جوناگڑھ کے نوابی خاندان کا ہتکِ عزت کا کیس کیا ہے جس میں ایک پاکستانی یوٹیوبر کو گرفتار کیا گیا؟

نوابزادہ ظاہر خان جی (دائیں طرف کھڑے)، صاحبزادہ طارق خان، جوناگڑھ کے دیوان (بائیں طرف کھڑے)، بائیں سے نیچے کی قطار: منیا شہریار خان (عالیہ خانجی کے شوہر)، نوابزادہ عالمگیر خانجی اور مرحوم نوابزادہ جہانگیر خان جی

،تصویر کا ذریعہAliya Dilawar Khanji

،تصویر کا کیپشننوابزادہ ظاہر خانجی (دائیں طرف کھڑے)، صاحبزادہ طارق خان، جوناگڑھ کے دیوان (بائیں طرف کھڑے)، بائیں سے نیچے کی قطار: منیا شہریار خان (عالیہ خانجی کے شوہر)، نوابزادہ عالمگیر خانجی اور مرحوم نوابزادہ جہانگیر خانجی
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان میں مدثر خان نامی یوٹیوبر کو ہتک عزت کے ایک مقدمے میں کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں بھیجا تھا، اب ان کے ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی ہے۔

یہ کیس گذشتہ جون میں اپ لوڈ کی گئی یوٹیوب ویڈیو سے متعلق ہے جس میں جوناگڑھ کے سابق نواب کے شاہی خاندان کے بارے میں مبینہ طور پر ہتک آمیز اور گمراہ کن معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

این سی سی آئی اے کے مطابق مدثر خان کو 22 جنوری کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، انھیں ٹرانزٹ ریمانڈ کی بنیاد پر 24 جنوری کو کراچی لایا گیا تھا اور جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوبی) کے سامنے پیش کیا گیا اور عدالت نے انھیں 28 جنوری تک سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ مقدمہ جوناگڑھ کے نواب دلاور خان جی کی بیٹی اور کراچی کے رہائشی نوابزادی عالیہ دلاور خانجی کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مدثر خان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعہ 20، 21-ڈی اور 26-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ان کی رہائش

،تصویر کا ذریعہAliya Dilawar Khanji

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ان کی رہائش

معاملہ ہے کیا؟

نوابزادی عالیہ خانجی نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ یوٹیوبر مدثر خان نے اپنے ویڈیو چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی اور اس ویڈیو میں جھوٹے الزامات تھے۔

این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر عامر علی کھوسو نے بی بی سی کو بتایا، ’ابتدائی تکنیکی تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ویڈیو میں عالیہ خانجی اور جوناگڑھ کے نواب خاندان کے لیے توہین آمیز اور نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس لیے زیر بحث ویڈیو آن لائن بدنامی کے دائرے میں آتی ہے۔‘

عالیہ خانجی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی والدہ جوناگڑھ کی شاہ بیگم متنازع ویڈیو دیکھنے کے بعد شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں، وہ گذشتہ سال دسمبر میں فوت ہو گئیں۔

عالیہ خانجی کے مطابق ’تنازعات کی وجہ جوناگڑھ کے سابق شاہی خاندان میں رسمی القابات ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’میرے بڑے بھائی کی موت کے بعد، میری والدہ نے جوناگڑھ سٹیٹ کونسل اور خاندان کے سینیئر افراد کی متفقہ رضامندی سے مجھے جوناگڑھ کی نواب بیگم کے طور پر نامزد کیا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ القابات پر اختلافات کی وجہ سے ان کے اور ان کی والدہ کے خلاف ’مسلسل اور بدنیتی پر مبنی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ویڈیو سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس میں دی گئی معلومات نواب خاندان کے کسی فرد نے دی ہوں گی۔ اس نے صورتحال کو خاصا تکلیف دہ بنا دیا۔

واضح رہے کہ ایف آئی آر میں عالیہ خانجی نے یوٹیوبر مدثر خان سمیت اپنے بھانجے علی مرتضیٰ خانجی کو بھی نامزد کیا ہے۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں علی مرتضیٰ خانجی کا مؤقف جاننے کے لئے ان سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

جوناگڑھ کے نواب خاندان میں خاندانی جھگڑا؟

જૂનાગઢ, ગુજરાત, જૂનાગઢનું નવાબી ખાનદાન, ગુજરાત, પાકિસ્તાન, બીબીસી ગુજરાતી

،تصویر کا ذریعہAliya Dilawar Khanji

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تقسیم ہند کے دوران جونا گڑھ کے نواب محمد مہابت خانجی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور 15 ستمبر 1947 کو پاکستان نے سرکاری گزیٹیئر بھی جاری کیا۔ تاہم اس ریاست کی پاکستان سے کہیں سے بھی سرحدیں نہیں ملتی تھیں۔

اس فیصلے پر مقامی لوگوں نے بغاوت کی جس کی بنیاد پر انڈین فورسز جونا گڑھ میں داخل ہو گئیں۔

تاریخ دانوں کے مطابق جونا گڑھ کے نواب کا پاکستان سے الحاق اور انڈین فورسز کا وہاں داخل ہونا جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے حساس اور متنازع سیاسی ابواب میں سے ایک باب سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 1947 سے اب تک جوناگڑھ کا نواب خاندان پاکستان میں مقیم ہے۔ نوابزادی عالیہ خانجی ریاست جوناگڑھ کے اسی سابق شاہی خاندان سےتعلق رکھتی ہیں۔

ان کے والد نواب دلاور خانجی نے 1976 سے 1977 تک سندھ، پاکستان کے گورنر بھی رہے۔

حکام کے مطابق اس کیس میں ملزم کے ساتھی اور عالیہ خانجی کے بھانجے علی مرتضیٰ خانجی کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں آن لائن ہتک عزت اور ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

یوٹیوب مدثر خان کے وکیل حماد احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ بنیادی طور پر اندرونی خاندانی تنازع ہے۔

انھوں نے کہا، ’دونوں پارٹیاں ریاست جوناگڑھ کے نواب ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں جو جلاوطن ہیں اور انھیں الگ الگ نامزد کیا گیا ہے۔‘

وکیل نے دلیل دی کہ مدثر خان کو موجودہ کیس میں ’آلے کے طور پر استعمال کیا گیا‘ اور انھیں ایک ریڈی میڈ سکرپٹ دیا گیا۔

یہ ابتدائی طور پر آڈیو ریکارڈنگ کی شکل میں تھا اور بعد میں اسے ویڈیو فارمیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔

’انھیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک تاریخی کہانی ہے جو جوناگڑھ کو ہندوستان میں ایک شاہی ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یوٹیوبر اس میں ملوث افراد کو نہیں جانتا تھا۔

’یوٹیوبر کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آیا وہ جوناگڑھ کے نواب کے خطاب کے دعویدار تھے۔‘

وکیلِ کے مطابق ’ایک دوست نے سکرپٹ یوٹیوبر مدثر خان کے حوالے کیا تھا اور اسے ایک اچھے مقصد کے لیے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔‘

وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’یہ ممکن ہے کہ علی مرتضیٰ خانجی کو ایف آئی آر میں ملوث کرنے کے لیے عالیہ خانجی نے زیر بحث ویڈیو کی منصوبہ بندی کی ہو یا علی مرتضیٰ خانجی نے خود یوٹیوب کو مواد بنانے کے لیے کہا ہو۔‘

وکیل حماد احمد خان نے کہا، ’دونوں صورتوں میں، ملزم یوٹیوبر بے قصور ہے۔‘

وکیل حماد احمد خان نے دلیل دی کہ ’اگر مواد اس یقین کی بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ معلومات حقائق پر مبنی تھیں اور خاندان کے افراد نے فراہم کی تھیں، تو یہ پیکا قانون کے تحت جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔‘

انھوں نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ پچھلی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے نے علی مرتضیٰ خانجی کی رہائش گاہ کی تلاشی اور قبضے کے لیے عدالت سے اجازت طلب کی تھی لیکن عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔