آر کے دھون: سٹینوگرافر جنھیں گاندھی خاندان سے وفاداری نے انڈین سیاست میں ’کنگ میکر‘ بنا دیا

اندرا گاندھی کے ساتھ آر کے دھون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناندرا گاندھی کے عقب میں آر کے دھون
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

آر کے دھون شاید کانگریس رہنما اور انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے سب سے قریبی ساتھی تھے۔ جب تک وہ زندہ رہیں، دھون کو ان کے اردگرد ہی دیکھا گیا۔

کوئی بھی شخص نہرو، گاندھی خاندان کا شاید ہی اتنا وفادار رہا ہو گا جتنا آر کے دھون تھے۔ اُن کا جلوہ ایسا تھا کہ اندرا گاندھی سے ملنے کے خواہش مند بڑے بڑے لیڈر اور رئیس آر کے دھون کو ’دھون صاحب‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’لیڈرز، پولیٹیشنز، سٹیزن ففٹی فگرز ھو انفلوئنسڈ انڈین پالیٹکس‘ کے مصنف رشید قدوائی بتاتے ہیں کہ ’دھون 70 کی دہائی میں ایک ہرکارے کے طور پر مشہور ہوئے۔ اندرا گاندھی اپنے وزرا، وزرائے اعلیٰ اور پارٹی سربراہوں سے براہ راست رابطہ رکھنے میں یقین نہیں رکھتی تھیں۔ انھیں جو بھی ہدایات دینا ہوتیں، یا اچھی یا بُری خبر پہنچانی ہوتی تھی وہ سب دھون کے ذریعے پہنچائی جاتی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ اگر بات نہیں بنی تو دھون اس کی ذمہ داری لیں گے۔‘

21 برسوں میں ایک دن بھی چھٹی نہیں لی

اندرا گاندھی کی سوانح عمری میں مصنفہ کیتھرین فرینک لکھتی ہیں کہ ’دھون کے بال سیاہ ہوا کرتے تھے، وہ اپنے بالوں میں تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی سے سنوارا کرتے تھے۔ اُن کے چہرے پر ہمیشہ کولگیٹ (کے اشتہار جیسی) مسکراہٹ بکھری رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ سفید چکمدار کپڑے پہنتے تھے لیکن اُن کے جوتے ہمیشہ سیاہ رنگ کے ہوتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخر تک غیر شادی شدہ رہے، اُن کی اپنی کوئی ذاتی زندگی نہیں تھی۔‘

اندرا گاندھی پر ایک دوسری کتاب ’آل دی پرائم منسٹرز مِین‘ کے مصنف جناردن ٹھاکر لکھتے ہیں کہ ’دھون نے خود مجھے بتایا کہ وہ صبح 8 بجے سے اندرا گاندھی کے سونے تک اُن کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ اُن کا معمول تھا۔ سال کے پورے 365 دن۔ سنہ 1963 سے جب انھوں نے اندرا گاندھی کے لیے کام کرنا شروع کیا تو اس کے بعد انھوں نے کبھی ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی یہاں تک کہ تہواروں پر بھی چھٹی نہیں لی۔ وہ سفر پر ہوتیں یا جب بیرون ملک بھی جاتی تھیں تو دھون ہمیشہ سائے کی طرح اُن کے ساتھ ہوتے تھے۔‘

سر ورق

،تصویر کا ذریعہHACHETTE INDIA

آل انڈیا ریڈیو سے سٹینوگرافر کے طور پر کیریئر کا آغاز

دھون کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ سیاسی تقرریوں سے لے کر خارجہ پالیسی تک، ہر موضوع پر اندرا گاندھی کو مشورہ دیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ اندرا گاندھی کے بعد وہی ملک چلا رہے تھے۔

پرنیہ گپتے اندرا گاندھی کی سوانح عمری ’مدر انڈیا، اے پولیٹیکل بائیوگرافی آف اندرا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’دھون کی پیدائش پاکستان کے شہر چنیوٹ میں ہوئی تھی۔ سنہ 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کر کے دہلی آئے تھے اور انھوں نے آل انڈیا ریڈیو سے ایک سٹینوگرافر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

’جب اندرا گاندھی کو سنہ 1962 میں نیویارک کے عالمی میلے میں انڈین بوتھ کا سربراہ بنایا گیا تو دھون نے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ جب اندرا گاندھی اطلاعات و نشریات کی وزیر بنیں تو دھون اُن کے ساتھ رہے۔ اس دور کے گھاگھ (تیز ترار) کانگریسی رہنماؤں سے نمٹنے کے معاملے میں دھون کو اندرا گاندھی کا خفیہ ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں دھون نے راجیو گاندھی اور سنہ 1991 میں وزیر اعظم بننے والے نرسمہا راؤ کے لیے وہی کردار ادا کیا۔‘

اندرا گاندھی کے ساتھ آر کے دھون

سنجے گاندھی اور آر کے دھون کی جگل بندی

سب سے پہلے اندرا گاندھی کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کے سیاسی عزائم کو پہچاننے کا سہرا آر کے دھون کے سر جاتا ہے۔

رشید قدوائی بتاتے ہیں کہ ’جب سنجے گاندھی برطانیہ میں رولس رائس کمپنی سے انٹرن شپ کے بعد واپس آئے تو دھون ہی تھے جنھوں نے سب سے پہلے انھیں کانگریس کے بڑے لیڈروں سے ملوانا شروع کیا۔ انھوں نے کانگریس کے کچھ لیڈروں کو مشورہ بھی دیا کہ وہ اندرا کے سامنے سنجے گاندھی کی تعریف کریں۔ چند مہینوں میں ہی اندرا کو اپنے بیٹے کی سیاسی سمجھ بوجھ کا احساس ہونے لگا۔‘

’ایمرجنسی کے وقت تک، دھون ماں اور بیٹے کے معتمد خاص بن گئے۔ دھون نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر سنجے گاندھی کے کمرے میں ایک خصوصی ٹیلی فون لائن لگائی تھی جہاں سے سنجے گاندھی کانگریس کی حکومت والے وزرائے اعلیٰ کو ہدایات دیتے تھے۔ اندرا گاندھی کو بھی سنجے کے بڑھتے ہوئے غیر آئینی اثرات کا اندازہ نہیں تھا۔‘

بشن ٹنڈن، جو اندرا گاندھی کے دور میں وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سیکریٹری تھے، انھوں نے اپنی کتاب ’پی ایم او ڈائری‘ میں آر کے دھون کے اثر و رسوخ کی صراحت کے ساتھ عکاسی کی ہے۔

ٹنڈن لکھتے ہیں: ’دھون کا وزیر اعظم پر بہت اثر ہے۔ وزیر اعظم اور ہکسر صاحب کے درمیان کشیدگی میں دھون کا بڑا ہاتھ تھا۔ جب دھون کا اثر بڑھنے لگا تو پروفیسر پی این دھر نے مجھ سے کہا کہ وہ دھون کا اثر کم کروانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی، ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا، بشن! میں مکمل طور پر ہار گیا ہوں، وزیر اعظم دھون کے خلاف ایک لفظ بھی سُننے کو تیار نہیں، نوکر شاہی پر دھون کا ایسا اثر ہوا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کشن چند کے پاس جب دھون کا فون آتا تو وہ کھڑے ہو کر فون پر بات کرتے تھے۔‘

سنجے گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنجے گاندھی

ایمرجنسی میں دھون کا کردار

ایمرجنسی نافذ ہونے سے تین دن پہلے دھون راجستھان کے چیف سیکریٹری ایس ایل کھرانہ کو مرکزی ہوم سیکریٹری کی جگہ نیا ہوم سیکریٹری بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

دھون، وزیر مملکت برائے داخلہ اوم مہتا اور اس وقت کے ہریانہ کے وزیر اعلی بنسی لال کے احکام کے تحت 25 جون 1975 کی رات جس دن ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا تمام اخبارات کی بجلی منقطع کروا دی گئی تھی۔

ایمرجنسی کے بعد آر کے دھون نے یقینی طور پر خود کو ایمرجنسی کے دوران ہونے والی زیادتیوں سے الگ کرنے کی کوشش کی۔

انھوں نے ایمرجنسی پر ’ایمرجنسی: اے پرسنل ہسٹری‘ کتاب لکھنے والے کومی کپور کو بتایا کہ ’ایمرجنسی کا اصلی ولن سدھارتھ شنکر رے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

آر کے دھون نے کومی کپور کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’شاہ کمیشن کی سماعت کے دوران، رے (سدھارتھ شنکر رے) اندرا گاندھی کے پاس گئے اور کہا، آپ بہت فٹ نظر آ رہی ہیں، اندرا گاندھی نے بہت ٹھنڈے انداز میں جواب دیا، آپ مجھے فٹ دکھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اندرا گاندھی نے سدھارتھ شنکر رے سے کبھی بات نہیں کی۔‘

اپنی گواہی کے دوران رے نے ایمرجنسی کی زیادتیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور سارا الزام اندرا اور سنجے گاندھی پر ڈال دیا۔ آر کے دھون نے ہمیشہ اندرا گاندھی کا دفاع کیا اور سدھارتھ شنکر رے اور وزیر قانون ایچ آر گوکھلے کو ایمرجنسی لگانے کے لیے اندرا گاندھی کو گمراہ کرنے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔

آر کے دھون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اندرا کے خلاف گواہی دینے سے انکار

نٹور سنگھ کا خیال ہے کہ اندرا کے ساتھ دھون کی وفاداری بہت زیادہ تھی۔ اندرا گاندھی تمام انسانی خوبیوں میں مکمل وفاداری سب سے زیادہ پسند کرتی تھیں۔ اندرا کے انتخابات میں شکست کے بعد آر کے دھون کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ایک انٹرویو میں دھون نے کہا: 'چرن سنگھ چاہتے تھے کہ میں شاہ کمیشن کے سامنے اندرا گاندھی کے خلاف گواہی دوں، ورنہ مجھے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میں نے انھیں یہ کہلا بھیجا کہ میں مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میں ان کے خلاف گواہی نہیں دوں گا۔‘

اندرا گاندھی کی موت کے بعد دھون الگ تھلگ پڑ گئے

دھون شروع سے ہی مذہبی قسم کے آدمی تھے اور صبح سویرے اندرا گاندھی کی رہائش گاہ پہنچنے سے پہلے وہ اپنی گاڑی موڑ کر تغلق روڈ پر واقع مندر جاتے تھے جہاں وہ سر جھکاتے تھے۔ اندرا گاندھی کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ٹھککر کمیشن کی رپورٹ میں جب ان کا نام آیا تو وہ مزید مذہبی ہو گئے اور بابا کھڑک سنگھ مارگ پر واقع ہنومان مندر جانے لگے۔

رشید قدوائی بتاتے ہیں: ’جب اندرا گاندھی پر ان کے دو سکیورٹی گارڈز نے گولی چلائی تو وہ اُن سے دو قدم پیچھے چل رہی تھیں۔ ایک جگہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بینت سنگھ نے ستونت سنگھ کو ہدایت کی تھی کہ دھون کو کوئی گولی نہیں لگنی چاہیے۔ ٹھککر کمیشن کی رپورٹ پیش ہونے سے پہلے ہی دی انڈین ایکسپریس نے اس کے کچھ حصے کو شائع کر دیا جس میں ان پر شک ظاہر کیا گيا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم اور کانگریس کے صدر راجیو گاندھی نے آر کے دھون سے دوری اختیار کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔‘

اندرا گاندھی کی موت کے بعد دھون ایک طرح سے یتیم ہو گئے۔

کُمکُم چڈھا اپنی کتاب ’دی میریگولڈ سٹوری‘ میں لکھتی ہیں: 'تمام تحقیقاتی ایجنسیاں دھون کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئيں اور وہ طویل عرصے تک سیاسی تنہائی میں رہے۔ کبھی ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کرنے والے آر کے دھون اچانک بالکل الگ تھلگ پڑ گئے۔ ان کے قریبی لوگوں نے بھی ان سے ملنا چھوڑ دیا۔ بہت سے لوگوں کا کریئر بنانے والے لوگوں میں سے کوئی بھی دھون کے لیے کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا۔‘

پی اے سنگما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپی اے سنگما

آر کے دھون سنگما سے الجھ پڑے

تقریباً دو سال تک دھون شک کے دائرے میں رہے۔ لیکن جب راجیو گاندھی کو بوفورس کیس میں پھنسایا گیا اور وشوناتھ پرتاپ سنگھ اور ارون نہرو نے بغاوت کر دی، تو انھیں دھون دوبارہ یاد آئے اور انھوں نے سنہ 1988 میں دھون کو بلاوا بھیجا۔ آہستہ آہستہ دھون اپنے پرانے رنگ میں واپس آنے لگے اور ان کے دفتر کے باہر ایک بار پھر کانگریس کے وزرائے اعلیٰ، مرکزی وزرا اور پارٹی لیڈروں کی لائن لگ گئی۔

راجیو گاندھی کے جانے کے بعد سونیا گاندھی نے بھی دھون کو وہی اہمیت دی۔ نرسمہا راؤ نے انھیں اپنی کابینہ میں شامل کیا۔

یہ بھی پڑھیے

رشید قدوائی بتاتے ہیں: ’15 مئی 1998 کو جب پی اے سنگما نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرد پوار کی حمایت سے سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد ہونے کا مسئلہ اٹھایا، تو کانگریس کے تمام سرکردہ لیڈران پرنب مکھرجی، منموہن سنگھ، ارجن سنگھ اور غلام نبی آزاد اُن کی تقریر سُنتے رہے، آر کے دھون واحد شخص تھے جنھوں نے سنگما کو ان کی تقریر کے درمیان میں روکا اور کہا: 'آپ کیا بکواس کر رہے ہیں؟' سونیا کی طرف مڑتے ہوئے انھوں نے کہا: 'میڈم، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اس لڑائی میں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔‘

'کانگریس کے اندرونی ذرائع نے مجھے بتایا کہ سونیا گاندھی آر کے دھون کے اپنے دفاع سے بہت متاثر ہوئیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ جو مادھو راؤ سندھیا، پرنب مکھرجی اور امبیکا سونی نہیں کر سکے، وہ آر کے دھون نے کر دکھایا۔‘

آر کے دھون اور ان کی اہلیہ اچلا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآر کے دھون اور ان کی اہلیہ اچلا

74 سال کی عمر میں شادی

تقریباً ساری زندگی غیر شادی شدہ رہنے کے بعد دھون نے 59 سالہ اچلا موہن سے 2011 میں 74 سال کی عمر میں شادی کی۔ تب تک وہ ایک طرح سے فعال سیاست سے ریٹائر ہو چکے تھے۔

وہ اور اچلا موہن 70 کی دہائی سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

اچلا نے پہلے ایک پائلٹ سے شادی کی تھی اور وہ کینیڈا چلی گئی تھیں۔ لیکن پھر 1990 میں انھوں نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی۔

شادی سے پہلے سے ہی دھون اور اچلا ایک جوڑے کے طور پر شادیوں اور تقریبوں میں شرکت کرتے تھے۔

انڈین ایکسپریس کی نامہ نگار ریتو سرین کو انٹرویو دیتے ہوئے دھون نے اچلا سے شادی کی وجہ بتائی تھی۔

ایک بار جب انھیں بہت تیز وائرل بخار ہوا تو انھیں ہسپتال میں داخل کرانے کی نوبت آ گئی۔

اچلا نے ان کا بہت خیال رکھا لیکن ہسپتال کے حکام نے اصرار کیا کہ علاج کے لیے کسی قریبی رشتہ دار کو رضامندی کے فارم پر دستخط کرنا ہوں گے۔

دھون کو یہ بہت بُرا لگا کہ ان کا اتنا خیال رکھنے کے باوجود وہ اس فارم پر دستخط نہیں کر سکیں۔ اسی دن انھوں نے اس رشتے کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔