئیں۔ اس کے مطابق نامعلوم ملزمان مال خانے کی ’کھڑکی توڑ کر وہاں پڑی منشیات چوری کر کے لے گئے۔‘
اگرچہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
دُکی کے ڈپٹی کمشنر نعیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اس معاملے کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال بلوچستان میں پوست کی کاشت کے خلاف جن جن اضلاع میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں تھیں ان میں ضلع دُکی بھی شامل تھا۔
ایک محفوظ مال خانہ جہاں سے افیون اور چرس غائب ہوئی
حکام کے مطابق بظاہر محفوظ تصور کیا جانے والا یہ مال خانہ ضلع کے ہیڈکوارٹر میں ایڈمنسٹریٹو اینڈ جوڈیشل کمپلیکس میں واقع ہے جو پہلے لیویز فورس کے کنٹرول میں تھا لیکن اب لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا۔
دُکی پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ دیگر اضلاع کی طرح دُکی میں بھی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا لیکن تاحال یہ مال خانہ پولیس کے حوالے نہیں ہوا بلکہ مرحلہ وار حوالگی کا عمل جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منشیات کی چوری کی ایف آئی آر مال خانے کے محرر عبدالحنان کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 380 اور 34 کے تحت درج کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق ’27 اور 28 جنوری کی درمیانی شب اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں موجود مال خانے میں نامعلوم افراد کھڑکی توڑ کر داخل ہوئے۔‘
اس کے مطابق ملزمان نے مال خانے میں متعدد پارسلز میں پڑی منشیات کی بھاری مقدار چُرائی۔

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس اہلکار نے بتایا کہ منشیات سابق لیویز فورس کی ضلع کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں برآمد کی گئی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق چوری شدہ منشیات کی مقدار چھ من سے زیادہ تھی جو 270 کلو افیون اور 37 کلو چرس پر مشتمل تھی۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ چونکہ ان کے حوالے سے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے، اس لیے ان کو تلف کرنے کی بجائے مال خانے میں رکھا گیا تھا۔
اگرچہ مال خانے میں دوسری اشیا بھی پڑی تھیں مگر ایف آئی آر کے مطابق چور وہاں سے صرف منشیات اٹھا کر لے گئے۔
دُکی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد چوری شدہ منشیات کے 14 پارسل برآمد ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو پارسل برآمد ہوئے، ان کے حوالے سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ان کے مطابق چوری کے اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ منشیات کے جو پارسل برآمد ہوئے ہیں ان کے حوالے سے بھی یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کہیں ان میں پہلے سے پڑے مواد کو تبدیل تو نہیں کیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’(ہم) یہ دیکھ رہے ہیں کہ پارسلز میں وہی منشیات پڑی ہے جو برآمدگی کے وقت ڈالی گئی تھی یا پھر مقدمے کے اندراج کے بعد خانہ پوری کے لیے ان میں کچھ اور ڈال دیا گیا۔‘
پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ منشیات کی چوری کا واقعہ کہیں بہت پہلے پیش تو نہیں آیا۔
انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ لیویز فورس کے انضمام کے بعد یہ مال خانہ پولیس کے حوالے ہونا ہے اسی لیے شاید چوری اب ظاہر کی گئی ہو۔
جب اس واقعے کے حوالے سے ضلع دُکی کے ڈپٹی کمشنر نعیم خان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تحریری طور پر یہ جواب دیا کہ پولیس اس بارے میں تحقیق کر رہی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر اکرم حریفال نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے منشیات کی چوری اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی چوری اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے نہیں بلکہ مال خانے سے ہوئی جو ایڈمنسٹریٹو اینڈ جوڈیشل کمپلیکس میں واقع ہے اور یہاں صرف اسسٹنٹ کمشنر کا دفتر نہیں بلکہ بہت سارے دفاتر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی حال ہی دُکی میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے تقرری ہوئی اور انھوں نے ابھی تک چارج بھی نہیں سنبھالا۔












