اندرا گاندھی: انڈیا کی ’سب سے طاقتور وزیرِ اعظم‘ کو اُن کی کن غلطیوں نے کمزور کیا؟

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مارک ٹلی
    • عہدہ, سینیئر صحافی

معروف صحافی ساگاریکا گھوش نے انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تازہ ترین سوانح عمری لکھی ہے جس میں انھوں نے اندرا کو ’انڈیا کی سب سے طاقتور وزیر اعظم‘ قرار دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو جب بھی انھیں (اندرا) اقتدار ملا تو انھوں نے اسے اپنے ہاتھوں سے جانے کیوں دیا؟

میرے خیال میں اُن کی غلطی یہ تھی کہ وہ یہ نہیں سمجھ پائيں کہ اقتدار حاصل کرنا ایک بات ہے اور برسراقتدار ہوتے ہوئے طاقت کا استعمال یکسر مختلف بات۔

مزید قوت حاصل کرنے کی خواہش

انھوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا اور اگر وہ اداروں کو مضبوط کرتیں تو طاقت کا مؤثر استعمال کرنے میں انھیں بہت مدد ملتی۔

ان کی ایک اور کمزوری یہ تھی کہ جب عمل کا وقت آتا تو وہ عمل نہیں کرتی تھیں اور جب حالات خراب ہونے لگتے تھے تو حد سے زیادہ ردِعمل ظاہر کرتی تھیں۔

یہ بھی عجیب بات ہے کہ ان کا زوال اسی وقت شروع ہوا جب وہ اپنے اقتدار کے عروج پر تھیں۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب وہ بنگلہ دیش کی جنگ میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد سب سے زیادہ طاقتور رہنما بن کر ابھریں تو انھوں نے طاقت کو اپنے اندر مزید مرکوز کرنے کی کوشش کی حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ وہ طاقت کے استعمال کی صلاحیت کو بڑھاتیں۔

پارٹی اور بیوروکریسی، ان کے پاس یہ دو ایسے ہتھیار تھے جن کی مدد سے وہ اپنا اقتدار چلاتی تھیں لیکن انھوں نے ساری طاقت اپنے ہاتھ میں رکھی اور پارٹی اور بیوروکریسی دونوں کو کمزور کیا۔

ان کے والد اور انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کانگریس پارٹی کے اندر جمہوریت کا بہت احترام کیا تھا۔

نہرو سمجھ گئے تھے کہ اگر ریاستوں میں مضبوط قیادت نہیں ہو گی تو پارٹی ریاستی سطح پر مؤثر نہیں ہو گی۔

نہرو نے وزرائے اعلیٰ کو اپنے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنجے کو غیر آئینی عہدہ دیا گیا

لیکن اس کے برعکس اندرا گاندھی وزرائے اعلیٰ کے لیے کسی بھی قسم کی آزادی کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتی رہیں۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب انھوں نے پارٹی کو خاندانی معاملہ بنا کر وہ حقوق اپنے بیٹے سنجے کو دے دیے جن کی پارٹی کے آئین کے مطابق کوئی جگہ نہیں تھی۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب 70 کی دہائی میں جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ان کی پالیسیوں کے خلاف تحریکیں شروع ہوئیں تو پارٹی ان کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے انھوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر کے مزید طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

پارٹی میں کس حد تک چاپلوسی کا غلبہ ہو چکا تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے کانگریس صدر دیوکانت بروا نے یہ نعرہ دیا تھا کہ ’اندرا انڈیا ہے، اور انڈیا اندرا ہے۔‘

بیوروکریسی بشمول پولیس کو اپنا کردار مؤثر طریقے سے سرانجام دینے کے لیے کچھ خودمختاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ خود مختاری کے ساتھ قواعد کے مطابق کام کر سکے اور ساتھ ہی دیگر اداروں پر بھی کنٹرول قائم رہے۔

لیکن اندرا گاندھی ایک ’وفادار سول سروس‘ اور انڈین جمہوریت کے لیے اس سے بھی زیادہ خطرناک ایک ’وفادار عدلیہ‘ چاہتی تھیں۔

واضح طور پر وہ چاہتی تھیں کہ بیوروکریسی اور عدلیہ ان کے ساتھ وفادار ہو، نہ کہ آئین کے ساتھ جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔

نوعمر اندرا گاندھی مہاتما گاندھی کے پلنگ کے سرہانے بیٹھی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننوعمر اندرا گاندھی مہاتما گاندھی کے پلنگ کے سرہانے بیٹھی ہیں

اندرا کے کمزور بیوروکریٹس

لیکن بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد اندرا گاندھی کسی حد تک بدقسمت رہیں۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے تجارتی توازن بگڑ گیا۔ ساتھ ہی مون سون نے کسانوں کو نقصان پہنچایا اور زراعت بھی اس سے متاثر ہوئی اور ان سب عوامل نے مل کر تباہی مچا دی۔

بیوروکریسی بھی چاپلوسی سے اس قدر متاثر ہوئی کہ وہ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر عاجز تھی۔

اس کے علاوہ اسی وقت اندرا نے معیشت میں تحفظ پسندی کو اس قدر فروغ دیا کہ سرخ فیتہ شاہی یعنی ہر معاملے میں رخنے ڈالنے کی پالیسی نے انڈیا کی اُبھرتی ہوئی صنعت کا گلا گھونٹ دیا۔

بینکوں کو قومی تحویل میں لینے کے عمل نے کاروباری گھرانوں کا کنٹرول اُن سے چھین لیا، لیکن اگر اندرا نے اسی وقت بینکاری میں اصلاح کی ہوتی تو بینک بھی کسانوں کو قرض خواہوں کے چنگل سے بچانے کے اندرا کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے۔

اندرا نے بیوروکریسی کو جو نقصان پہنچایا سو پہنچایا، مگر اُن کی پارٹی نے ایمرجنسی کے دوران اس کے زوال میں مزید حصہ ڈالا۔

بیوروکریسی کی کمزوری کی وجہ سے مقامی حکام نے ایمرجنسی کے دوران خاندانی منصوبہ بندی اور کچی آبادیوں کو صاف کرنے کی پالیسیوں پر عمل درآمد کی پوری کوشش کی۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بھنڈرانوالے نے اپنا رخ بدل لیا

پارٹی میں چھائی ہوئی چاپلوسی کی کوئی حد نہیں تھی اور کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اعلیٰ کمان کو زمینی حقیقت سے روشناس کروا سکے۔

سنہ 1977 میں ایمرجنسی کے بعد ہونے والے انتخابات میں شکست کے بعد اندرا نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے ’شیرنی‘ کی طرح جدوجہد کی اور تین سال بعد وہ اس میں کامیاب ہوئیں۔

لیکن اس کے بعد ایک بار پھر ان کی تمام تر توجہ طاقت اپنی ذات میں مرکوز کرنے پر ہو گئی۔

اس بار سب سے پہلے انھوں نے پنجاب میں اپوزیشن کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور سنت جرنیل بھنڈرانوالے کو حکمران اکالی دل کی مخالفت کرنے کے لیے حوصلہ دیا۔

یہ بھی پڑھیے

بھنڈرانوالے نے اپنی چال بدل کر ان کی ہی اتھارٹی کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں گولڈن ٹیمپل میں ’آپریشن بلیو سٹار‘ ہوا اور پھر اندرا کو قتل کر دیا گیا۔

اگر اندرا گاندھی سخت فیصلہ لینے کے لیے تیار تھیں تو انھیں گولڈن ٹیمپل پر قبضہ کرنے اور اکال تخت کو قلعے میں تبدیل کرنے سے قبل ہی بھنڈرانوالے کو گرفتار کر لینا چاہیے تھا۔

پنجاب کے بحران کے دوران انھوں نے کشمیر میں فاروق عبداللہ حکومت کو بھی غیر مستحکم کیا۔ یہ ان مسائل کا آغاز تھا جن سے انڈیا کا زیر انتظام کشمیر ابھی تک نبرد آزما ہے۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اندرا نے بہت نقصان پہنچایا

اندرا گاندھی کی شخصیت ایک معمہ تھی۔ ایک طرف وہ ایک باہمت عورت تھیں جو مردانہ تسلط والی اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اکیلے لڑ رہی تھیں، لیکن وہ اپنے صلاحیتوں پر شک بھی کرتی تھیں اور ہر وقت خطرے سے ڈرتی تھیں، بڑے فیصلے کرنے سے اس وقت تک گریز کرتیں جب تک کہ انھیں ایسا کرنے پر مجبور نہ کیا جاتا۔

اس کے باوجود بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران وہ امریکی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں۔

لیکن اندرا نے سب سے زیادہ نقصان انڈیا کے اداروں اور کانگریس پارٹی کو پہنچایا جس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔

انھوں نے بہت بعد میں اعتراف کیا کہ انڈین معیشت کے لیے ان کی پالیسیوں نے اس کی ترقی کی صلاحیت کو روک دیا لیکن ان کے دور میں ہی سبز انقلاب برپا ہوا۔

’غریبی ختم کرو‘ کا نعرہ

اپنے والد کی آزاد سائنسی تحقیق کی پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کی بنیاد رکھی۔

اندرا اپنی فطرت سے محبت کرنے والی تھیں اور اسی وجہ سے انھوں نے شیر جیسے شاندار جانور کو معدومیت کے خطرے سے بچانے کے لیے ’پراجیکٹ ٹائیگر‘ شروع کیا۔

سٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں اپنی مشہور تقریر میں اندرا پہلی شخصیت تھیں جنھوں نے غربت کا مقابلہ کرنے اور ماحولیات کے تحفظ کے درمیان رشتہ واضح کیا۔

لیکن شاید سب سے بڑھ کر اندرا نے انڈیا کے غریبوں کو آواز دی۔

ان کے سوشلزم کو غلط سمجھا جا سکتا ہے، ان کی انتظامیہ ناکارہ رہی، لیکن جب انھوں نے 'غربت ہٹاؤ' کا نعرہ دیا تو غریب طبقے نے کبھی ان کی نیت پر شک نہیں کیا۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گاؤں دیہات میں بسنے والے ان کی موت کے 40 برس بعد بھی بڑی تعداد میں ان کے میوزیم میں نظر آتے ہیں۔