توہینِ مذہب کے الزام سے بری ہونے والے روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور: ’ایسا لگتا ہے کسی بھی وقت مار دیا جاؤں گا‘

جیل، رہائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرہائی ملنے کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ’میری زندگی کو زیادہ خطرات لاحق ہو گئے ہیں‘ (علامتی تصویر)
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو

یہ کہانی ایک ایسے پاکستانی شہری کی ہے جو توہین مذہب کے الزام سے بری ہونے کے بعد بھی اس ڈر میں مبتلا ہے کہ اسے ’کسی بھی وقت مار دیا جائے گا۔‘

پاکستان میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے قوانین میں مجرم کو موت کی سزا دی جا سکتی ہے اور ارشد محمود، جن کے تحفظ کے لیے شناخت تبدیل کی گئی ہے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے درج کیا تھا اور پھر اس مقدمے میں ضلعی عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی۔

اس فیصلے کے خلاف ارشد محمود نے اعلی عدلیہ میں اپیل دائر کی جس کی سماعت کے بعد انھیں اس الزام سے بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ہائیکورٹ کے اس فیصلے میں گواہان کے بیانات میں موجود تضاد کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ذکر تھا کہ نچلی عدالت نے ’جوڈیشل مائنڈ استعمال نہیں کیا‘ اور یہ کہ استغاثہ کے گواہان میں ایک بھی گواہ ایسا نہیں تھا جس کے بارے میں یہ رائے قائم کی جائے کہ اس نے ’آزادانہ طور پر گواہی دی ہو گی۔‘

ارشد کی جان توہین مذہب کے اس مقدمے سے تو چھوٹ گئی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے سر پر جان کو لاحق خطرے کی تلوار بدستور لٹک رہی ہے۔

رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی کو زیادہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اب تو ڈر کے مارے مسجد میں اس لیے نماز بھی پڑھنے نہیں جاتا کہ مجھے کوئی مار ہی نہ دے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران لاہور ہائی کورٹ سمیت ملک کی اعلی عدالتوں نے توہین مذہب کے مقدمے میں دو درجن سے زیادہ افراد کو ان مقدمات سے بری کیا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارے مقدمات نیشنل سائبر کرائم ایجنسی این سی سی آئی اے نے درج کیے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے گذشتہ برس توہین مذہب کے مقدمات کے حوالے سے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کیا ہے۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک 12 افراد کی ضمانتیں ہوئی ہیں یا انھیں ہائی کورٹس سے بری کیا گیا ہے جبکہ 50 کے قریب ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستیں ٹرائل کورٹ سے مسترد ہو گئی ہیں۔

اس ضمن میں 200 سے زیادہ ملزمان کے خلاف درج ہونے والے مقدمات ٹرائل کورٹس میں مختلف مراحل میں ہیں۔

اڈیالہ جیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنارشد نے کہا کہ جس وقت ان کی رہائی کا عمل شروع ہوا تو انھیں اس وقت جیل سے باہر نکالا گیا جب جیل میں حوالاتیوں کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا تھا اور جیل کے باہر لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔

’رہائی کی خبر کو مذاق سمجھا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ارشد محمود نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی سے گفتگو کی اور اس وقت کو یاد کیا کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب سکیورٹی پر تعینات جیل اہلکار نے آ کر انھیں بتایا کہ اپیل منظور کر لی گئی ہے اور وہ جلد ہی بری ہو جائیں گے تو انھوں نے اس کو ’مذاق سمجھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘ کیونکہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی سائیڈ پر ’اتنے زیادہ وکلا ہوتے تھے‘ جبکہ ان کی جانب سے ایک وکیل ہی ہوتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پھر ذہن میں خیال آیا کہ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ جس وقت ان کی رہائی کا عمل شروع ہوا تو انھیں اس وقت جیل سے باہر نکالا گیا جب جیل میں حوالاتیوں کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا تھا اور جیل کے باہر لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔

انھوں نے کہا کہ رہائی کے بعد نہ تو وہ وہاں گئے جہاں وہ گرفتاری سے پہلے رہتے تھے اور نہ ہی اپنے آبائی شہر کا رخ کیا۔

ارشد محمود کا کہنا تھا کہ رہائی کے بعد پہلے تو کچھ ہفتے انھوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاں قیام کیا اور پھر اب وہ اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ ایک ایسے علاقے میں مکان کرائے پر لے کر رہ رہے ہیں جہاں پر لوگ انھیں نہیں جانتے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ جس علاقے میں اب رہ رہے ہیں، وہاں پر لوگوں کو اس مقدمے کے بارے میں معلوم نہیں لیکن اس کے باوجود ’عجیب سا خوف ہے‘۔ ان کی مالی حالت بھی اتنی اچھی نہیں اور وہ گھر سے کم ہی باہر نکلتے ہیں۔

ارشد محمود کا کہنا تھا کہ وہ رکشہ چلا کر اپنی روزی کما سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حافظ قرآن ہیں اور بچوں کو قران کی تعلیم دے کر اپنا گزارا کر سکتے ہیں لیکن وہ ابھی گھر سے باہر اس لیے نہیں نکلتے کہ ’کوئی پہچان نہ لے۔‘

ارشد محمود کا کہنا تھا کہ اب تو وہ مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز بھی پڑھتا اور رہائی کے بعد بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجھے کسی وقت بھی مار دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جب ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جاتا تھا تو وکلا اتنی زیادہ تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود ہوتے تھے کہ انھیں خوف محسوس ہونے لگتا تھا کہ جیسے ابھی کوئی شخص ان کی طرف بڑھے گا اور انھیں گولی مار دے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے سمارٹ فون استعمال کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اب ان کے زیرِ استعمال ایک بٹنوں والا معمولی فون ہے۔

لاہور ہائیکورٹ

،تصویر کا ذریعہLHC

،تصویر کا کیپشنلاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے میں گواہان کے بیانات میں موجود تضاد کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ذکر تھا کہ نچلی عدالت نے ’جوڈیشل مائنڈ استعمال نہیں کیا‘

قید میں گزرا مشکل وقت

جب ان سے پوچھا گیا کہ جیل میں ان کا وقت کیسے گزرا؟ تو ارشد محمود کا کہنا تھا کہ جب انھیں توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ایف آئی اے والے انھیں کیوں گرفتار کرکے لے کر جا رہے ہیں؟

ارشد محمود نے کہا کہ 24 گھنٹے گزرنے کے بعد انھیں بتایا گیا کہ انھیں توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے گھر والوں کو بھی گرفتاری کے تین روز کے بعد اس بارے میں معلوم ہوا۔

ارشد محمود کا کہنا تھا کہ جب جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد انھیں اڈیالہ جیل بھیجا گیا اور ٹرائل کورٹ میں یہ مقدمہ چل رہا تھا تو انھیں اور اسی نوعیت کے ایک اور مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیشی کے لیے راولپنڈی کچہری لایا جاتا تھا۔

تو ان دونوں کو بخشی خانہ (جہاں ملزمان کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے) دیگر ملزمان کے ساتھ نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ انھیں ایک الگ سے کمرے میں بیٹھایا جاتا تھا جو کہ سکیورٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے لیے بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی سکیورٹی کے لیے الگ سے پولیس اہلکار تعینات ہوتے تھے۔

ارشد محمود کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ان کا تعلق پشاور سے ہے جبکہ وہ روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔

انھوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے اندر بھی ان افراد کے لیے الگ سے سیل بنایا گیا جن کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں جبکہ اس مقدمے میں اگر کسی کو سزائے موت بھی سنائی جاتی ہے تو ان کے ڈیتھ سیل بھی قتل یا سنگین جرائم میں موت کی سزا پانے والے مجرمان سے الگ ہیں۔

ارشد محمود کا کہنا تھا کہ جیل میں حراست کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام نے انھیں بتایا تھا کہ ان کے سیل کے باہر جن پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ان کی تعیناتی سے پہلے ان کے مذہبی رجحان کو چیک کیا گیا اور اس کے بعد ان کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ جس پر توہین مذہب کا الزام لگ جائے تو وہ لوگوں کی نظر میں پوری عمر مجرم ہی گردانا جاتا ہے۔‘

BBC/LOKESH SHARMA

،تصویر کا ذریعہBBC/LOKESH SHARMA

،تصویر کا کیپشنسیف الملوک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے ملزم تو ایک طرف، لوگ ’ان وکلا سے بھی شدید نفرت کرتے ہیں جو توہین مذہب کے مقدمات میں ملزمان کی طرف سے پیش ہوتے ہیں‘

’معاشرہ ان لوگوں کو معاف کرنے کو تیار نہیں‘

توہین مذہب کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل سیف الملوک کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات سے رہائی کے باوجود بھی لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ’معاشرہ ہی اس شخص کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہے جس پر توہین مذہب کا الزام لگا ہو، چاہے عدالت نے انھیں بے گناہ ہی کیوں نہ قرار دیا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے افراد اپنی جان بچانے کے لیے کچھ عرصے کے بعد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ انھیں ہر وقت یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ انھیں مار دیا جائے گا۔

سیف الملوک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے ملزم تو ایک طرف، لوگ ’ان وکلا سے بھی شدید نفرت کرتے ہیں جو توہین مذہب کے مقدمات میں ملزمان کی طرف سے پیش ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ذاتی حیثیت میں متعدد بار عام لوگوں کے علاوہ کچھ وکلا کی جانب سے بھی تعصبانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اسحاق خان نے توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے درخواستوں کی لائیو سماعت کی تھی تو اس کے بعد عوام کو اس ’گینگ کے بارے میں آگہی حاصل ہوئی تھی جو مختلف لوگوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنساتا ہے۔‘

سیف الملوک کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کے مقدمات کی چھان بین کے لیے کمیشن کی تشکیل سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جسٹس سردار اسحاق کے فیصلے کو معطل تو کر دیا تھا۔ لیکن پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس دو رکنی بینچ کا تحریری حکمنامہ نہیں آیا کہ کن وجوہات کی بنا پر سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کیا گیا ہے۔

اکتوبر 2024 کے دوران توہین مذہب کے مقدمات میں مبینہ طور پر پھنسائے جانے والے متاثرین کے خاندانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناکتوبر 2024 کے دوران توہین مذہب کے مقدمات میں مبینہ طور پر پھنسائے جانے والے متاثرین کے خاندانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا

’نوجوانوں کو پھنسانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے‘

زیر حراست ملزمان میں سے ایک ملزم کے والد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا انجینیئرنگ کا طالب علم تھا اور اس نے ’مخدومہ‘ کے نام سے بنائے گئے واٹس ایپ کے ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’کچھ عرصے تو میرا بیٹا اس گروپ میں شامل رہا اور پھر آہستہ آہستہ لوگ اس گروپ سے الگ ہوتے گئے اور بیٹے کو اس واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن بنا دیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دوران اس گروپ میں ایسا مواد شیئر کیا گیا جو توہین مذہب کے دائرے میں آتا ہے جس کے بعد اس مواد کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد اسے وہ مواد دوبارہ شیئر کرنے کے لیے کہا گیا۔ ان کے بیٹے نے ایسا ہی کیا اور مواد اس شخص کو بھجوا دیا جو کہ اس گروپ کا ممبر تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کا ایک واٹس ایپ گروپ راولپنڈی اور اسلام آ باد میں بھی تھا اور اس واٹس ایپ گروپ کا نام ’ایمان‘ رکھا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کو ٹریپ کرنے کے لیے مختلف شہروں میں گروپ متحرک ہیں اور اس گروپ میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔‘

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اسحاق خان نے جب توہین مذہب کے مقدمات کی چھان بین سے متعلق کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کی تھی تو اس وقت عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اس وقت ساڑھے چار سو افراد ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں۔

پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار کے مطابق توہین مذہب کے مقدمات میں مجموعی طور پر 450 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں لڑکوں کے علاوہ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ کچھ لڑکیاں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں جبکہ لڑکوں کو کیمپ جیل لاہور میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اڈیالہ جیل اور فیصل آباد جیل میں بھی توہین مذہب کے مقدمات کے ملزمان قید ہیں۔

450 افراد میں سے 110 افراد کو یا تو ضمانتوں پر رہا کیا گیا ہے یا انھیں ان مقدمات سے بری کیا گیا ہے۔ اب بھی 340 ملزمان مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

زیادہ تر افراد جنھیں توہین مذہب کے مقدمات میں مبینہ طور پر پھنسایا گیا ہے، ان کا تعلق اسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی، لاہور اور کراچی سے ہے۔ ان مقدمات میں زیرِ حراست کئی ملزمان کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان ہیں جبکہ ان میں سے زیادہ تر طالب علم ہیں۔