انڈیا میں دسویں جماعت کے طلبا پر چھوٹے بچوں کے مبینہ ریپ کا الزام: ’ملزمان سیاہ گولیاں کھلاتے جس کے بعد کچھ سمجھ نہیں آتا تھا‘

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کی ریاست مہاراشترا کے ضلع ناسک میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں محکمہ سماجی بہبود کے زیر انتظام چلنے والے ایک ہاسٹل میں دسویں جماعت کے کچھ طالب علموں نے ہاسٹل میں ہی رہائش پذیر دیگر چھوٹے بچوں کو مبینہ طور پر نیند کی گولیاں کھلا کر ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔

اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین کی شکایت کی بنیاد پر ملزم بچوں کے خلاف جنسی جرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ناسک کے سرکاری ہاسٹل میں رہنے والے دسویں جماعت کے سات طالب علموں نے ہاسٹل کے پانچویں سے آٹھویں جماعت کے لڑکوں کو مبینہ طور پر نشہ آور اشیا دے کر ہاسٹل کے احاطے میں متعدد بار ان کا ریپ کیا۔

چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ گذشتہ سات ماہ سے جاری تھا۔

متاثرہ بچوں کی جانب سے پولیس کو بتایا گیا ہے کہ ملزمان انھیں ’سیاہ رنگ کی گولیاں‘ کھلاتے تھے۔ بچوں کے مطابق یہ گولیاں کھانے کے بعد انھیں چکر آنے لگتے تھے اور اس کے بعد کوئی اگر ان کے ساتھ ’مار پیٹ بھی کرتا تو بھی انھیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔‘

جن بچوں کو گولیاں کھلائی جاتی تھیں، شام کے بعد ملزم لڑکے انھیں مبینہ طور پر کبھی ہاسٹل کے باہر جھاڑیوں میں لے جاتے اور کبھی ہاسٹل کے اندر ہی ان پر جنسی تشدد کرتے۔

متاثرہ بچوں کے مطابق انھیں دھمکیاں دی جاتی تھیں کہ اگر انھوں نے باہر جا کر کسی کو کچھ بتایا تو انھیں جان سے مار دیا جائے گا، ڈر کے مارے بچوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔

ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف بھی مقدمہ درج

اس معاملے میں ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یا محکمہ سماجی بہبود کو واقعے کی اطلاع نہ دینے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے پر ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور ادارے کے چار ڈائریکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ناسک ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو افسر کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور محکمہ سماجی بہبود کی مدد سے ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی۔

انڈیا میں پنچایت راج سسٹم کے تحت ضلع پریشد ضلع کا سب سے سینیئر افسر ہوتا ہے۔

ناسک ضلع پریشد میں ضلع کے سماجی بہبود کے انچارج سنجے شندے نے چار مارچ کو مذکورہ ہاسٹل کا دورہ کیا اور طلبا، والدین اور انتظامیہ سے بات چیت کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے زیادہ تر طالب علم پہلے بات کرنے سے ڈرتے تھے، تاہم طلبا کو اعتماد میں لینے کے بعد بچوں نے بات کی اور بتایا کہ کیا ہوا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبا نے جنسی زیادتی کی شکایات کی ہیں۔

طلبا کے والدین نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سنجے شندے نے بتایا کہ اس واقعے کے متعلق انھوں نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ انتظامیہ کو جمع کروا دی ہے۔

پانچ مارچ کو ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی جبکہ ہاسٹل میں موجود دیگر بچوں کو قریبی ایک ہاسٹل میں داخل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی اس ہاسٹل کو ناقص صفائی اور بے قاعدگیوں پر نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

پولیس نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے؟

ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سارا معاملہ چھ سے سات ماہ سے چل رہا تھا۔

ان کا کہنا ہے ’میں نے 26 جنوری کو جوائن کیا تھا۔ طلبا نے مجھ سے پیٹ درد کی شکایت کی۔ جب میں نے استفسار کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے بعد میں نے ادارے کو اطلاع دی تاہم انسٹیٹیوٹ کے صدر اور نگراں نے مجھے اس معاملے پر خاموش رہنے کو کہا۔‘

’انھوں نے کہا کہ مجھے دھمکی نہ دیں اور پولیس کے پاس چلے جائیں۔ میں نے خبردار بھی کیا کہ اس سے پریشانی ہوگی۔ میں نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے بچوں کے والدین کو اس واقعے کے بارے میں بتایا اور انھیں پولیس میں شکایت درج کروانے کا مشورہ دیا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ انھیں کہا گیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے کیوںکہ ان پر اعلیٰ افسران کا دباؤ ہے ’اور اب مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے۔‘

متاثرہ بچوں کے والدین کا کیا کہنا ہے؟

یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ بچوں نے بالآخر اپنے والدین کو اس بارے میں بتایا۔

متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ جب ہم بچوں کو ہولی کے لیے گھر لے کر آئے تو انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ یہ سب کچھ دیوالی کے بعد سے ہو رہا ہے۔

’ہم نے ادارے سے شکایت کی لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ ہمیں کہا گیا کہ ہم ہر چیز سنبھال لیں گے۔‘

والدین کا مزید کہنا تھا کہ 'بعد میں ادارے کے صدر نے کہا کہ ہم چھوٹے بچوں کے ساتھ یہ ظلم کرنے والے طلبا کے والدین کو بلا کر مناسب کارروائی کریں گے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں یہ کہہ کر اس میٹنگ میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا کہ والدین کے درمیان جھگڑے ہو سکتے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ انھیں اب اپنے بچوں کی تعلیم اور تحفظ کی فکر ہے۔

’اگر کل وہ ہمارے بچوں کے ساتھ کچھ کر دیں تو کیا ہوگا؟‘ والدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان بچوں کی ذمہ داری لے اور انھیں انصاف فراہم کرے۔

ملزمان گولیاں کہاں سے حاصل کرتے تھے؟

پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزمان بچوں کو کھلانے کے لیے نشہ آور گولیاں کہاں سے حاصل کرتے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ عین ممکن ہے کہ یہ گولیاں شہر کے ہی کچھ دکانوں سےحاصل کی گئی ہوں۔

پولیس ملزمان بچوں کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کر رہی جبکہ چھ مارچ کو ادارے کے مزید چار عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ملزمان بچوں کو عدالت کے سامنے پیشی کے بعد منماڈ اور ناسک کے جوینائل ہومز(بچوں کی جیل) منتقل کر دیا گیا ہے۔