گاندھی کی لےپالک دلت بیٹی کی کہانی جس کی مخالفت ان کی بیوی نے بھی کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images/HITESH DAFDA
- مصنف, جے شکلا
- عہدہ, بی بی سی، گجراتی
انڈیا کے بانی رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کے چار بیٹے تھے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی ایک لےپالک بیٹی بھی تھی۔
یہ بیٹی کون تھی؟ اور گاندھی کی اہلیہ کستوربا سمیت بہت سے لوگوں نے ان کی مخالفت کیوں کی؟ گاندھی نے اس مخالفت سے کیسے نمٹا؟ اس مخالفت کے بعد ان کی بیوی کستوربا اس بیٹی کو گود لینے کے لیے کیسے مان گئیں؟
یہ تمام معلومات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی گجراتی نے گاندھیائی ادب کا مطالعہ کیا اور اس لےپالک بیٹی کے خاندان کے افراد سے بات کی۔
موہن داس گاندھی نو جنوری 1915 کو جنوبی افریقہ سے ہندوستان واپس آئے۔ جب انھوں نے بمبئی میں قدم رکھا تو قومی ہیرو کی طرح ان کا استقبال کیا گیا۔ ان کے ذہن میں ہندوستان میں ’ٹالسٹائی‘ اور ’فینکس‘ جیسا ادارہ یا آشرم قائم کرنے کا خیال تھا۔
25 مئی 1915 کو گاندھی نے احمد آباد میں ستیہ گرہ آشرم قائم کیا۔ اسے آج کوچراب آشرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جن لوگوں نے گاندھی کو احمد آباد میں آباد کرنے میں مدد کی ان میں سے ایک جیون لال بیرسٹر تھے۔ گاندھی نے آشرم کے لیے کوچراب میں اپنا مکان کرایہ پر لینے کا فیصلہ کیا۔
گاندھی نے اپنی سوانح عمری ’ایکسپیریمنٹ آف ٹوتھ‘ میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت آشرم میں 13 تامل تھے۔ پانچ تامل بچے ان کے ساتھ جنوبی افریقہ سے آئے تھے۔ آشرم تقریباً 25 دیگر مردوں اور عورتوں کے ساتھ شروع ہوا۔
گاندھی لکھتے ہیں، ’سب ایک ہی باورچی خانے میں کھاتے تھے اور آپس میں ایسے رہتے تھے جیسے وہ ایک ہی خاندان ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم آشرم کے کھلنے کے چند ماہ بعد گاندھی کا سخت امتحان شروع ہوا۔
گاندھی آشرم میں ایک دلت یا اُس وقت ’اچھوت‘ کہلانے والے خاندان کو آباد کرکے ایک مثال قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اچھوت خاندانوں کی تلاش کی جو آشرم میں رہنے کے لیے تیار تھے۔
دلت بیٹی لکشمی خاندان کے ساتھ آشرم میں داخل ہوئی

،تصویر کا ذریعہBHIKHUBHAI DAFDA
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گاندھی کو امرت لال ٹھاکر (ٹھاکر باپا) کی طرف سے ایک خط موصول ہوا، جنھوں نے گاندھی کے نظریات پر قائم رہتے ہوئے، قبائلی برادریوں میں تعلیم اور بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کیا۔
اس میں انھوں نے لکھا، ’ایک غریب اور ایماندار انتیاجا (دلت) خاندان ہے، وہ آپ کے آشرم میں آکر رہنا چاہتے ہیں، کیا آپ انھیں لے جائیں گے؟‘
گاندھی اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں، ’مجھے واقعی توقع نہیں تھی کہ ایک خاندان، جو ٹھاکر باپا جیسی سفارش لے کر آیا تھا، اتنی جلدی آئے گا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا۔ اگر وہ خاندان آشرم کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، تو میں نے امرت لال ٹھاکر کو ان کو قبول کرنے کے لیے اپنی رضا مندی سے آگاہ کیا۔‘
چھ ستمبر 1915 کو ایک خط آیا جس میں آشرم میں شامل ہونے اور تمام اصولوں پر عمل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔
آخر کار 11 ستمبر 1915 کو، دودھ بھائی، ان کی بیوی دانی بین اور بچی لکشمی وہاں آ گئے اور 26 ستمبر سے آشرم میں رہنے آئے۔
دودھ بھائی اصل میں موجودہ امریلی ضلع کے دیوراجیہ گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ بوٹاڈ میں ایک سکول چلاتے تھے اور بعد میں ممبئی کے ایک پرائمری سکول میں بطور استاد کام کیا۔ لیکن ان کے آتے ہی آشرم میں بدامنی شروع ہو گئی۔
گاندھی لکھتے ہیں، ’دوستوں کے حمایتی حلقے میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ کنویں میں بنگلے کے مالک کا بھی حصہ تھا، اس کی وجہ سے پانی بھرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اگر اس پر ہمارے پانی کا چھینٹا پڑ جاتا تو وہ ناراض ہو جاتا۔ اس نے دودھ بھائی کو گالیاں دیں اور ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ میں نے سب کو کہا تھا کہ گالیاں برداشت کرو اور مضبوطی سے پانی بھرتے رہو۔‘
تاہم بعد میں مالک مکان نے گالی گلوچ کرنا چھوڑ دیا۔ لیکن پھر آشرم میں ایک اور مصیبت کھڑی ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہHITESH DAFDA
آشرم کی مالی امداد بند ہو گئی۔ گاندھی نے لکھا، ’آشرم کے اصولوں پر عمل کرنے والے انتیاجوں کے داخلے کے بارے میں جس بھائی کو شروع سے شک تھا، اسے انتیاج کے آشرم میں داخل ہونے کی بالکل بھی امید نہیں تھی، مالی امداد بند ہو گئی، بائیکاٹ کی افواہیں میرے کانوں تک پہنچنے لگیں۔‘
’میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر ہمارا بائیکاٹ کیا جائے اور ان کا کوئی سہارا نہ بچا تو ہم کچھ کام کرکے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔‘
مالی امداد بند ہونے کے بعد گاندھی کے بھتیجے مگن لال گاندھی، جو آشرم کے انتظام، اخراجات اور مالی معاملات کی نگرانی کر رہے تھے، نے گاندھی کو نوٹس دیا: ’ہمارے پاس اگلے مہینے آشرم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘
مگن لال گاندھی خوشحال چند کے بیٹے تھے جو گاندھی کے چچا جیون چند کے بیٹے تھے۔ مگن لال بھی گاندھی کی طرح جنوبی افریقہ گئے اور وہاں اپنا کیریئر بنانے کے بجائے، رضاکارانہ طور پر گاندھی کے عہد پر عمل کرتے ہوئے وہ جنوبی افریقہ میں گاندھی کے آشرم میں شامل ہو گئے۔
مگن لال گاندھی کے نوٹس کے جواب میں گاندھی نے لکھا، ’تو ہم آخری حد تک جائیں گے۔‘
گاندھی لکھتے ہیں، ’یہ پہلا موقع نہیں تھا جب مجھ پر اتنی مشکل آئی ہو۔ ہر بار شاملہ نے آخری وقت میں مدد بھیجی تھی۔‘
مگن لال کے نوٹس دینے کے فوراً بعد، ایک صبح ایک بچے نے گاندھی کو اطلاع دی کہ ’آشرم کے باہر ایک موٹر کار کھڑی ہے، ایک شیخ آپ کو بلا رہے ہیں، میں شیخ کے پاس پہنچا، شیخ نے مجھ سے پوچھا کہ میں آشرم کی مدد کرنا چاہتا ہوں، کیا آپ اسے قبول کریں گے؟ میں نے جواب دیا کہ میں اسے ضرور قبول کروں گا۔‘
’انھوں نے کہا کہ وہ اگلے دن ملیں گے۔‘
اگلے دن وہ شیخ آیا اور گاندھی کو 13 ہزار روپے کے نوٹ دیے۔
کستوربا کی مخالفت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ لوگوں کو آشرم میں دلت خاندان کی موجودگی پسند نہیں آئی۔ ان لوگوں میں گاندھی کی اپنی بیوی کستوربا بھی تھیں۔
لکشمی بین کے بھائی موہن بھائی دفڈا کے بیٹے اور بھتیجے بھیکھو بھائی دفڈا نے بی بی سی گجراتی کو بتایا، ’کستوربا ناراض تھیں، اس لیے میرے دادا دودھ بھائی نے گاندھی کے سامنے آشرم چھوڑنے کے لیے آمادگی ظاہر کی لیکن گاندھی جی اڑے رہے، انھوں نے سب کو خاموشی سے یہ سب برداشت کرنے کا مشورہ دیا۔‘
گاندھی اکشردے میں لکھتے ہیں، ’جس دن دودھ بھائی آشرم میں آئے، سنتوک مگن لال گاندھی جنھوں نے جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ میں بھی حصہ لیا تھا، نے ایک ورت رکھا۔ ایک بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا۔‘
’سنتوک نے کچھ نہیں کھایا، اس لیے میں نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ کستوربا کو بھی یہ پسند نہیں آیا اور مسلسل احتجاج کرتی رہیں۔ دوسری بہنوں نے بھی احتجاج کیا۔‘
گاندھی جی نے کستوربا سے کہا، ’آپ مجھے چھوڑ سکتی ہیں اور ہمیں اچھے دوست بن کر الگ ہونا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہHITESH DAFDA
سنتوک اور مگن لال 24 ستمبر کو آشرم سے چلے گئے۔ تاہم وہ 3 اکتوبر کو واپس آئے۔ احتجاج کے باوجود کستوربا نے انھیں نہیں چھوڑا۔
گاندھی نے آشرم کے مکینوں کی مخالفت کا مقابلہ کرنے کے لیے ورت کا ہتھیار اٹھایا۔
گاندھی ہمیشہ کستوربا کو سمجھاتے لیکن وہ تھک جاتیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے، لیکن گاندھی ثابت قدم تھے۔
اس وقت گاندھی کی بڑی بہن بھی آشرم میں رہ رہی تھیں۔ وہ چھوٹی عمر میں بیوہ ہو گئی تھی۔ انھیں یہ بات بھی پسند نہیں آئی کہ دودھ بھائی کا خاندان آشرم میں رہنے آئے۔
سب سے پہلے انھوں نے علیحدہ کھانا پکانے کا مطالبہ کیا لیکن گاندھی نے اسے مسترد کر دیا۔ وہ بھی احتجاجاً آشرم سے نکل گئیں۔
وہ راجکوٹ گئیں اور گاندھی نے ان کی دیکھ بھال کا انتظام کیا۔
گاندھی نے کستوربا سے یہ بھی کہا کہ آپ بھی بہن کی طرح راجکوٹ جا سکتی ہیں۔ لیکن کستوربا نے کہا، ’ایسا کرنے سے آپ کو زندگی بھر مجھ سے الگ رہنا پڑے گا۔ میں آپ سے جدا نہیں ہوں گی۔‘
آخر کار وہ مان گئیں۔ بعد میں، وہ لکشمی کے بالوں میں کنگھی کرتیں اور اسے نہلا کر تیار کرتی۔ انھوں نے اپنی ابتدائی ناراضگی کا ازالہ لکشمی سے محبت کر کے ادا کیا۔
گاندھی نے لکشمی کو گود لے لیا

،تصویر کا ذریعہROLI BOOKS
آخر کار مخالفت پر قابو پانے کے لیے گاندھی نے لکشمی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
گاندھی نے 5 اکتوبر 1920 کو لکشمی کو گود لیا تھا۔ اس وقت لکشمی کی عمر تقریباً چھ سال تھی۔ لکشمی اگلے 14 سال تک گاندھی کے ساتھ رہیں۔
جب وہ بڑی ہو گئیں تو گاندھی نے لکشمی کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے انھوں نے ماروتی شرما کا انتخاب کیا جو کہ اصل میں مدراس کا رہنے والا ایک تامل برہمن تھا اور جس نے آشرم میں کام کیا تھا۔
ماروتی شرما نے ایک فیکٹری میں تکنیکی ماہر (ٹیکنیشن) کے طور پر کام کیا جو ریٹینا کے لیے کام کرتی تھی۔
بھیکھو بھائی دفڈا کے بیٹے ہتیش بھائی دفڈا نے بی بی سی گجراتی کو بتایا، ’گاندھی اس شادی کے وقت یرواڈا جیل میں تھے۔ اس لیے ان کی شادی ان کی غیر موجودگی میں گاندھی آشرم کے سامنے والے لال بنگلے میں ہوئی۔ ان کا جہیز مشہور موسیقار نارائن کھرے نے دیا تھا۔‘
اس سے پہلے لکشمی کی شادی اس لیے نہیں ہوئی تھی کیونکہ گاندھی جیل میں تھے اور لکشمی نے خود شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ گاندھی جی موجود نہ ہوں۔ لیکن اس بار گاندھی جی کی عدم موجودگی کے باوجود لکشمی نے شادی پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹے کا نام ہری بھائی شرما اور بیٹی کا نام کلپنا بین رکھا گیا۔ ہری بھائی شرما کی شادی رسیلا بین سے ہوئی تھی اور ان کی ایک بیٹی ہے، جس کا نام سنیہ ہے۔
ماروتی شرما کی وفات 1946 میں ہوئی۔ لکشمی بین 32 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں لیکن خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گاندھی جی کے نام پر کوئی سہولت نہیں مانگی۔
ہتیش شرما کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک مل میں کام کرتی تھیں اور بعد میں انھوں نے ہسپتال میں لوگوں کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
ان کے خاندان کے مطابق اپنے شوہر ماروتی شرما کی وفات کے بعد، لکشمی نے اپنی روزی روٹی کے لیے احمد آباد کی ایک مل میں کام کرنا شروع کیا۔ ایک دن، وہ سیڑھیوں سے پھسل گئیں اور سخت کام کرنا چھوڑ دیا۔
لکشمی بین کے بیٹے ہری بھائی شرما گجرات کھادی بورڈ میں سٹینو گرافر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
گاندھی کو بھی ہری بھائی سے بہت پیار تھا۔ گاندھی بچپن میں ہری بھائی کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ جب تک گاندھی زندہ رہے وہ ہر سال لکشمی کو اپنے ساتھ (گھاٹ میں) رہنے کی دعوت دیتے۔ گاندھی نے کستوربا کی موت کے بعد بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔
گاندھی ہمیشہ لکشمی بین کو خط لکھنے کو کہتے تھے۔
گاندھی کے قتل ہونے پر انھیں شدید صدمہ پہنچا۔ ان کے پاس دہلی جانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس لیے وہ چوتھے دن دہلی پہنچیں۔
لکشمی بین شرما کے بیٹے ہری بھائی شرما کی وفات ہو گئی ہےلیکن ہری بھائی شرما کی بیوی رسیلا بین ابھی تک زندہ ہیں۔
بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے رسیلا بین شرما نے کہا، ’انھیں سادگی پسند تھی۔ وہ گاندھی جی کے نظریات کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔‘
’میں نے 1978 میں شادی کی اور 1984 میں ان کی وفات ہوئی۔ ہم نے ایک ساتھ کم وقت گزارا، کیونکہ انھوں نے گاندھی آشرم میں قیام کیا۔‘
وہ گاندھی خاندان کے کچھ افراد کی طرح لائم لائٹ میں کیوں نہیں رہیں یا سیاست میں کیوں نہیں آئیں؟
اس سوال کے جواب میں رسیلا بین کہتی ہیں، ’وہ سیاست سے بہت دور تھیں۔ انھیں سختی پسند نہیں تھی۔ وہ گاندھی جی کی طرح سادہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ وہ لوگوں کی خدمت کرنے اور گاندھی کی سوچ کے پرچار میں یقین رکھتی تھیں۔ ان کی طبیعت بہت سادہ تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہHITESH DAFADA
ان کی وفات 31 جنوری 1984 کو ہوئی۔ جب ان کی وفات ہوئی تو وہ اپنی آخری خواہش کے مطابق گاندھی آشرم میں مقیم تھیں۔
لکشمی بین کی دوسری بہن چندریکا بین کے بیٹے نریندر بھائی گوہل نے بی بی سی گجراتی کے ساتھ بات چیت میں کہا، ’وہ آخر تک گاندھی آشرم میں ہونے والی دعاؤں میں حصہ لیتی تھیں۔ وہ بھجن گاتیں اور آشرم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں۔ انھوں نے کبھی گاندھی جی کے نام کو داغدار کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘
’ان کا بچپن بھی آشرم میں گزرا اور ان کے آخری ایام بھی آشرم میں ہی گزرے۔‘
نریندر بھائی گوہل کہتے ہیں، ’انھیں حکومت سے پنشن مل رہی تھی۔ وہ تنہا اسی پر گزارہ کرتی تھیں۔ انھیں کسی اور سے مدد کی امید نہیں تھی۔‘
بھیکھو بھائی دفدا کہتے ہیں، ’گاندھی کے بڑے خاندان سے ہمارا رابطہ کم سے کم ہو گیا تھا۔ ایک بار جب انھوں نے گاندھی کا شجرہ نامہ بنایا تو لکشمی بین کا نام تھا، لیکن اس کے علاوہ کسی بھی قسم کا رابطہ تقریباً بند ہو گیا۔ ہمیں کوئی توقع بھی نہیں تھی۔‘












