50 دن کے حکومت مخالف مظاہروں نے ایران میں زندگی کس طرح بدل دی ہے؟

ایران

ایران میں 16 ستمبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا ایک اتنا غیر معمولی سلسلہ شروع ہوا جس کی نظیر کم از کم ملک کی گذشتہ 40 سال کی تاریخ کے دوران نہیں ملتی۔

کئی ایرانیوں کا خیال ہے کہ ان مظاہروں نے معاشرے پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

50 دن قبل شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا آغاز خواتین کے خلاف تشدد کی وجہ سے ہوا تھا جو اب ایران کی حکومت کے لیے سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

یہ معاملہ 16 ستمبر کو شروع ہوا تھا جب 22 سالہ مہسا امینی، جن کو ایران کی اخلاقی پولیس (گشت ارشاد فورس) نے حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا، مبینہ تشدد کے بعد کوما میں چلی گئی تھیں اور تین دن بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی تھیں۔

اس دن کے بعد سے سکیورٹی فورسز کی کارروایوں کے باوجود احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نامی ویب سائٹ کے مطابق اب تک ان مظاہروں میں 298 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 14 ہزار کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایران میں لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ملک میں روز مرہ زندگی میں پانچ مختلف طریقوں سے تبدیلی آ چکی ہے۔

ایران

حجاب کے قانون کی خلاف ورزی

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد ایرانی خواتین نے باقاعدگی سے سر کو ڈھانپ کر رکھنے کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ان کو گاڑیوں کی چھتوں پر سکارف ہوا میں لہراتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں خواتین کو عوامی مقام پر بنا حجاب دیکھا جا سکتا ہے جن میں کئی مشہور شخصیات، جیسا کہ اداکارہ فاطمہ متعمد آریا، بھی شامل ہیں۔ عوامی سطح پر قانون کی ایسی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں واقعی کم مثالیں ملتی ہیں۔

کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں نوجوان ایرانی خواتین کو سکیورٹی فورسز کے پاس سے بنا حجاب کے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ایران کی اخلاقی پولیس کے ترجمان علی خان محمدی نے ایک نیوز ویب سائٹ کو 30 اکتوبر کو بتایا کہ ’حجاب اتارنا اب بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

تاہم اس اعلان کے باوجود ایرانی خواتین کو اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے سے نہیں روکا جا سکا۔ ایک 69 سالہ ایرانی خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ احتجاجی مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے وہ گھر سے حجاب پہنے بغیر ہی باہر نکلتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک دن میں گلی میں جا رہی تھی کہ پیچھے سے ایک گاڑی نے ہارن بجایا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو گاڑی میں حجاب کے بغیر ایک نوجوان خاتون تھی۔ اس نے میری جانب ایک علامتی بوسہ اچھالا اور فتح کا نشان بنایا۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ 40 دن کے اندر ملک اتنا بدل گیا جتنا 40 سال میں نہیں بدل سکا۔‘

دیواروں اور گلیوں میں ہونے والی جنگ

ایران
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران میں حالیہ احتجاج اس لیے بھی مختلف ہیں کیوں کہ یہ جنگ دیواروں پر لڑی جا رہی ہے۔

لوگ دیواروں پر پیغامات لکھ رہے ہیں جن کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ شہری انتظامیہ ان پر پینٹ کر دیتی ہے لیکن ان کی کوششیں ناکام ہوتی نظر آ رہی ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر میں ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسی زبان میں جو پہلے نہیں دیکھی گئی، اور ایران کی حکومت پر حملے کیے جاتے ہیں۔

تاہم اس جنگ کی اصل لڑائی گلیوں میں ہو رہی ہے جہاں مظاہرین ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہے جو احتجاج کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ مظاہرین سرکاری بورڈز کو ہٹا دیتے ہیں یا پھر ان پر تصاویر بنا دیتے ہیں یا کچھ لکھ دیتے ہیں۔

ایرانی مصنف الیکس شمس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگوں نے ایسے عارضی آزاد علاقے قائم کر لیے ہیں جہاں لڑکیاں اور خواتین ناچتی ہیں، لوگ ظلم کے خاتمے کے نعرے بلند کرتے ہیں اور اس احتجاجی تحریک کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں کہ اسے کیسے آگے بڑھانا چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے لیے یہ مظاہرے ایک ایسی جگہ ہیں جہاں وہ ایک مختلف قسم کے مستقبل کا تصور کر سکتے ہیں۔

نوجوانوں کی طاقت

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا گروہ طلبا کا ہے اور ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک 47 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہلاک ہونے والے یہ نوجوان ملک میں عدم استحکام کی جانی پہچانی علامت بن چکے ہیں۔ نکا شاکارامی اور سرینہ اسماعیل زادے جیسے نام اب سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ کی صورت میں نظر آتے ہیں اور ان کی تصاویر دیواروں پر بنائی جاتی ہیں۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد پہلی بار باہر نکلی ہے۔

سوشل میڈیا پر طلبا خصوصاً لڑکیوں کی حکومت مخلاف نعرے بازی کرتے، ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر پھاڑتے یا پھر سکول کی کتابوں میں مظاہروں میں ہلاک ہو جانے والوں کی تصاویر لگاتے کی ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایک ایسی ہی ویڈیو میں، جو بہت زیادہ دیکھی گئی، سکول کے بچے سکیورٹی فورس کے ایک رکن کے خلاف نعرے بازی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں جو ایک تقریب سے خطاب کرنے سکول پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

خوف کی جگہ بے خوفی

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

29 اکتوبر کو ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے مظاہرین کو دھمکی دی کہ ’گلیوں میں مت نکلیں، آج فساد کا آخری دن ہو گا۔‘

لیکن اس دن معمول سے زیادہ مظاہروں اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

بی بی سی فارسی نے ایسے کئی لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں جنھوں نے غیر معمولی کریک ڈاون کے باوجود بے خوفی دکھائی۔

ان میں سے ایک خاتون، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے بتایا کہ انھوں نے ایک مظاہرے میں شریک ہونے کے لیے اپنا بچہ اپنی والدہ کے پاس چھوڑ دیا۔

’میں خوفزدہ تھی لیکن مجھے اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے یہ کرنا تھا۔‘

جرمنی میں ایرانی گلوکارہ فراواز فاوردنی کا ماننا ہے کہ ’موجودہ صورت حال سے تنگ ایرانی معاشرے کی وجہ سے مظاہروں کو زندگی ملی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ بہت مہنگا ہو گیا ہے، ظلم بھی بہت ہے۔ مہسا امینی کے ساتھ جو ہوا، اس کے بعد لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ سیاست سے لا تعلق لوگ بھی بغیر کسی بات کے مارے جا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس وجہ سے بہت سے لوگوں امید کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

اتحاد

ان مظاہروں کی ایک خاص چیز یہ بھی ہے کہ ماضی کی حکومت مخالف تحریکوں کے برعکس اس بار ایرانی معاشرے کے مختلف حصے اس میں شریک ہیں۔

سنہ 2009 میں ایرانی صدارتی انتخابات کے بعد مظاہروں میں مڈل کلاس آگے آگے تھی جبکہ 2019 میں تیل مہنگا ہونے پر ہونے والے مظاہروں میں غریب طبقہ نمایاں تھا۔

اس بار کے مظاہروں میں ایران کے مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے گروہ شامل ہیں جس کا اظہار نعروں میں بھی ہوتا ہے۔

مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد، جن کا تعلق کرد برادری سے تھا، کرد زبان میں بلند ہونے والا نعرہ ’عورت، زندگی اور آزادی‘ مقبول ہوا تھا۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اب اس نعرے کا فارسی زبان مین ترجمہ کر لیا گیا ہے جو ایران میں سب سے زیادہ بولے جانی والی زبان ہے۔

الیکس شمس کا کہنا ہے کہ ’حکومت دعوی کرتی ہے کہ مظاہرے معاشرے میں نسلی تقسیم پیدا کریں گے اور خانہ جنگی کو جنم دیں گے لیکن مظاہرین کا اتحاد ختم نہیں ہو سکا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والوں کا اتحاد ہی اس تحریک کی بنیاد ہے جس کی وجہ سے خوف اور شک کی دیواریں ٹوٹ گئی ہیں۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ثابت کرے کہ احتجاج مذہب کے خلاف ہے، لیکن مذہبی لوگ بھی ان میں شریک ہیں اور انھوں نے کسی بھی بنیاد پر تقسیم ہونے سے انکار کر دیا ہے۔‘

اس سے پہلے ایران میں حکومت مخالف تحریکیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن شمس کا ماننا ہے کہ اب وقت مختلف ہے۔ ’گذشتہ چند ہفتوں میں لوگوں کی سوچ میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے کہ کیا ممکن ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی ایک طرح سے ان کی فتح ہے۔‘