ایران: مظاہروں میں شریک شخص کو ’فساد‘ برپا کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی

،تصویر کا ذریعہMOHSEN SHEKARI
- مصنف, ڈیوڈ گرٹن
- عہدہ, بی بی سی، نیوز
ایران میں حکومت کے خلاف حالیہ مظاہروں میں گرفتار کیے جانے والے مظاہرین میں سے پہلے شخص کو موت کی سزا دے دی گئی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق محسن شکاری نامی شخص کو ایک انقلابی عدالت کی جانب سے ’خدا کے ساتھ دشمنی‘ کے جرم کا مرتکب پایا گیا جس کے بعد انھیں جعمرات آٹھ دسمبر کی صبح پھانسی دے دی گئی۔
محسن شکاری پر الزام تھا کہ وہ ’فسادی‘ ہیں جنھوں نے ستمبر میں تہران کی ایک مرکزی سڑک پر رکاوٹ پیدا کی اور نیم فوجی دستوں کے ایک اہلکار کوخنجر مار کے زخمی کیا۔
محسن شکاری کی سزائے موت کے حوالے سے انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کا کہنا تھا کہ محسن کے خلاف عداتی کارروائی محض دکھاوا تھا اور اس میں کوئی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
ناروے میں قائم ’ایران ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم کے ڈائریکٹر، محمود امیری مقدم نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جب تک ایرانی حکام کو ’بین الاقوامی سطح پر فوری نتائج‘ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کو روزانہ کی بنیاد پر پھانسی چڑھانے کا سلسہ شروع ہو جائے گا۔
ایران کی انقلابی عدالتوں کے نمائندہ خبر رساں ادارے ’میزان‘ کے مطابق عدالت کو بتایا گیا تھا کہ محسن شکاری نے 25 ستمبر کو تہران کی ستار خان روڈ کو بند کیا اور خنجر مار کے ہنگاموں پر قابو پانے والی رضاکار فورس کے ایک اہلکار کو زخمی کیا تھا۔
نیوز ایجنسی میزان کے مطابق عدالت نے یکم نومبر کو محسن شکاری کو لڑائی جھگڑے اور ’مارنے کی نیت سے ہتھیار نکالنے، خوف و ہراس پھیلنے اور معاشرے میں نقضِ امن پیدا کرنے‘ اور ’خدا کے ساتھ عداوت‘ کے جرائم کا مرتکب پایا۔
محسن شکاری نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی لیکن 20 نومبر کو سپریم کورٹ نے انقلابی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

،تصویر کا ذریعہIRIB/@HAFEZEH_TARIKHI
حالیہ عرصے میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کے جرم میں عدالتیں اب تک دس افراد کو سزائے موت سنا چکی ہیں اور ان تمام پر ’خدا کے ساتھ عداوت‘ یا ’زمین پر فساد‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان افراد کے نام ابھی تک نہیں بتائے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ ایرن میں موت کی سزائیں دینے کا مقصد ’مقبول عوامی تحریکوں کو مزید دبانا‘ اور ’لوگوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔‘
تنظیم کے مطابق انقلابی عدالتیں ملک کے ’سکیورٹی اور انٹیلیجنس کے اداروں کے تابع کام کرتی ہیں انتہائی غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کے بعد سخت سزائیں سناتی ہیں اور سارا عمل اکثر سرعت میں کیا جاتا ہے اور اسے خفیہ رکھا جاتا ہے۔‘
یاد رہے کہ ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ ستمبر کے وسط میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی اخلاقی پولیس (گشت ارشاد فورس) کی حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
اس واقعے کے ردعمل میں 16 ستمبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا ایک اتنا غیر معمولی سلسلہ شروع ہوا جس کی نظیر کم از کم ملک کی گذشتہ 40 سال کی تاریخ کے دوران نہیں ملتی۔
کئی ایرانیوں کا خیال ہے کہ ان مظاہروں نے معاشرے پر گہرا اثر چھوڑا ہے اور یہ مظاہرے ایران کی حکومت کے لیے سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔









