اندرا گاندھی کو ’بدصورت اور احمق‘ کہنے والی پھوپھی وجے لکشمی پنڈت جن کی ان سے کبھی بنی ہی نہیں

 اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت اور اندرا گاندھی نوعمری میں
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

انڈیا کی سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی اور ان کی پھوپھی وجے لکشمی پنڈت کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ تھے جب اندرا ایک چھوٹی بچی تھیں اور اس کی وجہ اندرا کی والدہ کملا نہرو تھیں۔

نہرو کی چھوٹی بہن وجے لکشمی کے گھر کا نام ’نان‘ تھا اور وہ اندرا کی والدہ کملا نہرو سے ایک سال چھوٹی تھیں۔

مشہور مصنفہ کیتھرین فرینک نے اندرا گاندھی کی سوانح عمری ’دی لائف آف اندرا گاندھی‘ لکھی جس کے مطابق وجے لکشمی اپنے بھائی جواہر لال نہرو سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن چونکہ ان کی شادی 1916 میں ہوئی تھی اس لیے ’وہ اپنی بھابھی کملا کو پسند نہیں کرتی تھیں۔

’نہ صرف وجے لکشمی بلکہ کملا نہرو کی ساس سوروپ رانی کا بھی ماننا تھا کہ کملا ان کے بیٹے جواہر کے لائق نہیں ہیں۔‘

اندرا گاندھی پر کیتھرین فرینک کی سوانح عمری

،تصویر کا ذریعہHarper Collins

،تصویر کا کیپشناندرا گاندھی پر کیتھرین فرینک کی سوانح عمری

کیتھرین فرینک لکھتی ہیں کہ ’کملا کو خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ انگریزی فلمیں دیکھنے کے لیے نہیں بلایا جاتا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ کملا کی انگریزی بہت کمزور تھی۔

’حالات خراب ہونے لگے جب جواہر کو جیلوں میں طویل عرصے تک گھر سے دور رہنا پڑا۔ اسی دوران کملا کی صحت بھی تیزی سے خراب ہونے لگی۔‘

اس مشہور سوانح عمری میں کیتھرین فرینک خاندان کے قریبی لوگوں سے بات کرنے اور ان کی خط و کتابت کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ ’نہرو خاندان کی خواتین، سوروپ رانی، نان اور کملا، نہرو کے وقت اور پیار کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں رہتی تھیں۔‘

بچپن سے اندرا نے خود دیکھا تھا کہ ان کے والد زندگی کی ہلچل میں اتنے مصروف تھے کہ انھیں اپنی ماں، بہن اور بیوی کے کشیدہ تعلقات کا بھی علم نہیں تھا۔

اندرا پر وجے لکشمی کے تبصرے

اندرا گاندھی بچپن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ وجے لکشمی نے اندرا گاندھی کو بدصورت اور احمق کہا تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وجے لکشمی اپنے بڑے بھائی جواہر سے بہت پیار کرتی تھیں۔ دونوں کے ایک جیسے شوق تھے۔ دونوں ایک ساتھ گُھڑ سواری کرتے، ایک دوسرے کو نظمیں سناتے اور ایک ساتھ دعوتوں میں بھی شریک ہوتے۔

پپل جیاکر اندرا گاندھی کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں ’اچانک وجے لکشمی کو معلوم ہوا کہ ایک نوجوان لڑکی نے ان کے بھائی کے ساتھ ان کی جگہ لے لی ہے۔ کملا وجے لکشمی کے لیے خاندان سے باہر کی عورت تھیں۔ ان کی نظر میں کملا کے پاس نہ تو ’شرافت‘ تھی اور نہ ہی نہرو خاندان کے گھرانے کی سربراہ بننے کی صلاحیت۔ انھیں نہ تو مہنگے کپڑوں میں دلچسپی تھی اور نہ ہی زیورات میں۔‘

اندرا گاندھی کو اپنی دادی اور پھوپھی کا اپنی ماں کے ساتھ برتاؤ کبھی پسند نہیں آیا۔ یہی نہیں، کہا جاتا ہے کہ وجے لکشمی نے اندرا گاندھی کو ’بدصورت اور احمق‘ کہا۔ یہ بات ایک سے زیادہ بار کہی گئی اور اندرا نے خود اپنے کانوں سے سنا۔

اندرا گاندھی کے قریبی دوست پپل جیاکر اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ’اندرا، جو اپنی عمر سے زیادہ لمبی نظر آتی تھیں، بہت پتلی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بہت سانولی ہیں۔ پھوپھی کے کہے گئے الفاظ نے انھں بہت تکلیف دی تھی۔ نان پنڈت کے اس تبصرے کے بعد وہ اچانک ایک بہت سنجیدہ اور موڈی بن گئیں۔ پھوپھی کی باتیں 50 سال بعد بھی ان کی یادوں میں تازہ تھیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ان الفاظ سے نہ صرف انھیں بہت تکلیف ہوئی بلکہ ان کی خود اعتمادی کو بھی ٹھیس پہنچی۔ وہ خاموشی اور تنہائی پسند ہو گئیں اور لوگوں سے دور رہنے لگیں۔‘

فیروز اور اندرا

،تصویر کا ذریعہNEHRU MEMORIAL LIBRARY

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت نے فیروز کے ساتھ اندرا کی شادی کی مخالفت کی تھی

فیروز سے نکاح کے معاملے پر پھوپھی اور بھانجی میں اختلاف

اندرا اور وجے لکشمی کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اندرا نے فیروز گاندھی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ نہرو کے بعد جب اندرا نے اپنے ارادے اپنی پھوپھیوں کو بتائے تو انھیں یہ پسند نہیں آیا۔

دوسری پھوپھی کرشنا نے کہا کہ ’وہ مزید انتظار کریں اور دوسرے لڑکوں سے بھی ملیں۔ انھیں اپنے پس منظر کے شخص سے شادی کرنی چاہیے۔‘

اس پر اندرا نے اچانک ان سے سوال کیا، ’کیوں؟ میں فیروز کو برسوں سے جانتی ہوں، پھر میں کیوں انتظار کروں اور دوسرے لڑکوں سے کیوں ملوں؟‘

جب اندرا گاندھی نے یہ بات وجے لکشمی کو بتائی تو انھوں نے اندرا کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’فیروز سے شادی کرنے کے بجائے صرف رومانوی رشتہ قائم کرنا بہتر ہو گا۔‘

اندرا کو یہ بات بہت بری لگی اور انھوں نے اسے اپنی اور فیروز کی توہین سمجھا۔ اس واقعے سے الہ آباد کے آنند بھون میں رہنے والی خواتین کی زندگی مزید تناؤ کا شکار ہو گئی۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہJuggernaut

اندرا کو سرکاری پروگراموں سے دور رکھا گیا

آزادی سے کچھ عرصہ قبل وجے لکشمی پنڈت کو عبوری ہندوستانی حکومت نے سوویت یونین میں ہندوستان کا سفیر مقرر کیا تھا۔ جب وہ دہلی واپس آئیں تو اپنے ساتھ فر کوٹ لے آئی۔

اندرا گاندھی نے سخت الفاظ میں اس کی تنقید کی۔ تاہم، یہ کوٹ سوویت حکومت نے وجے لکشمی کو تحفے میں دیا تھا۔

اندرا نے وجے لکشمی پنڈت کی بیٹیوں چندرلیکھا اور نینتھارا کو امریکی سکولوں میں پڑھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا خاص طور پر ایسے وقت میں جب نہرو خاندان کے بہت سے افراد آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور جیل میں تھے۔

سنہ 1949 میں وجے لکشمی پنڈت کو امریکہ میں انڈیا کا سفیر بنایا گیا۔ جب نہرو امریکہ گئے تو انھوں نے ہی نہرو کے لیے مختلف تقاریب میں شرکت کا پروگرام طے کیا۔

ساگاریکا گھوش اپنی کتاب ’انڈیا کی سب سے طاقتور وزیر اعظم‘ میں لکھتی ہیں کہ ’یہاں بھی پھوپھی اور بھانجی کے درمیان پرانی دشمنی کھل کر سامنے آئی، انھوں نے اندرا گاندھی کو جان بوجھ کر جواہر لعل نہرو کے تمام رسمی کاموں سے دور رکھا، جس پر اندرا سخت ناراض تھیں۔ انھوں نے ان کو پرنسٹن تک نہیں جانے دیا جہاں نہرو نے عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن سے ملاقات کی۔‘

اندرا گاندھی کی وہاں تنہائی دیکھ کر عظیم ایٹمی سائنسدان ہومی بھابھا انھیں کئی بار کھانے کے لیے ریستوران لے گئے۔

وجے لکشمی پنڈت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت کی سوانح عمری میں اس بات کا ذکر ہے کہ انھوں نے اپنے بھائی کو لکھے خطوط میں وجے لکشمی ہمیشہ اندرا کے بارے میں پوچھتی تھیں

راجیو گاندھی کے داخلے میں مدد

ایسا نہیں تھا کہ وجے لکشمی اور اندرا کے درمیان سب کچھ خراب ہو رہا تھا۔ وجے لکشمی پنڈت کی حال ہی میں شائع ہونے والی سوانح عمری میں، منو بھگوان لکھتے ہیں کہ ’اپنے بھائی کو لکھے گئے خطوط میں وجے لکشمی نے ہمیشہ اندرا کے بارے میں پوچھا۔ جب وہ برطانیہ میں انڈیا کی ہائی کمشنر بنیں تو انھوں نے اندرا کے بڑے بیٹے راجیو گاندھی کی کیمبرج یونیورسٹی کے داخلے کے امتحان میں شرکت کرنے میں مدد کی۔‘

وجے لکشمی راجیو گاندھی سے بہت پیار کرتی تھیں۔ اندرا نے ایک خط بھی لکھا جس میں راجیو کا خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

نہرو کی موت کے بعد، شاستری کی کابینہ میں شامل ہونے کے لیے اندرا کے لیے پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کی رکن بننا ضروری تھا۔

کیتھرین فرینک لکھتی ہیں کہ ’اندرا کے لیے پھول پور سے الیکشن لڑنا فطری تھا، وہی پارلیمانی حلقہ جہاں سے ان کے والد ایم پی تھے، لیکن وجے لکشمی پنڈت وہاں سے الیکشن لڑنا چاہتی تھیں۔

’حالانکہ انھوں نے اپنی بھتیجی پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ان کے لیے یہ سیٹ چھوڑ سکتی ہیں لیکن اندرا اس وقت لوک سبھا کا ضمنی انتخاب نہیں لڑنا چاہتی تھیں اس لیے انھوں نے راجیہ سبھا کے ذریعے پارلیمنٹ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔‘

جواہر لال نہرو کی بہن کرشنا کی کتاب ’ہم نہرؤ‘

،تصویر کا ذریعہ Holt, Rinehart and Winston

،تصویر کا کیپشنجواہر لال نہرو کی بہن کرشنا کی کتاب ’ہم نہرؤ‘

نہرو کی میراث کا سوال

سنہ 1966 میں جب لال بہادر شاستری کی وفات ہوئی تو ایک لمحے کے لیے وجے لکشمی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنا دعویٰ پیش کرنے کا موقع ملا۔

ان کی بہن کرشنا اپنی کتاب ’ہم نہرو‘ میں لکھتی ہیں کہ ’میری بہن وجے لکشمی اس وقت امریکہ میں لیکچر کے دورے پر تھیں۔ انھوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا اور فوراً انڈیا واپس آ گئیں۔ وہ سوویت یونین اور امریکہ میں انڈیا کی سفیر اور برطانیہ میں ہائی کمشنر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد انڈیا میں ایک مشہور شخصیت بن گئیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس وزیر اعظم بننے کا اچھا موقع ہے لیکن کامراج نے ان کے نام پر بھی غور نہیں کیا۔‘

وہ بھلے ہی بیرون ملک مشہور ہو لیکن انھوں نے اپنا وقت انڈیا سے دور گزارا۔ کامراج نے اس عہدے کے لیے اندرا گاندھی کو ترجیح دی۔

اوشا بھگت کی کتاب اندرا جی

،تصویر کا ذریعہPenguin Viking

،تصویر کا کیپشناوشا بھگت کی کتاب اندرا جی

اندرا کی قابلیت پر شک

اندرا گاندھی کو بھی وہ الفاظ پسند نہیں آئے جن میں وجے لکشمی پنڈت نے اندرا گاندھی کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی تھی۔

زریر مسانی اپنی اندرا گاندھی کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں ’وجے لکشمی نے کہا ’اندرا میں خوبیاں ہیں، انھیں صرف تجربے کی ضرورت ہے۔ کچھ تجربہ حاصل کرنے کے بعد وہ ایک اچھی وزیر اعظم ثابت ہوں گی۔ وہ ان کی مدد کریں گی۔ وہ اس پر قابو پا لیں گی۔‘

منو بھگوان لکھتے ہیں ’جب بھی وجے لکشمی اندرا گاندھی سے ملنے جاتی تھیں انھیں ایک پتھریلی خاموشی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کئی کوششوں کے باوجود ان کے اور اندرا کے تعلقات بہتر نہ ہو سکے۔‘

اندرا گاندھی کی قریبی ساتھی اوشا بھگت اپنی کتاب اندرا جی میں لکھتی ہیں، ’میں نے سوچا تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد وجے لکشمی کے تئیں اندرا کے رویے میں تبدیلی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک یا دو بار جب وجے لکشمی پنڈت اندرا سے ملنے آئیں تو انھوں نے مجھے دس منٹ بعد کمرے میں آ جانے کی ہدایت کی۔ یہ شاید اس لیے تھا کہ اندرا وجے لکشمی سے بات کرنے میں آرام دہ محسوس نہیں کرتی تھیں۔‘

وجے لکشمی پنڈت، منو بھگوان کی لکھی ہوئی کتاب

،تصویر کا ذریعہPenguin Random House

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت، نامی کتاب منو بھگوان کی لکھی ہوئی کتاب

اندرا نے ہائی کمشنر بننے کی پیشکش ٹھکرا دی

اندرا گاندھی کی طرف سے یہ اشارے ملنے لگے کہ وہ اب ایک ناپسندیدہ شخص ہیں۔

اسی دوران لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مشورہ دیا کہ وجے لکشمی پنڈت کو ایک بار پھر برطانیہ میں انڈیا کے ہائی کمشنر کے طور پر بھیجا جانا چاہیے۔

منو بھگوان وجے لکشمی پنڈت کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں، ’جب وجے لکشمی نے ایک ملاقات کے دوران اندرا سے اس امکان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بہت بے تکلفی سے جواب دیا، پھوپھی مجھے آپ پر یقین نہیں۔‘

نان نے اس کی بے تکلفی کی تعریف کی اور اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا اچھا تو تم نے صاف صاف بات کی۔

اندرا نے برطانیہ کے بجائے فرانس میں سفیر کے طور پر جانے کی پیشکش کی کیونکہ وہ وہاں کے صدر کو جانتی تھیں، لیکن ’نان‘ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

انھوں نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور دہرادون میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

وجے لکشمی پنڈت نے 1977 میں اندرا کے خلاف مہم چلائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت نے 1977 میں اندرا کے خلاف مہم چلائی تھی

1977 کے انتخابات میں اندرا کے خلاف انتخابی مہم

جب اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ہٹائی اور 1977 میں لوک سبھا انتخابات کا اعلان کیا تو جگجیون رام اور ہیم وتی نندن بہوگنا نے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔

صرف 10 دن بعد اندرا کی پھوپھی وجے لکشمی پنڈت بھی سیاسی ریٹائرمنٹ سے باہر آ گئیں اور جنتا پارٹی کے لیے اپنی حمایت بڑھا دی۔

ایک عوامی بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اندرا اور ایمرجنسی نے جمہوری اداروں کو کچل دیا ہے۔‘

شکاگو ٹائمز نے ان کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اندرا گاندھی کو خبردار کیا کہ وہ اپنی پھوپھی کو کم نہ سمجھیں وہ اندرا گاندھی کو سخت مقابلہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اٹل بہاری واجپائی اور شاہی امام کے ساتھ مل کر انھوں نے جدوجہد آزادی کی طرز پر ایک بین مذہبی اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ دراصل وجے لکشمی کو امید تھی کہ اندرا کی شکست کے بعد وہ سیاست میں واپس آئیں گی۔

انھیں امید تھی کہ مرار جی دیسائی شاید انھیں انڈیا کا صدر بنانے کے بارے میں سوچیں گے لیکن انھوں نے یہ بات عوامی طور پر نہیں کہی۔ ایسی قیاس آرائیاں انتخابی مہم کے دوران صحافیوں نے ضرور کی تھیں۔

جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں ’میں اتنی جلدی دوسرا جنازہ نہیں چاہتی۔‘ (صدر فخرالدین علی احمد چند روز قبل ہی فوت ہوئے تھے)

وجے لکشمی پنڈت کی خود نوشت

،تصویر کا ذریعہ Speaking Tiger Books

،تصویر کا کیپشنوجے لکشمی پنڈت کی خود نوشت

آنند بھون میں ایک رات بھی گزارنے کی اجازت نہیں

وجے لکشمی نے بعد میں اپنی سوانح عمری ’خوشی کا دائرہ‘ میں لکھا کہ ’میں اور اندرا ایک ہی طبقے کے خاندانی پس منظر اور تعلیم سے آئے تھے۔ انسانی حقوق اور متاثرین کی آزادی کے بارے میں ہمارے خیالات ایک جیسے تھے لیکن جب وہ اپنے راستے سے ہٹ گئیں۔ میرے لیے ضروری ہو گیا کہ میں اس کی مخالفت کروں۔‘

وجے لکشمی پنڈت نے لکھا کہ ’جب میں انتخابی نتائج کے کئی ہفتوں بعد ان سے ملنے گئی تو میں ان سے گلے مل کر روئی۔ میں رونے لگی کہ میری بیٹی نے اپنے عروج پر پہنچ کر ایسی غلطی کیوں کی۔ ‘

1970 میں جب اندرا گاندھی نے اپنی آبائی رہائش گاہ آنند بھون سرکار کو دینے کا اعلان کیا تو وجے لکشمی نے خاوہش ظاہر کی کہ وہ اس سے پہلے وہ آنند بھون میں ایک رات گزارنا چاہتی ہیں۔ لیکن اندرا گاندھی نے انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

یہ غصہ اس حد تک تھا کہ جب 1974 میں ان کے چھوٹے بیٹے سنجے کی شادی ہوئی تو انھوں نے وجے لکشمی پنڈت کو مدعو تک نہیں کیا۔