پھانسیاں، تشدد اور دھمکیاں: ایران میں جاری مظاہرے، جن کی عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے

تہران

،تصویر کا ذریعہReuters/WANA News Agency

    • مصنف, پرھام قبادی
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے اپنے 100ویں دن میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے طویل ترین حکومت مخالف مظاہرے ہیں لیکن عوام کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق 69 بچوں سمیت 500 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ دو مظاہرین کو پھانسی دی گئی جبکہ کم از کم 26 دیگر کو بھی اسی قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ’شیم ٹرائلز‘ قرار دیا ہے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی ایران میں ملک گیر مظاہرے ہوئے ہیں لیکن موجودہ مظاہرے اپنی نوعیت میں مختلف ہیں کیونکہ ان میں پورے معاشرے کے لوگ شامل ہیں اور خواتین ’عورت، زندگی، اور آزادی‘ کے نعروں کے تحت مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس سے قبل ایک بار سنہ 2017 کے اواخر اور سنہ 2018 کے اوائل کے دوران مظاہرے ہو‏ئے تھے اور پھر نومبر 2019 میں بھی ایک مظاہرہ ہوا تھا۔

ایران کی کچھ مشہور شخصیات نے حالیہ مظاہروں کی حمایت کے لیے ناقابل تنسیخ اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں انھیں گرفتاری یا جلاوطنی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

معروف ایرانی اداکارہ ترانا علیدوستی کو ایک نوجوان مظاہرہ کرنے والے کی پھانسی کی مذمت کے نتیجے میں بدنام زمانہ ایون جیل میں رکھا گیا۔ اس سے قبل انھوں نے بغیر سکارف کے اپنی ایک تصویر شائع کی تھی اور اس تصویر میں انھوں نے مظاہرین کے نعرے والی ایک تختی اٹھا رکھی تھی۔

اصغر فرہادی، جنھوں نے اپنی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’دی سیلز مین‘ میں ہدایت کاری کی ہے، انھوں نے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا ’میں نے ترانا علیدوستی کے ساتھ چار فلموں میں کام کیا اور اب وہ اپنے ہم وطنوں کی جائز حمایت اور غیر منصفانہ سزاؤں کی مخالفت کی وجہ سے جیل میں ہیں۔‘

اصغر فرہادی نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کی حمایت کرنا جرم ہے تو اس سرزمین کے لاکھوں لوگ مجرم ہیں۔‘

مظاہرہ ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’جان سے مارنے کی دھمکیاں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ملک چھوڑنے والی ایک اور ممتاز ایرانی اداکارہ پیگاہ آہنگرانی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’ایران مہسا امینی سے پہلے کے دور میں واپس نہیں جا سکتا۔‘

ان کا اشارہ کرد ایرانی خاتون کی جانب تھا جن کی 16 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا۔

ایک اور معروف ایرانی اداکار حامد فروخنزہاد رواں ماہ کے شروع میں امریکہ چلے گئے اور انھوں نے وہاں پہنچنے کے بعد فوری طور پر ایرانی سپریم لیڈر کو فرینکو، سٹالن اور مسولینی سے تشبیہ دیتے ہوئے ’آمر‘ قرار دیا۔

دبئی میں رہنے والے ایران کے مشہور سابق فٹبالرز میں سے ایک علی کریمی نے بھی احتجاج کی حمایت کی۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی انٹیلیجنس ایجنٹس نے انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں جس کی وجہ سے وہ بالآخر امریکہ چلے گئے۔

کریمی اب اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایرانی حکومت کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں، جن کے 14 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔

ایک اور ایرانی فٹبال آئیکون علی دائی جب ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں سامنے آئے تو ایرانی عدلیہ کی طرف سے ان کی جیولری شاپ اور ریستوران کو بند کر دیا گیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

پگڑی اچھالنا

ایران کی نئی نسل ان مظاہروں میں پیش پیش رہی ہے۔ انھوں نے سخت مذہبی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب کو اتارنے اور جلانے جیسے نئے رجحانات کی بنیاد ڈالی ہے۔

نوجوان مظاہرین میں ایک اور نیا رجحان نام نہاد ’پگڑی اچھالنا‘ بھی ہے یعنی وہ شیعہ مسلم علما کے پیچھے چپکے سے جاتے ہیں اور ان کی پگڑی کو اچھال کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

16 سالہ لڑکے عرشیہ امامغولی زادہ کو گذشتہ ماہ شمال مغربی شہر تبریز سے ’پگڑی اچھالنے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رہائی سے قبل انھیں 10 دن تک حراست میں رکھا گیا۔ رہائی کے دو دن بعد انھوں نے خودکشی کر لی جس کا الزام ان کے خاندان والوں نے جیل میں کیے جانے والے سلوک پر لگایا۔

خاندان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ حراست کے دوران عرشیہ کو لاٹھیوں سے مارا گیا اور نامعلوم ادویات دی گئیں۔

ایرانی حکام نے نہ صرف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا بلکہ ان لوگوں کی لاشوں کو بھی استعمال کیا، جو حراست میں مارے گئے تاکہ متاثرین کے اہلخانہ کو خاموش کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ مظاہروں کے دوران مارے گئے ایک شخص کے بھائی نے مردہ خانے سے اس کی لاش چرا لی اور گھنٹوں تک شہر میں اسے گاڑی میں رکھ کر ڈرائیو کرتا رہا۔

27 سالہ مہران سمک کو شمالی شہر بندر انزلی میں 29 نومبر کو ایران کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی خوشی میں اپنی گاڑی کا ہارن بجانے کے لیے سر میں گولی مار دی گئی۔

ایک اور خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے 23 سالہ بیٹے حامد صلاحشور کے جسم پر تشدد کے چونکا دینے والے نشانات ملے۔ اس کی موت حراست میں ہوئی تھی اور یہ انکشاف اس وقت ہوا جب انھوں نے اس کی لاش کو ان کے آبائی شہر سے 18 میل (30 کلومیٹر) دور زبردستی دفنائے جانے کے بعد نکالا گیا۔

نور محمد زادہ

،تصویر کا ذریعہSAHAND NOORMOHAMMADZADEH

،تصویر کا کیپشننور محمد زادہ شوقیہ باڈی بلڈر تھے

پھانسیاں اور تشدد

سزائے موت پانے والوں میں سے کئی افراد کا کہنا ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

کردستان ہیومن رائٹس نیٹ ورک ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔ اس تنظیم نے کہا ہے کہ ایک کرد ایرانی ریپر سمان یاسین جنھیں موت کی سزا سنائی گئی، انھوں نے منگل کو خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

انسانی حقوق گروپ نے پہلے کہا تھا کہ یاسین کو حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بی بی سی فارسی کے ذریعہ حاصل کردہ ایک آڈیو فائل میں ایک 26 سالہ شوقیہ باڈی بلڈر سہند نورمحمد زادہ نے الزام لگایا ہے کہ جیل میں انھیں کئی سزائیں دی گئیں۔

نور محمد زادہ کو نومبر میں ’خدا کے خلاف دشمنی‘ (ایرانی قانون کے تحت ’ہتھیار سے عوامی عدم تحفظ پیدا کرنا‘) کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر 23 ستمبر کو تہران میں ہونے والے احتجاج کے دوران ریلنگ پھاڑ کر ہائی وے پر ٹریفک بلاک کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کی انھوں نے تردید کی۔

بی بی سی فارسی کو ایکسرے کی تصاویر بھی حاصل ہوئی ہیں، جن میں دکھایا گیا ہے کہ ایک قیدی کی تین پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، اس کے پھیپھڑے میں سوراخ ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر حامد غرے حسن لو کو ’فساد فی الارض‘ کا مجرم پایا گیا، ایک ایسا جرم جس کی سزا موت ہے۔

ایک باخبر ذریعے نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ ڈاکٹر غرے حسن لو سے زبردستی ’اعتراف‘ کرانے کے لیے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گيا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔